Monday, January 9, 2012

جیتے ہیں کہ جینے کی یہ عادت ہے پرانی

 



دل کا کبھی جھگڑا ہے کبھی فکر ہے جاں کی
یہ عالمِ امکان یہ دنیا ہے گماں کی

بیٹھے ہیں بڑی دیر سے چپ چاپ سرِرہ
وہ پوچھنے آیا ہے نہ ہم نے ہی بیاں کی

پہلے سے مراسم ہیں نہ پہلی سی محبت
بے خوف وہ جذبے نہ وہ شوخی ہے بتاں کی

جیتے ہیں کہ جینے کی یہ عادت ہے پرانی
سانسوں کا تسلسل ہے کہ گردش ہے زماں کی

خواہش پہ محبت کا کفن باندھ رہے ہو
یہ نفس کا دھوکا یہ کثافت ہے زباں کی

ہر چیز کی ہوتی ہے کوئی عمر مری جاں
اب اپنی محبت بھی ہوئی فصل خزاں کی

خاموش و حسیں صورتِ تصویر ہو بیٹھی
کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی؟

Sunday, January 8, 2012

وہ جو آجائے تو ہر درد بہل جاتا ہے

زندگی لاکھ مصیبت سہی غمناک سہی
وہ جو آجائے تو ہر درد بہل جاتا ہے

اس کے لہجے میں ہے تاثیر شفا کی لوگو
کوئی بیمار ہو لمحوں میں سنبھل جاتا ہے

دل وہ وحشی کہ مچا رکھتا ہے اودھم ہر دم
اس کے جلووں کی رعونت سے دہل جاتا ہے

اپنا معیار بھی پہلے سا نہیں ہے اور اب
وہ بھی کمزور ہے جلدی ہی پھسل جاتا ہے

لفظ "چاہت" پہ کبھی بھی نہ بھروسہ کیجیے
لوگ ہوتے ہیں وہی لفظ بدل جاتا ہے

دل مرا سوز سے ایسا ہے جلا کہ اب تو
موم سانسوں کی تپش سے ہی پگحل جاتا ہے

جہاں تلک تھا تیقّن وہیں تلک تھا سفر

زمیں مری نہ ہی سورج کا یہ نظام مرا
میں اس جہاں کا نہیں - کیا یہاں پہ کام مرا؟

میں چلتے چلتے یہ کس مے کدے میں آ نکلا
یہ تشنگی ہے مری اور نہ ہی یہ جام مرا

فلک کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں
جہاں زمین ملے گی وہیں قیام مرا

میں چل رہا ہوں مسلسل جہاں کی بھیڑ کے ساتھ
مسافتیں یہ مری اور نہ یہ قیام مرا

جب اپنے لوگ ہی غیروں سے بڑھ کے اجنبی ہوں
تو جان و دل کا اثاثہ ہو کس کے نام مرا

جہاں تلک تھا تیقّن وہیں تلک تھا سفر
گماں کی حد میں لرزنے لگا خرام مرا

Saturday, January 7, 2012

عمر خوشیوں کی ہمیشہ تھوڑی

زندگی ایک تماشا ہی سہی
پیار جینے کا بہانہ ہی سہی

پاس آئے تھے ہم نصیبوں سے
اب بچھڑ جانا نصیبہ ہی سہی

زندگی دھوپ کا رستہ ہے اگر
در ترا پیڑ کا سایہ ہی سہی

عمر خوشیوں کی ہمیشہ تھوڑی
وصل کچھ روز کا دھوکا ہی سہی

جو بھی ہو سر سے گزر جائے گا
دکھ کے سیلاب کا ریلا ہی سہی

Friday, January 6, 2012

یہ ابتدا کا سِحر ہے بہت ہی عارضی ہے

یہ ابتدا کا سِحر ہے بہت ہی عارضی ہے
کہ انتہائے مراسم میں دکھ ہی دائمی ہے

نہ جانے کون سی ساعت میں عشق کر بیٹھے
تمام عمر کی جاگیر جس پہ ہارد ی ہے

Sunday, January 1, 2012

for Beloved Gullooo... (Gulzar)

 "for gulzar while travelling in Dina"

