Thursday, May 29, 2014

دولتِ درد میں تخفیف نہیں ہو سکتی

اک تسلی ہے مرے دل کو ترے ہوتے ہوئے
دولتِ درد میں تخفیف نہیں ہو سکتی

غم بھی کھاتاہوں  اذیت کا بھی رسیا ہوں بہت
یعنی تکلیف کی تکلیف نہیں ہو سکتی

عہد نامہِ محبت ہے ازل سے محفوظ 
دل کے الہام میں تحریف نہیں ہو سکتی


Wednesday, May 28, 2014

خواہش کا بوجھ ڈھوتے ہوئے گر گئے اگر

خواہش کا بوجھ ڈھوتے ہوئے گر گئے اگر
 پستی کی سب سے آخری حد تک گرو  گے پھر

Tuesday, May 27, 2014

لمحے لمحے کا رس نکالا جائے

عمر جتنی بھی ہو بہت ہے اگر
لمحے لمحے کا رس نکالا جائے

Monday, May 26, 2014

جیسے کوئی کتاب کو کھولے

جی میں آتا ہے ایسے کھولوں تجھے
جیسے کوئی کتاب کو کھولے
رکھ کے زانو پہ اور ذرا جھک کر
حرف در حرف پوروں میں گھولے

Saturday, May 24, 2014

خوبصورت ہے آدمی کتنا


خوبصورت ہے آدمی کتنا

اس کو صرف آدمی اگر سمجھو!!
جھوٹے ملبوس فرقوں ذاتوں کے
جھوٹ سارے اتار کر دیکھو!!!

Thursday, May 22, 2014

جیو کے لیے



اکیسویں صدی میں بھی سلطاں وہی رہے
غدّار کہہ کے مار دو جو ناپسند ہو

یہ اور بات کہ تم کو نظر نہیں آئے

یہ اور بات کہ تم کو نظر نہیں آئے
!!!نیاز لے کے کھڑے راستے میں ہم بھی تھے

ہمارے فاصلے دیکھے تو کون مانے گا
کہ ایک ہاتھ کی دوری پہ گاڑی چھوٹی تھی


پھر اس کے بعد کبھی زندگی نہ مل پائی

پھر اس کے بعد کبھی زندگی نہ مل پائی
کہ وصل دائمی ٹھہرا، جدائی ختم ہوئی

ہزار کوششیں کر  کے جلا ہے پروانہ
قبول کر لی محبت جدائی ختم ہوئی 

Tuesday, May 20, 2014

لوگ ہاتھوں میں لے کے پھرتے ہیں

ایک لمحے کی بات ہے پیارے
سانس آتا تھا اب نہیں آتا

لوگ ہاتھوں میں لے کے پھرتے ہیں
اپنے اپنے عقیدوں کے پتھر

Saturday, May 17, 2014

بوڑھا فقیر کھانے میں منہ دے کے مر گیا

عمروں کی بھوک لمحوں میں مٹنا محال تھی
بوڑھا فقیر کھانے میں منہ دے کے مر گیا

اکیسویں صدی میں بھی سلطاں وہی رہا
!!!!غدار کہہ کے مار دو جو بد زبان ہو

Thursday, May 15, 2014

نفرت کا بیج ڈالیے اور بیٹھ جائیے

یہ فصل پھلتی پھولتی رہتی ہے خود بخود
نفرت کا بیج ڈالیے اور بیٹھ جائیے

ہندو کو مسلمان سے کر دجیے الگ
دو قومیت کے نعرے کا تڑکا لگائیے

ہندوکو ذات پات بہت راس آئے گی
مسلم کو سنی شیعہ کے خانوں میں لائیے

مذہب کے بعد اور بھی نکتے ہیں پھوٹ کے
قومی زبان رنگ و نسب آزمائیے

موقع شناسی فرقہ پرستی کے سوچ سے
لوگوں کو کاٹ ڈالیے جنت میں جائیے

Wednesday, May 14, 2014

اہلِ خدا کے نام

اک بار اس سے پوچھ لو وہ کس کے ساتھ ہے
ہے جنگ جس کے نام پہ وہ تو سبھی کا ہے

انسانیت کے مان کی توہین تھی کہ جب
انسانیت کے ماتھے پہ مذہب چھدا گیا
فرقہ پرست چند فقیہائے دین کو
لوگوں کو بانٹنے کا فریضہ دیا گیا


Monday, May 12, 2014

انسانیت کا رشتہ ہی کافی تھا جڑنے کو

کوئی بجا دے ڈھول ہمیں رقص کرنا ہے
ہم بے وقوف قوم ہیں مجموعی طور پر

مقبول چاہے جتنے تھے وہ رہنما نہ تھے
نفرت کا درس دے کے جو تقسیم کر گئے
انسانیت سے بڑھ کے نہیں دیں دھرم کوئی
!!تم کیسے دیندار تھے؟؟ انساں سے ڈر گئے
جوہر برادران نے ہجرت کرائی تھی
گم راہ لوگ رستے میں بے موت مر گئے
اور پھر جناح آگئے دو قومیت لیے
لاکھوں نہتے جان کو نذرانہ کر گئے
دو قومیتت  نے ڈالا تھا  تقسیم کا رواج
بنگالی روٹھ کر اسے سہ قومی کر گئے
ہم فصل کاٹنے کو ہی پیدا ہوئے تھے کیا
نفرت کا بیج ڈال کے اجداد مر گئے

دو  قومیت کے جھگڑے نے الجھا دیا ہمیں
انسانیت کا رشتہ ہی کافی تھا جڑنے کو

Saturday, May 10, 2014

یعنی

درد اور ہجر اور اکیلا پن
یعنی تم جی رہے ہو تفصیلا
راحت اور وصل اور بھری محفل
یعنی وہ جی رہے ہیں بس رسما

Friday, May 9, 2014

نیا زمانہ ہے گوگل پہ سرچ کرتے ہیں

وہ دور اور تھا جس میں بزرگ رہبر تھے
نیا زمانہ ہے گوگل پہ سرچ کرتے ہیں

میرے ہی بچے مجھے اجنبی سے لگتے ہیں

Sunday, May 4, 2014

کچھ راستے منزل پہ کبھی لا نہیں سکتے

کچھ آہیں جلاتی ہیں فقط اپنا ہی سینہ
کچھ آنسو فقط نل کی طرح بہتے ہیں بے جا
کچھ راستے منزل پہ کبھی لا نہیں سکتے
کچھ کوششیں کرتی ہیں فقط وقت ہی ضائع

