money is not in books, skills and job roles. it is in people's pockets. Learn selling. sell your knowlegdge, skill and whatever you can.
Tuesday, March 18, 2025
Thursday, December 12, 2024
حق سبھی چھوڑ دیےفرض نبھائیں گے مگر
حق سبھی چھوڑ دیےفرض نبھائیں گے مگر
کوی امید محبت سے نہ رکھیں گے اب
==========================================================
حق سبھی چھوڑ دیےفرض نبھائیں گے ہم
کوی امید وفا سے نہ لگائیں گے ہم
جسم بس جسم ہیں روحوں کا ملن کچھ بھی نہیں
ہارمونوں کا ہے چکر یہ لگن کچھ بھی نہیں
ہارمونوں کے بھلیکھے میں نہ آئیں گے ہم
کوی امید وفا سے نہ لگائیں گے ہم
انس ہو جاتا ہے کتے سے بھی گر پاس رہے
لعنت اس شخص پہ جو روحوں کی بکواس کرے
ایسی بکواس سنیں گے نہ سنائیں گے ہم
کوی امید وفا سے نہ لگائیں گے ہم
Tuesday, December 10, 2024
Wednesday, October 23, 2024
Monday, October 7, 2024
سبھی ماوں نے مرنا ہے ہر اک بیٹی نے جانا ہے
یہ سارے فیصلے ہونے ہیں، ہو جانے ہیں بلآخر
سبھی ماوں نے مرنا ہے ہر اک بیٹی نے جانا ہے
Saturday, September 14, 2024
Sunday, September 1, 2024
گنتی کریے تے سال تیرے ذیادہ نیں
گنتی کریے تے سال تیرے ذیادہ نیں
پر داڑھی دے وچ چٹے وال میرے زیادہ نیں
کئی وقت دی انگلی پھڑ کے تردے نیں
تے کئی وقت نوں موڈھے چکی پھردے نیں
تمہارا نام سب سے پہلے آتا ہے
مجھے جو خوبصورت لگتے ہیں ان میں
تمہارا نام سب سے پہلے آتا ہے
نہ گورا اور نہ کالا اور نہ بادامی
جوتیرا رنگ بس ویسا ہی بھاتا ہے
جو تیرا قد بس اتنا قد مناسب ہے
ذرا سا کم ذیادہ عیبت لگتا ہے
جو تو پہنے تو کھدر بھی ہے ریشم سا
نہ پہنے تو تو ریشم خاک جیسا ہے
مجھے جو خوبصورت لگتے ہیں ان میں
تمہارا نام سب سے پہلے آتا ہے
التجا
میں چاہتا تھا اسے تو، وہ دیکھتا بھی ن تھا
کنارہ کش ہوا جب سے دوانہ ہو گیا ہے
طواف کرتے تھے ان کا وہ دیکھتے بھی نہ تھا
گریز کرنے لگے تو وہ پاس آنے لگے
یہاں پہ کچھ بھی نہیں التجا سے ملتا ہے
بس اتنی بات سمجھنے کو ہی زمانے لگے
حد
خوشیاں جتنی بھی ہوں خوش رہنے کی حد ہے پیارے
جتنا دامن ہو بس اتنی ہی سما سکتی ہیں
درد اتنا ہی سما سکتاہے
جس قدر دل میں جگہ ہوتی ہے
زخم کم ہو کہ زیادہ فرق نہیں
دوستی کی بھی عمر ہوتی ہے
دشمنی کی بھی عمر ہوتی ہے
جسم ہوتے ہیں جس طرح بوڑھے
عاشقی کی بھی عمر ہوتی ہے
آنکھ بھر کر جسے دیکھے اسے دیوانہ کرے
عشق میں ایسی سہولت نہیں ملتی سب کو
درد ہوتا ہے تو رو لیتے ہو عیاش ہو تم
ورنہ رونے کی بھی فرصت نہیں ملتی سب کو
haram poetry for naveil sister
partner tera intizar hua
tere janay k baad tera ihsas hua
teri yaad mein pata nahin kia kia hua
turi muskarahat se mujhay pyar hua
باغ
باغ جو کل تھا وہی آج ہے لیکن اس میں
ایک بھی پھول نہیں کل کے کھلے پھولوں سے
یونہی چپ چاپ کسی روز نہیں ہوں گے ہم
Friday, February 9, 2024
Peace
If you want peace with others, don't be judgmental on others, if you want peace within your self don't be judgemental on you.