جس شہر میں بسے ہیں ترے خواب آج تک
اس شہر میں تجھے کوئی پہچانتا نہیں

نامِ الفت میں بھی پہلی سی کشش باقی نہیں

درد بڑھ جائے تو اس کو بھی مداوا سمجھیں
اب یہ حالت ہے کہ صحرا کو بھی دریا سمجھیں

لے کے سینے میں خلا پھرتے ہیں گلیوں گلیوں
جو بھی مل جائے اسے اپنا مسیحا سمجھیں

جیے جاتے ہیں مگر لطف نہیں جینے میں
زندگی ہم تو تجھے فرضِ کفایہ سمجھیں

ایسے لگتا ہے کوئی اینٹ جڑی سینے میں
دل کی دھڑکن کے معانی کو بھلا کیا سمجھیں

وہ جو اک شخص مہکتا تھا گلابوں کی طرح
اب اسی شخص کو ہر دکھ کو اثاثہ سمجھیں

نامِ الفت میں بھی پہلی سی کشش باقی نہیں
اب تو محبوب کو بس سوچ کا دھوکا سمجھیں

Wednesday, December 28, 2011

دونوں ملتے ہیں تھوڑی دیر کو بس!!!‬

حسن کچے گھڑے کی مانند ہے‬
‫عشق موجِ چناب کی صورت‬
‫حسن کی زندگی ہے دو پل کی‬
‫عشق رکتا نہیں گزر جائے‬
‫دونوں ملتے ہیں تھوڑی دیر کو بس!!!‬

Tuesday, December 27, 2011

زندگی میری مگر اس کو گزارے گا کوئی

سابس آٹکی ہے تہہِ دستِ حنائی یارو
وصل کی قید سے بہتر تھی جدائی یارو

زندگی میری مگر اس کو گزارے گا کوئی
مجھ پہ الفت نے یہ تعزیر لگائی یارو

ایک ہی خواب کی تعبیر ملی تھی مجھ کو
اور  پھر زندگی بھر نیند نہ آئی یارو

نظق پایا ہے مگر نظق شناسا نہ ملا
بات جو لب پہ رکی خود کو سنائی یارو

محرمِ دل کی تمنا میں بھٹکتا ہی پھروں
دل میں غم ہاتھ میں کاسہ گدائی یارو

Wednesday, December 21, 2011

کوتوالوں کی طرح کھینچ کے لایا ہوں اسے

شہر کا شہر ہی بن بیٹھا تھا قاتل جاناں
ہم کو کرنا ہی پڑا تجھ سے تغافل جاناں

کوتوالوں کی طرح کھینچ کے لایا ہوں اسے
در ترا چھوڑ کے آتا ہی نہ تھا دل جاناں

نائو چاہت کی بھلا پار لگاتے کیسے
ہر بھنور ہم کو لگا دور سے ساحل جاناں

باریاں باندھ کے بیٹھے ہیں سبھی جانے کو
فرق اتنا ہے کوئی آج کوئی کل جاناں

جب تلک سانس تھی خوابوں کے تعاقب مییں رہے
خواب ہی خواب ہیں مری عمر کا حاصل جاناں

تم کو چھو لوں تو یقیں  آئے کہ زندہ ہوں میں
تم کو پا لوں تو میں ہو جائوں مکمل جاناں

کپکپاتا ہوا ہنستا چہرہ

روٹھ کر اور سنور جائے گا
رنگ گالوں پہ بکھر جائے گا
کپکپاتا ہوا ہنستا چہرہ
سیدھا سینے میں اتر جائے گا

Tuesday, December 20, 2011

لاج کا خوف بھی پروائی بھی

دل یہی سوچ کے گھر جائے نہ
خواب آنکھوں سے مکر جائے نہ
روٹھ کر اور سنور جائے نہ
سرخی گالوں پہ بکھر جائے نہ
آنکھوں آنکھوں میں محبّت ابھری
آنکھوں آنکھوں میں اتر جائے نہ
دل پہ ہر سمت ہزاروں پہرے
عشق گھٹ گھٹ کے ہی مر جائے نہ
لاج کا خوف بھی پروائی بھی
پھول چاہت کا بکھر جائے نہ
کپکپاتا ہوا ہنستا چہرہ
کیسے سینے میں اتر جائے نہ?