منٹو تجھے سلام

سرسٹھ برس کے بعد بھی منٹو نہ مر سکا
سرحد پہ آج بھی ہے کھڑا ٹوبہ ٹیک سنگھ

بلوائی اور فسادی طبعی موت مر گئے
انسانیت کا مان رہا ٹوبہ ٹیک سنگھ

زن مرید


کہانی
ایک عورت کے ہاتھ پر اس نے
بیعت کی تھی بڑی عقیدت سے
عمر بھر پھر ذلیل ہوتا رہا
سبق
پیار میں پیروی نہیں کرتے
پیار میں صرف پیار کرتے ہیں
پیار آزادی ہے غلامی نہیں

بچھڑنے والوں کے سارے نشان مٹ جائیں

بس اک شبیہہ سی رہ جاتی ہے کہیں دل پر
بچھڑنے والوں کے سارے نشان مٹ جائیں
ازل سے آج تلک اتنے لوگ دفن ہوئے
کہ خاک چانیں تو ہرذرے میں نفس پائیں

Saturday, April 26, 2014

ہم بھی رہتے تھے کبھی روح کی سرشاری میں

وقت کی پہرے دار سوئی سے
بچ بچا کر نکلنا پڑتا ہے

کتنا مشکل ہے خود سے ملنا بھی


میرے چاروں طرف ہے وقت کھڑا
تجھ تک آنے کا کوئی رستہ نہیں

ہم بھی رہتے تھے کبھی روح کی سرشاری میں
روزی روٹی نے فقط جسم کا کر کے چھوڑا

اصل میں دونوں ہیں خواہش کے گھر کے پالے ہوئے

ہوس کا نام ہے بدنام عشق مومن ہے
اصل میں دونوں ہیں خواہش کے گھر کے پالے ہوئے

ہیں دونوں اصل میں  خواہش کے گھر کے پالے ہوئے

اصل میں ص ساکن ہے

Thursday, April 24, 2014

اب تک نبھا رہا میں رشتہ وہ جھوٹ کا

اک بار خوہشات سے مغلوب نفس نے
چوما تھا اس کو عشق و محبت کے نام پر
اب تک نبھا رہا میں رشتہ وہ جھوٹ کا

Tuesday, April 22, 2014

تم کو اس کی سزا ملے گی ضرور

تم کو اس کی سزا ملے گی ضرور
تم بہت مختلف ہو دنیا سے

Monday, April 21, 2014

دل نہ مانے تو واہگہ چلیے

ایک سی "تانگ" دونوں کے دل میں
ہم اُدھر کے ہیں وہ اِدھر کے ہیں
اس طرح دیکھیں لوگ بارڈر کو
جیسے پنچھی قفس کی دیواریں
حسرت و اشتیاق سے دیکھیں
دل نہ مانے تو واہگہ چلیے

Sunday, April 20, 2014

مہتاب چودھواں ہو کہ شبّاب سولہواں

دل سے اتر نہیں رہا چہرہ وہ پھول سا
پڑنے دے دھوپ عمر کی پھر دیکھنا اسے

مہتاب چودھواں ہو کہ شبّاب سولہواں
بے درد وقت سب کو ہی ماضی میں پھینک دے

غریب باپ ہر آہٹ پہ چونک جاتا ہے

ہوس کے مارے ہوئے اس سماج کے اندر
جوان لڑکی بھی تکلیف دہ خزانہ ہے

غریب باپ ہر آہٹ پہ چونک جاتا ہے

Saturday, April 19, 2014

پھر یوں ہوا

پھر یوں ہوا کہ عشق نے امداد کھینچ لی
پھر یوں ہوا کہ ہم بھی زمانے سے مل گئے

ملازمہ

جہاں پہ کتوں کی خوراک ڈالروں میں ہے
اسی حویلی میں اک کام کرنے والی ہے

جو بارہ آنے فی گھنٹہ پہ زندگی تولے

Friday, April 18, 2014

مجبوریِ معاش نے اغوا کیا ہمیں

مجبوریِ معاش نے اغوا کیا ہمیں
اے حسن!! ہم بھی تیری گلی کے مکین تھے

Thursday, April 17, 2014

زندگی

یہ ایک بند گلی ہے اور اس کے آخر پر
بس اک سرنگ ہے جو موت پہ ہی کھلتی ہے
!!سو بھاگ دوڑ اضافی ہے جتنی بھی کر لو

Sunday, April 13, 2014

بازار

وہی بازار ہیں جس میں کبھی بند آنکھوں سے
ہم ترے نقشِ کفِ پا پہ چلا کرتے تھے
آج آئے ہیں تو گھر کا بھی پتہ یاد نہیں

ملزم

مریض جن کا ہے ان کا ہے باقی لوگوں کو
بس ایک تماشہِ دردو فغاں میسر ہے
 چراغ جلتے ہیں بجھتے ہیں اور جلتے ہیں


----------------------------------------

پھر کوئی  مر گیا افسوس کرو پھر اک بار
بول دو پھر سے وہی سیکھے سکھائے جملے

"بس یہی حکم تھا رب کا، یہی تقدیر میں تھا
حوصلہ رکھو اٹھو اور سنبھالو خود کو
تم بھی رو و گے تو بچوں کو سنبھالے گا کون
"مان لو رب کی یہی مرضی یہی منشا تھی""

سبھی مظلوموں یتیموں کا وہی ملزم ہے!!!؟؟

Wednesday, April 2, 2014

زندگی بن بلایا مہماں ہے

تیرے لائق تو یہ نہیں پھر بھی
جیسے تیسے گزار دے اس کو
زندگی بن بلایا مہماں ہے



بیساکھ

پھر سے بیساکھ ا گیا ان پر

پھر سے سونا اگل رہے ہیں کھیت
آو دارنتیوں کو گرم کریں

جو زمیں دار ہیں بہت خوش ہیں
کیوں کہ بیٹھے بٹھائے ملتا ہے
کاشت کاروں کا خون پی پی کو
ان کے گھر کا چراغ جلتا ہے

