Sunday, February 5, 2012
Friday, February 3, 2012
Thursday, February 2, 2012
ایک تو درد کو یوں عام کیے جاتے ہو
ایک تو درد کو یوں عام کیے جاتے ہو
اور ستم یہ ہے کہ شہرت کے طلبگار بھی ہو
فن کی شنوائی فقط درد کے دربار میں ہے
کیسے ممکن ہے تماشائی پرستار بھِی ہو
اور ستم یہ ہے کہ شہرت کے طلبگار بھی ہو
فن کی شنوائی فقط درد کے دربار میں ہے
کیسے ممکن ہے تماشائی پرستار بھِی ہو
Wednesday, February 1, 2012
وہ الوداع مجھے کہنے کو آ گیا ریحان
وہ الوداع مجھے کہنے کو آ گیا ریحان
جو میری ذات کے اندر ہے اپنے آپ سے زیادہ
جو میری ذات کے اندر ہے اپنے آپ سے زیادہ
Subscribe to:
Posts (Atom)