اس سے کہنا کہ خفا نہ ہونا

اس سے کہنا کہ خفا نہ ہونا
روپ کچھ اور نکھر جائے گا

Sunday, December 18, 2011

کاغزی پھول سے خوشبو کی تمنا ہے عبث

کاغزی پھول سے خوشبو کا گلہ کرتے ہو
تم بھی نادان ہو اے دوست یہ کیا کرتے ہو
روز شکوے بھی کرے کوئی تو کس سے آخر
تم صحیح کرتے ہو قسمت کو برا کرتے ہو

دفن کر دوں کہ جلا دوں کہ سنبھالے رکھوں

دفن کر دوں کہ جلا دوں کہ سنبھالے رکھوں
میری آنکھوں میں ہیں کچھ خواب جو دم توڑ گئے

Saturday, December 17, 2011

ہم ہی لوٹ آئیں گے دیوار سے ٹکرا کر سر

ہم ہی لوٹ آئیں گے دیوار سے ٹکرا کر سر
اے ستم گر ترا دروازہ نہ کھل پائے گا
وہ اگر مجھ سے خفا ہے تو مجھے چھوڑ بھی دے
گر ملاقات نہ ہو خواب میں آجائے ہے

ہمارے پاس تھے کچھ خواب ہم وہ بیچ آئے

پرانے مال کو نیلام کر رہے تھے لوگ
ہمارے پاس تھے کچھ خواب ہم وہ بیچ آئے

Tuesday, December 13, 2011

ماں

میں جھولی بھر کے خوشیاں
گھر میں آیا ہوں
مگر میں کیا کروں گھر میں میری ماں ہی نہیں

مرے ہی جیسے زمیں زاد "چاند" سمجھیں مجھے

اندھیری رات میں تنہا بھٹکتا پھرتا ہوں
مرے ہی جیسے زمیں زاد "چاند" سمجھیں مجھے

میں شرمسارِ قلم ہوں

تھا جال ریشمی دھاگوں کا جو وہ بنتا گیا
میں خوشنمائی کے دھوکے میں قید ہوتا گیا

بس ایک شخص کو قدرت تھی سارے لمحوں پر
کبھی ہنساتا رہا اور کبھی رلاتا گیا

تھا راستوں کا چنائو کہ کھیل قسمت کا
میں جس طرف بھی چلا تجھ سے دور ہٹتا گیا

یہ بات سچ ہے کہ دل کو سکون غم نے دیا
مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ غم ہی ملتا گیا

تمام عمر میں خواہش کو زیر کرتا رہا
حقیقتا اسی کوشش میں شوق بڑھتا گیا

میں شرمسارِ قلم ہوں کہ جب بھی لکھنے لگا
اذیّتِ غمِ جاں کا بین کرتا گیا

Sunday, December 11, 2011

کھارے پانی کے سمندر میں جزیرہ تھا مرا

بھول جانا ہی تھا اک روز حقیقت تھی یہی
زندہ رہنا تھا کسی طور کہ قسمت تھی یہی

ہم زمانے سے بھلا کیسے بغاوت کرتے
عشق ہی چھوڑ دیا اپنی بغاوت تھی یہی

جس کو بھی چاہا فقط خواب کی حد میں چاہا
آنکھ کھلتے ہی مکر جانا محبت تھی یہی

کھارے پانی کے سمندر میں جزیرہ تھا مرا
یعنی محفل میں بھی تنہائی مصیبت تھی یہی

جب یہ محسوس ہوا ہم سے وہ اکتانے لگا
ہم بھی چپ چاپ پلٹ آئے ضرورت تھی یہی

وہ تو مضراب تھا مطرب کی توجہ نہ ملی
مر گیا وہ بھی سبھی ساز بھی قدرت تھی یہی

یہ اور بات کہ تم سے نظر چرا لی ہے

یہ اور بات کہ تم سے نظر چرا لی ہے
مگر دھیان میں محفل تری سجالی ہے
میں اپنے خواب میں خوش ہوں مجھے سماج سے کیا
کہ میں نے خواب میں صحبت تری بسالی ہے

Thursday, December 8, 2011

اندھیرا بڑھ گیا جب سے دیا جلایا ہے

خدا کا شکر ہے دل کو یقین آیا ہے
وہ اب ہمارا نہیں ہے وہ اب پرایا ہے

جسے شریکِ سفر میرا کہہ رہے ہیں لوگ
وہ کوئی شخص نہیں ہے بس ایک سایہ ہے

جبین خاک پہ رکھ دی اجاڑلی دنیا
بتانِ شہر پہ جس نے بھی سر جھکایا ہے

تمہار ساتھ مجھے اور کر گیا تنہا
اندھیرا بڑھ گیا جب سے دیا جلایا ہے

اداسی آنکھ میں پھیلی خلا ہے سینے میں
لو ہم نے راہ وفا سے یہی کمایا ہے

ہے المیہ کہ ہمیں کوئی بھی سمجھ نہ سکا
سو جو بھی خواب تراشا وہی چھپایا ہے

یوں بے دلی سے لکھا تھا وفا کا آخری خط

یوں بے دلی سے لکھا تھا وفا کا آخری خط
کہ جیسے کڑوی دوا تھا وفا کا آخری خط