خوشہ چینوں کی ٹولیاں بھی تو ہیں
بھیک منگے فقیر اور پنچھی

روز کے روز اپنا پیٹ بھریں


پھر سے بیساکھ ا گیا ان پر
پھر سے سونا اگل رہے ہیں کھیت
آو دارنتیوں کو گرم کریں

Sunday, March 30, 2014

دیکھتے دیکھتے گم ہو جائیں


جس کے گھر میں پرندے رہتے ہیں
اس کی اپنی کوئی نہیں اولاد
-------------

تم نے دیوار کھینچ لی یعنی
خود ہی محصور کر لیا خود کو
جس سے آزاد ہو رہے تھے تم
وہ تو اب بھی تمہارا آقا ہے

------------------------


استعمار نو

تجھے ذہنی غلام کرنے کے بعد
اس نے زنجیر کھول دی تیری

!!!!کون سا جشن کیسی آزادی
--------------------


اتنی بڑی ہیں آنکھیں اس کی
دیکھتے دیکھتے گم ہو جائیں


Thursday, March 27, 2014

آندھی چلی تو پیڑوں نے پتے گرا دیے

آندھی چلی تو پیڑوں نے پتے گرا دیے
رشتوں کو جانچنا ہو تو مشکل میں جانچیے

یہ کسی نوکری سے کم تو نہیں
جس قدر ضابظے ہیں زندگی کے

Wednesday, March 26, 2014

شاعری قافیے کی قید میں ہے


شاعرانہ خیال آوارہ
شاعری قافیے کی قید میں ہے
دیکھ کر بھی یقین نا ممکن
یہ نظر زاویے کی قید میں

ساری باتیں چپ پہ آ کر رکتی ہیں

بہت زیادہ بولنے والے چپ ہوجا
ساری باتیں چپ پہ آ کر رکتی ہیں

Tuesday, March 25, 2014

آج کل

تمہارا حسن بجا ہےپر آج کل اے دوست
مجھے معاشی مسائل نے باندھ رکھا ہے

Sunday, March 23, 2014

دو رخی


میں جسے آسمان سمجھا تھا
وہ ہی زیرِ زمین کا نکلا

پھول کاری کی شوخیوں میں دبا
آہ اک چاک ان سلا نکلا

Tuesday, March 18, 2014

یہ نو گیارہ !!!!

سوار کر کے ہزاروں کڑوڑوں لوگوں کو
وہ کہ رہا ہے کہ ٹکرا دوں گا زمیں سے زمیں
یہ نو گیارہ تو کچھ بھی نہیں مرے لوگو

تمہارے تیز جہازوں سے تیز تر ہے زمیں
پھر اس میں سینکڑوں کیا اربوں لوگ بیٹھے ہیں
بس ایک لمحے میں پھٹ جائے گی دھماکے سے
 بس ایک لمحے میں  ملبے کا ڈھیر ہو گا سب
بس ایک لمحے میں بجھ جائیں گی سبھی جانیں
کہ جیسے جوتا پٹخ کر چراغ گل کر دیں
یہ نو گیارہ تو کچھ بھی نہیں مرے لوگو

میں سوچتا ہوں  تو پڑتی ہیں کانوں میں چیخیں
کڑوڑوں عورتوں بچوں بزرگوں کی چیخیں
!!!!!!جنیوا پیکٹ بھی جن کو امان دیتا ہے
یہ نو گیارہ تو کچھ بھی نہیں مرے لوگو


خواہش

ایک کمرہ کہیں ہو تنہا سا
جس کی کھڑکی فلک پہ کھلتی ہو
چاند جس میں بسر کرے راتیں
دھوپ جس میں اجالے بھرتی ہو
اپسرا کوقاف سے جس میں
روز اک پھول لا کے رکھتی ہو
اور خاموشی دلفریب ایسی
دل کی دھڑکن بھی شور لگتی ہو
ایک کمرہ کہیں ہو تنہا سا
جس کی کھڑکی فلک پہ کھلتی ہو

زمیں سے توڑ کے رشتہ ترقیاں ڈھونڈے

زمیں سے توڑ کے رشتہ ترقیاں ڈھونڈے
  ہوا کے دوش پہ  ہلکورے کھاتی قوم مری

نہ جانے کس کے جزیرے پہ اب گرے تھک کر
ہر ایک قوم سے مرعوب ہوتی قوم مری

Sunday, March 9, 2014

ہم سا کوئی زمانے میں ناخلف ہی نہیں

دادا جی پہنا کرتے تھے تہبند اور پگ
ابّا نے انتخاب کی شلوار اور قمیص
اپنی کمان ٹوٹی ہے پتلون ٹائی پر

داد جی بولا کرتے تھے پنجابی مان سے
ابّا نے اختیار کی اردو میں بات چیت
ہم لوگ سر کھپائیں بدیسی زبان میں

اب کیسے کوئی مانے کہ ہم زندہ قوم ہیں
ہم سا کوئی زمانے میں ناخلف ہی نہیں

عورت ہے اک پہیلی اسے بوجھتے رہو

جو بھی لگا لے باتوں میں اس کا ہی دم بھرے
اس کا تو دیں دھرم نہ وطن مستقل رہے

عورت ہے اک پہیلی اسے بوجھتے رہو!!

محبت کا قرض


میں تیرے قرض کے اس بوجھ سے دبا جائوں
خدا کے واسطے اتنا نہ شرم سار کرو!!!!!!