Wednesday, January 17, 2024
چاند پر داغ نہیں دھول ہے مانا جائے
چاند پر داغ نہیں دھول ہے مانا جائے
گیلے رومال سے رخسار کو پونچھا جائے
پیٹ کی بھوک مٹی ہے تو خیال آیا ہے
خٔوشنما سے کسی چہرے کو سراہا جائے
ذہن خالی ہو تو شیطان کا گھر ہوتا ہے
اس محل میں کسی مہ رو کو اتارا جائے
میں پجاری ہوں عبادت مری فطرت ہی سہی
وہ خدا ہے وہ بھی چاہے اسے پوجا جائے
ہم کو عادت ہے محبت میں پڑے رہنے کی
ہم کو ہر طور کیسی عشق میں رکھا جائے
انہونی
اج اک انہونی ہوئی
سویرے سویرے
پوہ دے کورے چ ٹھردا ہویا
رب ملیا!
کسے امیردے گھر دیاں پوڑیاں اتے
پوچہ لا ریہا سی
Friday, December 15, 2023
حسن جادو ہے کسی وقت بھی چل سکتا ہے
دیکھنا چاہیں تو کیسے اسے دیکھا جائے
روبرو آنکھ کے سورج کو جو رکھا جائے
روبرو آنکھ کے سورج اگر رکھا جائے
پہلی تکنی میں اگر ہوش سلامت رہے تو
ایسے منظر کو کبھی حسن نہ سمجھا جائے
حسن جادو ہے کسی وقت بھی چل سکتا ہے
عشق دیوانہ ہے زنجیر سے باندھا جائے
رستہ دیتے ہیں سبھی بہتے ہوئے پانی کو
صرف سیلاب پہ الزام نہ تھوپا جائے
خود فراموش! کبھی آئینہ دیکھا تو نے؟
خود کوگر دیکھ لے گلیوں میں نہ روندھا جائے
دولت و شہرت و دانائی ہیں نچلے درجے
پہلے درجے پہ فقط حسن ہی رکھا جائے
Thursday, October 5, 2023
اپنے آپ نوں جپھی پائیے
سکھ دی شکر ودھ ودھ ونڈیو جگ سارا سنگ چلے
درد دی گٹھری مول نہ کھولیو رہ جاوو کے کلے
بھریا بھانڈا ہر کوئی بھردا خالی بھرے نہ کو ہو--
ہسدیاں دے نال سارے ہسدے رون سہوے نہ کو ہو ---
نیویاں دے نال نیویں کھڑدے اچیاں دے سنگ اچے
سُچیاں دے سنگ سچے چلدے، لُچیاں دے سنگ لچے
ساتھ کسے دا تاں منیے جے ہووے ساتھ کساواں
ایتھے اوہی نال ہے اوہدے جیہڑا جیہدے ساواں
کلیاں آونا کلیاں جانا کلیاں روگ ہنڈونا
آپے اپنی قبرے پینا نال کسے نہ ہونا
آس امید نہ رکھیے جگ توں اپنے آپ چ آئیے
اپنے آپ نوں جپھی پائیے اپنے ہی ہو جائیے
یہ جو خوشیاں ہیں آنی جانی ہیں
پر اداسی ہے میزباں جیسی
یہ جو حالات ہیں بہانہ ہیں
زندگی عادتا خزاں جیسی
سوچیں تو یہ بھی کتنی غنیمت کی بات ہے
زندہ ہے اور رہتا ہے اپنے ہی شہر میں
سوچیں تو یہ بھی کتنی غنیمت کی بات ہے
Wednesday, May 24, 2023
Monday, July 18, 2022
کہ بیٹیوں کے مقدر نہیں بدلتےہیں
یہ شادیاں بھی ہیں تقریب حلف برداری
صلح صفائی سے مسند نشیں بدلتے ہیں
پرانی تختی ہٹائی، نئی لگا دی گئی
کسی مکان کے جیسے مکیں بدلتے ہیں
پرانے کھونٹے سے کھولیں، نئے سے باندھنے کو
کہ بیٹیوں کے مقدر نہیں بدلتےہیں