Saturday, March 8, 2014

زندہ ہیں اور جینے کی فرصت نہیں ہمیں

چوبیس گھنٹے پیٹ کی مزدوریاں کی کریں
زندہ ہیں اور جینے کی فرصت نہیں ہمیں

Wednesday, March 5, 2014

جس قوم کے اساتذہ ترسیں گے روٹی کو

جس قوم کے اساتذہ ترسیں گے روٹی کو
اس قوم کے تلامذہ سیکھیں گے چوریاں

Tuesday, March 4, 2014

یہ کیسا بے نیازاور خوبصورت رشتہ ہے

تمہاری کال آنی تھی
کہیں ملنا بھی طے تھا اور، ضروری بات کرنی تھی
، نہ تم نے کال  کی ہم کو 
نہ ہم نے یاد کروایا
یہ کیسا بے نیازاور خوبصورت رشتہ ہے
شکایت تم کو ہم سے ہے،
نہ ہم کو تم سے شکوہ ہے-
یہ کیسا بے نیازاور خوبصورت رشتہ ہے
سبھی رشتے اگر ایسے  ہی ہوں
!!تو کیا ہی اچھا ہو

Monday, March 3, 2014

کچھ لوگ ہم سے آج بھی سرحد پہ بیٹھے ہیں

ملکوں نے ساٹھ سال کی مدت بھی کاٹ لی
کچھ لوگ ہم سے آج بھی سرحد پہ بیٹھے ہیں

احساس ِ کمتری تھا کہ وہ بیوقفی تھی

احساس ِ کمتری تھا کہ وہ بیوقفی تھی
سب سامعین دیسی مقرر بھی دیسی تھا
لیکن زبانِ غیر میں ابلاغ شرط تھا
پس کہنے والے قلتِ الفاظ کا شکار
اور سننے والے دقت و آزار سے دو چار
اللہ اللہ کر کے ہوا ختم سیمینار
احساس ِ کمتری تھا کہ وہ بیوقفی تھی؟؟


میں کیسے مان جاوں کہ ہم زندہ قوم ہیں
اپنی کوئی زباں نہ ثقافت نہ امتیاز

احساس ِ کمتری نے میر وقوم مار دی
نفرت سی ہو گئی ہے اسے اپنے آپ سے 

۱۴-۱۵ اگست ۱۹۴۷

اک بار پھر سے خون دو اک بار پھر لڑو
اب تک جو خوں بہایا وہ ضائع کیا گیا
اب تک جو خوں بہایا وہ اپنے ہی گھر کا تھا
اس کا ثبوت یہ ہے کہ حالت وہی رہی
انگریز کے غلام تھے انگریز کے ہی ہو
اک بار پھر سے خون دو اک بار پھر لڑو

ڈرپوک لوگ کتنے تھے برِّ صغیر کے

تلوار جس نے کھینچی اسی کو کیا  سلام
ڈرپوک لوگ کتنے تھے برِّ صغیر کے
ان کا دھرم بچا نہ زباں مستقل رہی
جتنے بھی غاصب آئے ملاوٹ کی اور گئے


Tuesday, February 25, 2014

مجازی خدا بھی اصلی خدا سے کم تو نہیں


پچھلے پانچ سالوں میں
پہلی دفعہ
میرے پڑوسی کے ہنسنے کی آواز آئی
اور اس کے ساتھ ہی کھلکھلائے
 !!اس کے بچے اور بیوی
(اور اب تک ہستےہی جا رہے ہیں )
!!مجازی خدا بھی اصلی خدا سے کم تو نہیں
 یہیں تک لکھا ہے کہ پھر آواز آئی
"ایک تھپڑ لگائوں کا کس کے"
 اب وہ اکیلا دھمکا رہا ہے
اور باقی سب آوازیں چپ ہیں
--------------مجازی خدا بھی

رب نے کیا چیز بنا دی عورت


حسن ایسا کہ آنکھ پھٹ جائے
رب نے کیا چیز بنا دی عورت

عشق کا ریشم بننا

رات دن الجھے رہیں روزی کے پھندوں میں ہم 
اب تو ممکن ہی نہیں عشق کا ریشم بننا
ایک وہ دن تھے جہاں دیکھنا چودہ کا چاند
شب بسر کرنا وہیں عشق کا ریشم بننا

ماں

تم دنیا دنیا کرتے ہو دنیا میں کچھ نہیں
کچھ ہے اگر تو ماؤں کے قدموں کی خاک ہے


سب لین دین والے ہیں سب روٹھ سکتے ہیں
بے لوث رشتہ ماں کا ہے جو روٹھتا نہیں


دنیا میں جتنی مائیں ہیں سب ایک سی لگیں
یہ بھی تو اک ثبوت ہے رب سب کا ایک ہے

سرحد کے آر پار


کابل ہو زاہدان ہو دلی کہ سنکیانگ
ہر سمت کلمہ گو ہیں تری جنگ کس سے ہے
اپنے ہی بھائی بندوں کو دشمن سمجھتا ہے
تیرے ہی جیسے وہ ہیں تری جنگ کس سے ہے

سرحد کے آر پار ہے مخلوق ایک سی

طالبان

طالبان

اقبال کے عقاب کو رستہ دو  آنے دو
دوقومی نظریے کی فتح عنقریب ہے
تم نے لکیر کھینچی تھی مذہب کے نام پر
کشمیر کی لڑائی بھی مذہب کے نام پر
مذہب کے ہی نظام سے اب ڈر رہے ہو کیوں
مذہب کے ہی نظام کو اک بار آنے دو

तालिबान

इक़बाल के अक़ाब को रस्ता दो  आने दो
दोकौमी नज़रीऐ की फ़तह अनक़रीब है
तुम ने लकीर खींची थी मज़हब के नाम पर
कश्मीर की लड़ाई भी मज़हब के नाम पर
मज़हब के ही निज़ाम से अब डर रहे हो क्यों
मज़हब के ही निज़ाम को इक बार आने दो

Thursday, February 20, 2014

ہیلے کالج کے پیارے طلبا کے لیے

ہیلے کالج کے پیارے طلبا کے لیے


نئے پرندے نئی اڑانیں، نئے افق اور نئی امیدیں
میں ایسی دنیا کو کیوں نہ چاہوں جو زندگی سے بھری پڑی ہے

تمہاری آنکھیں نہیں ہیں پیارو، چراغ جلتے ہیں پانیوں پر
تم ان کو یکجا تو کر کے دیکھو دو چار گز پہ سحر کھڑی ہے

Wednesday, February 19, 2014

یہ سرزمیں ہے اسے پاک کر رہیں ہیں ہم


قیام ِ ملک سے اب تک قتال جاری ہے
یہ سرزمیں ہے اسے پاک کر رہیں ہیں ہم

نفسا نفسی
مری گلی میں ہوا خون اور میں خوش ہوں
کہ رب نے جان بچا لی مرے عزیزوں کی

Monday, February 17, 2014

ہانک دو ان کو

چند افراد کے سوا سب لوگ
گھاس چرتے ہوئے مویشی ہیں
جس طرف چاہو ہانک دو ان کو

لمحہ موجود




الٹ پلٹ کے بہت دیکھی زندگی میں نے
سوائے لمحہِ موجود کچھ نہیں اس میں
سو جی سکو تو اسے جی لو آج اس پل میں!

Monday, February 10, 2014

خوف آتا ہے خود سے ملتے ہوئے

ذات کے بے امان جنگل میں
خواہشیں بے لگام پھرتی ہیں
خوف آتا ہے خود سے ملتے ہوئے

تا کہ

جان سے جان توڑ کر اپنی
مائیں بچوں کو پیدا کرتی ہیں
تا کہ آباد رب کی دنیا رہے

وہ اپنے آپ کو کیوں کر خدا نہ سمجھے گا
کہ جس کے رزق سے پلتی ہے بھوکی خلقِ خدا

رات پڑتی ہے تو سوجاتے ہیں ہمدرد سبھی

درد جس کا ہے اسی کا ہے فقط اس کا ہی ہے
رات پڑتی ہے تو سوجاتے ہیں ہمدرد سبھی

سرکاری اسپتال

راہ میں لیٹ گئے درد کے مارے ہوئے لوگ
جاگتے سوتے سے بے حال سے بے چارے لوگ
چوکیدار آئے گا
 اور چوب چھبو جائے گا
بڑہڑاتے ہوئے اٹھیں گے لپیٹیں گے لحاف
!!!! :سرد موسم میں عیادت بھی بہت مشکل ہے

چاہت نہیں چھپنے والی

ایسی خاموشی کہ دھڑکن کی دھمک پڑتی ہے
اور ابلاغ کہ آنکھوں کی  بھی آواز آئے
ایسے حالات میں چاہت نہیں چھپنے والی

ایسے لہراتا ہوا چلتا ہےوہ شاخ بدن
چاند دیکھے گا تو گر جائے گا چکر کھا کر
چاندنی رات میں اس کونہ جگانا لوگو

Sunday, February 2, 2014

بند باندھو تو جسم ٹوٹتا ہے

عمر تو وقت سے بندھی ہوئی ہے
جو مسلسل گزرتا جاتا ہے
زندگی قطرہ قطرہ ملتی ہے

ہفتوں کے بعد چار چھے لمحے
اور سالوں میں چند ہفتے بس
ٹکروں ٹکروں میں لوگ جیتے ہیں

جنس  مجبوری ہے ارے صاحب
بند باندھو تو جسم ٹوٹتا ہے

 شرم آتی ہے انہیں قوم بلاتے ہو جب
مادری بولی جنہیں بولتے شرم آتی ہے

خود ناپسندی


بدیسی ملک کا قانون وردیاں تھانے
بدیسی بولی بدیسی لباس اور کھانے
بدیسی حلیہ بدیسی دماغ اور سوچیں
بدیسی جو بھی ہو اچھا ہے بلکہ بہتر ہے
جو بس چلے تو یہ DNA  بھی بدل ڈالیں
کہ میری قوم کے لوگوں کو خود سے نفرت ہے

Tuesday, January 28, 2014

دماغ کم ہو تو!!

یہ بات کھیلتے بچوں سے میں نے سیکھی ہے
دماغ کم ہو تو چوٹیں زیادہ آتی ہیں -
ابھی ابھی یہ خبر ریڈیو پہ آئی ہے-
"ملیشیا کے مسلمان پھر سے جھگڑے ہیں - 
کہیں پہ آگ لگی اور کہیں پہ خون بہا
خدا سبھی کا سہی نام اپنے اپنے ہوں
کلیسا والوں نے گرجے پہ کیوں لکھا اللہ"
یہ کیسی خلق خدا ہے، خدا کے نام پہ ہی
خدا کے بندوں کو شعلوں میں جھونک دیتی ہے
یہ بات کھیلتے بچوں سے میں نے سیکھی ہے
دماغ کم ہو تو چوٹیں زیادہ آتی ہیں

Sunday, January 26, 2014

حویلی دل کی

ایک وہ دور تھا میلہ سا لگا رہتا تھا
ایک یہ دور ہے ویراں ہے حویلی دل کی

تم سمجھتے تھے بہت خاص ہو تم دنیا میں
اس سمجھنے نے بہت دھوکے دیے ہیں تم کو!!

نہ شروعات کا معلوم نہ انجام پتہ
گھومتے وقت کے مرکز میں گرائے گئے ہم

یہ کائنات ذرا دیر رک سکے تو جانیں
مشاہدے کے تسلسل کو وقت کہتے ہیں

Thursday, January 23, 2014

شاعری

شاعری

 سست رو سانس چلے نبض بھی خوابیدہ ہو
اور بے کاری کہ بیٹھے ہیں تو بس بیٹھے رہیں
ایسے عالم میں کسی علت و حجت کے بغیر
صفر کوشش سے ترے ذہن کی بالائی پر
جو نتر آئے اچانک سے وہی شاعری ہے

Tuesday, January 21, 2014

وہ ہاسٹل کے شب و روز جن میں زندگی تھی

ہماری مرضی سے چلتا تھا وقت کا پہیہ
گھمائیں سیدھا کہ الٹا ہماری مرضی تھی
کبھی کبھی تو اسے ہفتوں روک بھی رکھتے
  !!وہ ہاسٹل کے شب و روز  جن میں زندگی تھی

ہمارے ماپ کا

بہت سے کپڑوں کو پہنا اتارا اور پہنا
کسی بھی کپڑے میں پورا نہ آسکا یہ بدن
نتیجتا ہمیں یونہی گزارا کرنا پڑا
جو زیبِ تن ہے اسے انتخاب مت سمجھو
ستر چھپانے کی مجبوریاں تھیں کیا کرتے
!!ہمارے ماپ کا کوئی ہمیں ملا ہی نہیں

Sunday, January 19, 2014

جو جو پڑھا وہ لوگوں کو تقسیم کر گیا

کوئی تو ہو گھڑی کو جو الٹا گھما سکے
دو چار صدیاں پیچھے پلٹ کر ہے دیکھنا
ہے دیکھنا کہ کس نے لکھا تھا نصابِ ہند
جو جو پڑھا وہ لوگوں کو تقسیم کر گیا
شہروں سے دور اب بھی محبت ہے لوگوں میں
شہروں سے دور اب بھی شرحِ خواندگی ہے کم

Saturday, January 18, 2014

مزدور

مزدور

کر رہا ہے معاونت رب کی
اس کی مخلوق پالتا ہے جو
بیوی بچوں کے رزق کی خاطر
جان جوکھوں میں ڈالتا  ہے جو

Thursday, January 16, 2014

کوئی مصرع دو کہ اس سوچ کا تن ڈھانپ سکوں

مفلسی آن پڑی قحط کا موسم چھایا
کھوٹی کوڑی بھی نہیں ذہن تجوری میں اب
جتنے الفاظ تھے اظہار میں سب خرچ ہوئے
بے لباس سوچ ہے اک مجھ میں کئی ہفتوں سے
 مجھ میں اک سوچ بھٹکتی ہے کئی ہفتوں سے
کوئی مصرع دو کہ اس سوچ کا تن ڈھانپ سکوں

سوچ کا قرض چکاتے ہیں سو لکھ دیتے ہیں

مذہب پہ حرف آنے نہیں دیتے میرے لوگ
نازک معاملہ ہے ذرا احتیاط سے

یہ کوئی پیشہ نہیں ہے کہ کمائی کھائیں
سوچ کا قرض چکاتے ہیں سو لکھ دیتے ہیں

تہوار

قمقمے پھول اگر بتیاں جشن اور پکوان
ایک سے لگتے ہیں تہوار سبھی قوموں کے
فرق اتنا ہے کہ تاریخ ہے اپنی اپنی

رقص کرتے ہوئے تہوار میں سوچا میں نے
روح مرجاتی ہے اور نظریہ مر جاتا ہے

جو بھی چاہے وہ دل سے ہو جائے

عادتا ترچھا دیکھتا ہوں میں
تیری جانب جھکائو تھوڑی ہے
جو بھی چاہے وہ دل سے ہو جائے
رہ گزر ہے پڑاو تھوڑی ہے

Monday, January 13, 2014

تیری شادی نے تجھ کو چھیل دیا

پیاز کی طرح تجھ پہ پرتیں تھیں
بھائی بہنوں کی اور دوستوں کی
تیری شادی نے تجھ کو چھیل دیا
تو کہ اب رہ گیا ہے تھوڑا سا
!!!مونڈھ دیں دیسی مرغ کو جیسے

عورت کے لیے - یہ بہت ہے تم ایک عورت ہو

پر کشش اور خوبصورت ہو
یعنی تم رب کی خاص رحمت ہو
آنکھ کا رزق تم سے وابستہ
آنکھ کی جستجو کی اجرت ہو
روح کا ہلکا پن ہو تازگی ہو
جسم کی صحت ہو حرارت ہو
حسن بے پرہن تھا ازلوں سے
حسن کا پیرہن ہو زینت ہو
عشق کی نسل تم سے چلتی ہے
عشق کی جان ہو ضرورت ہو
نام اور نسب کوئی کیا پوچھے
یہ بہت ہے تم ایک عورت ہو

ان پڑھ بھائی

ان پڑھ بھائی

ہوتے ہوتے وہ ہو گیا تنہا
جیسے لنگڑا مویشی ریوڑ کا
رشتوں کے بے امان جنگل میں

Thursday, January 9, 2014

وہ جو یوں ہیں کہ جیسے ہیں ہی نہیں

دیکھ سکتے ہیں سن بھی سکتے ہیں 
بولتے ہیں مگر وہ ہکلا کر
جن کی اپنی کوئی زباں ہی نہیں
نیم گونگے غلام قوم کے لوگ
وہ جو یوں ہیں کہ جیسے ہیں ہی نہیں

ان کتابوں سے علم ملتا نہیں


اسی اسکول کے ذرا اندر
کاغذوں میں لپیٹ کر استاد

بیچتے ہیں تعصب و نفرت

اسی اسکول کے ذرا باہر
اسی اسکول کی کتابوں کے
کاغذوں میں لپیٹ کر افغانی
!!!بیچتے جائیں گرما گرم چنے

چل رہا کاروبار ماشااللہ
!!!رزق دیتا رہے خدا سب کو
ان کتابوں سے علم ملتا نہیں

گلزار کے نام
بڑھتے جاتے ہیں چاہنے والے
وہ اکیلا کدھر کدھر ہو لے
!!!!اس لیے تم جواب ہی سمجھو


سن تو سکتے ہیں بول سکتے نہیں
جن کی اپنی کوئی زباں ہی نہیں
غلام قوم 

ٹرین چھوٹتی ہے اور پھر نہیں آتی

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے عین موقع پر
ٹرین چھوٹتی ہے اور پھر نہیں آتی

Wednesday, January 8, 2014

زندگی کو الٹ پلٹ کے نہ دیکھ


دردو غم کی شکایتیں مت کر

!!!!زندگی ہے لگان لیتی ہے

ساری تصویر ہو گئی دھندلی
میں نے جب غور سے ذرا دیکھا
زندگی کو الٹ پلٹ کے نہ دیکھ



یہ جو بیٹھا ہے اونچے مسند پر
پست قامت کڑوڑوں لوگوں نے
اس کا مسند اٹھایا ہے سر پر


Monday, January 6, 2014

سورج بھی ہانپتا ہے ستارے بھی تھک گئے

دھرتی کی کھال ادھڑنے لگی گھوم گھوم کے
سورج بھی ہانپتا ہے ستارے بھی تھک گئے
منہ زور گھوڑا وقت کا سرپٹ ہے موج میں
کچھ دیر کائینات کو اس سے اتاریئے

پرانے ساتھ کی تدفین تو کیے جاو

نئے سفر پہ چلے ہم سفر مبارک ہو
پرانے ساتھ کی تدفین تو کیے جاو

Friday, January 3, 2014

یہ جو دنیا ہے گول چکر ہے


بھاگنے دوڑنے سے کیا ہو گا
انتہا ابتدا سے ملتی ہے

یہ جو دنیا ہے گول چکر ہے

کہ مختصر ہیں بہت اس زمیں کے دن اور رات

میں کوئی کام تسلی سے کر نہیں پاتا
کہ مختصر ہیں بہت اس زمیں کے دن اور رات

جنم سے پہلے ہی مر جاتا ہے خیال مرا
کہ عین وقت پہ الفاظ ہی نہیں ملتے!!!

Tuesday, December 31, 2013

وہ قاعدے جو الف بے سکھایا کرتے تھے


پرانی کتب کے انبار میں نظر آئیں
وہ قاعدے جو الف بے سکھایا کرتے تھے

Monday, December 30, 2013

غلام قوم کا گمنام سا کوئی شاعر

وہ جانتا ہے بڑھاپا بہت بری شے ہے
اور ایسے حال میں وارث بھی جب کوئی نہیں/ نہ ہو
مگر وہ ضدّی کسی وعدہِ وفا کا اسیر
ضعیف و بے کس و بیمارو مردہ لفظوں کو
اٹھا کے رکھتا ہے کاغذ پہ اور ہونٹوں پر
جگر کا خون چھڑکتا ہے روح پھونکتا ہے
ہر ایک بات میں قصے میں اور کہانی میں
 گھما پھرا کے انہیں کو سخن میں لاتا ہے
غلام قوم کا گمنام سا کوئی شاعر
غلام قوم کا گمنام سا وہ اک شاعر 
جو اپنی مادری بولی سے عشق کرتا ہے

میں جسے ہضم کر نہیں سکتا

میں جسے ہضم کر نہیں سکتا
ایسے رشتے کو کس طرح نگلوں

 وصل تو وصل ہجر بھی نہ رہا
بڑھتا جاتا ہے خالی پن دل میں

اب تو ڈھا دینی چاہیے دنیا

نیلگوں آسمان لگتی ہے
یہ زمیں دور سے کبھی دیکھو
نارسائی میں خوشنمائی ہے
دھول اڑتی ہے چاند پر ورنہ

دشت ناپید ہوتے جاتے ہیں
شورو غل بڑھ رہا ہے روز بروز


ہجر میں وصل کو ترستے تھے
وصل میں ہجر یاد آتا ہے
یہ نظر بھاگتی ہے منظر سے


بے شمار ان کہے سوالوں کو
ذہن میں دم دیے رکھوں کب تک
سوچ میں کچھ ابلتا رہتا ہے

کس قدر کرب ہے ذرا سوچو
میرے چاروں طرف ہے بھیڑ مگر

ایک بھی بالغ الدماغ نہیں



طفلِ ناداں کی سوچ کی حامل
روز بنتی بگڑتی رہتی ہے
کچی مٹی سی بھربھری دنیا


کتنی فرسودہ سی لگے اب تو
جب نئی ہوگی تب نئی ہو گی


اب تو ڈھا دینی چاہیے دنیا










شاعر


جیتے جی مل نہیں سکا اس کو
ایک کونہ خموش اور تنہا
اس لیے جلد مر گیا شاید!!!

Thursday, December 26, 2013

حورم کی آمد پر !!



حورم کی آمد پر !!
تمہارے پیار کو تجسیم کر دیا اس نے
تمہاری گود میں مہمان رب نے بھیجا ہے
ہماری آنکھوں سے شفقت چھلکتی جاتی ہے
ہمارے ہاتھوں میں اے دوست تیرا بچہ ہے!!!!؟؟؟

درد کیکر کی طرح صحن میں اگ آیا ہے

درد کیکر کی طرح صحن میں اگ آیا ہے
دن تو گلیوں میں گزر جاتا ہے شب بھاری ہے

Tuesday, December 24, 2013

زندگی مختصر ہے کیا کیج

جلدی جلدی میں سارے کروں
زندگی مختصر ہے کیا کیجے

سخت ہے موت مانتا ہیں مگر
زندگی سخت تر ہے کیا کیجے


Monday, December 23, 2013

مجھ کو جو لگتا ہے وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں

ہر کوئی میری طرح ناخوش ہے
میں یہی سوچ کے خوش ہوجائوں!!؟؟

وہ سب مقابلے ہاروں کہ جن ے جیتنے سے
مجھے لگے کہ میں دنیا سے کچھ الگ سا ہوں

مجھ کو جو لگتا ہے وہ یوں ہے کہ اس دنیا میں
بے یقینی ہے  یقیں اور گماں ایماں ہے
 کچھ بھی حتمی نہیں اور کچھ بھی یقینا نہیں ہے
مجھ کو جو لگتا ہے وہ یوں ہے کہ اس دنیا میں
مادی اشیا کی طرح سوچ سے ایجاد ہوئی
نظریات اور عقیدوں کی وہ جبری خوراک
جس کو ہر شخص نگلتا ہے دوائی کی طرح
مجھ کو جو لگتا ہے وہ یوں ہے کہ اس دنیا میں
چند افراد نے کچھ ذاتی مقاصد کے لیے
سادہ دل لوگوں کو کو لڑنے پہ لگا رکھا ہے
سرحدوں نفرتوں قوموں کا سہارا لے کر

Friday, December 20, 2013

منافقوں کے لیے بہترین ہے دنیا

عقاب جان سے مارے کہ ادھ موا چھوڑے
کوئی بھی بن میں مددگار فاختہ کا نہیں
اصولِ زیست ہے! کمزور ظلم سہتا ہے


ہیں ہاتھ خونی مگر لوگ جھک کے چومتےہیں
سیاہ شملہ مگر پھر بھی سب سے اونچا ہے
ہمارے ماضی و باطن کوکون دیکھتا ہے
منافقوں کے لیے بہترین ہے دنیا


Thursday, December 19, 2013

ذرا سا چھیلو تو اندر سے وحشی نکلے گا

وحشی

ہماری شکل تھی انسان سے بہت ملتی
بس اتنے جرم پہ جنگل بدر کیا ہم کو!!
ذرا سا چھیلو تو اندر سے وحشی نکلے گا!!!!
---------------------------------------
---------------------------------------
خدا کے واسطے جنگل میں لوٹ جانے دو!

یہ میرا درد کدہ ہے یہاں پہ کچھ بھی نہیں

یہ میرا درد کدہ ہے یہاں پہ کچھ بھی نہیں
بس ایک شمع ہے زارو قطار روتی ہوئی
دو چار سانسیں ہیں سینے میں فوت ہوتی ہوئی
اور اک نظر در و دیوار سے الجھتی ہوئی
-------------------یہ میرا درد کدہ ہے 
کتابِ عشق کے پرزے اڑا گیا ہے وقت
ادھوری نظم ہے بستر پہ ہچکی لیتی ہوئی
 جو خواب آنکھ میں تھے آنکھ میں ہی جل بجھے ہیں
اب ان کی راکھ ہے منظر کو دھند لا کرتی ہوئی
شکست و ریخت اداسی اندھیرا اورگھٹن
کہ میری ذات نہیں قبر ہے سسکتی ہوئی
یہ میرا درد کدہ ہے یہاں پہ کچھ بھی نہیں
بس ایک شمع ہے زارو قطار روتی ہوئی

میں چاہتا ہوں کہ پل سے صدی کشید کروں

یہ دائروں کا سفر ہے سو گھومے جاتے ہیں
چلے جہاں سے وہیں کو پلٹتے جاتے ہیں

کوئی تو ہو جو جمی برف کاٹ سکتا ہو
تمام لوگ بہائو میں پھسلے جاتے ہیں

یہ زندگی ہے اجل کے سپرد کیوں کیجے
تمہاری آنکھوں کے گوشوں میں چِنتے جاتے ہیں

میں چاہتا ہوں کہ پل سے صدی کشید کروں
پلک جھپکتے یہاں سال گزرے جاتے ہیں

بس ایک جنسِ محبت تھی دل کو خوش آئی
تحفظات اب اس سے بھی ہوتے جاتے ہیں

Monday, December 16, 2013

صنف نازک پہ تکیہ مت کیج

اک نصیحت ہے زندگی میں کبھی
صنف نازک پہ تکیہ مت کیجو

ساتھ چلیو ہزار بار مگر
آسرے کی امید مت رکھیو

دن بدلنے پہ فیصلہ بدلے
!!دشمنی کو بھی دل پہ مت لیجو

صرف جذبات سے بنا ہو جو
!!عقل کااس پہ وار مت کیجو

آنے آنے کا یوں تو رکھّے حساب
!پیار سے چاہے جان لے لیجو

ایک لمحہ لگے انسان کو وحشی بنتے

سوچ مثبت ہو یا کہ منفی ہو
جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے
زندگی وقت کا ضیاع ہی ہے

جس قدر زندگی کو سمجھو گے
اس قدر زندگی سے بھاگو گے

رات بھر پہرے دار جاگتے ہیں
آدمی آدمی کو سونے نہ دے

باقی باتیں ہیں جتنی بھی کر لو
حق اسی کا ہے جس میں طاقت ہے

عمر لگ جاتی ہے تہذیب سکھاتے لیکن
ایک لمحہ لگے انسان کو وحشی بنتے


ہم پہ ضائع کیا گیا اس کو

"کون اپنا ہے کیا پرایا ہے""
جو بھی کچھ سامنے ہے سایہ ہے

ہم پہ ضائع کیا گیا اس کو
ہم سے کیا زندگی نے پایا ہے

عشق کا پیرہن بھی ململ تھا
ہی سالوں پہ چھید آیا ہے/////کچھ ہی سالوں میں تار تار ہوا

گھر سے باہر کوئی ٹھکانہ نہیں
گھر کے اندر اسے بٹھایا ہے

Saturday, December 14, 2013

نتیجہ یہ ہے یہاں کچھ بھی پائیدار نہیں

ہمیں سمجھ ہی نہیں آئی شخصیت اپنی
کہ جس بھی بزم میں بیٹھے وہیں پہ اجنبی تھے

نتیجہ یہ ہے یہاں کچھ بھی پائیدار نہیں
سو جو بھی کرتے ہو کرتے رہو سکون کے ساتھ

Friday, December 13, 2013

ہماری زندگی بس نام کی تھی


انحراف کا فی البدیہہ مشاعرہ

کبھی سایہ کبھی بس وہم ہی تھی
ہماری زندگی  تونام کی تھی

خسارہ ہی خسارہ آج کل ہے
محبت ہی محبت زندگی تھی

ازل سے پہلے کیا تھا جاننا ہے
ازل سے پہلے بھی کیا زندگی تھی؟

مجھے درکار کب تھا روز اک دن
مری رفتار لمحوں سے جڑی تھی

حقیقت کس طرح تسلیم کرتے
ہمیں خوابوں کی عادت ہو چلی تھی

یہ جو انسان ہے تقسیم کا شیدائی ہے

سرحدیں کھینچتا، اور فرقے بناتا آیا
یہ جو انسان ہے تقسیم کا شیدائی ہے

Thursday, December 12, 2013

میں نہیں مانگتا ہرروز نیا دن اترے

سایے کو قید کرنے لگے ہو کمال ہے
تم زندگی کو جینے لگے ہو کمال ہے

میں نہیں مانگتا ہرروز نیا دن اترے
مستقل کر دو مرے واسظے بس اک دن جب
!ساری دنیا میں کوئی شخص بھی رویا نہیں تھا

یہ جو دن رات ہیں

یہ جو دن رات ہیں پردے ہیں سفید اور سیاہ
جو مری عمر پہ گرتے ہی چلے جاتے ہیں
میرے بس میں ہو اگر پھاڑ کے پھینکوں ان کو
اور اندر سے نکالوں میں چمکتا ماضی
اور اندر سے نکالوں وہ  چمکتا ماضی
اور مرضی کے کسی خواب سے رنگیں پل کو
کھینچتا کھینچتا دہلیزِ ابد تک لائوں
!مستقل کردوں جوانی کو محبت کو وفا کو

Tuesday, December 10, 2013

مجھے انسان سے محبت ہے

مجھے انسان سے محبت ہے
اس کی خوشیوں سے اس کے دکھڑے سے
اس کی الفت سے اس کے جھگڑے سے
بے بسی ہو گھمنڈبازی ہو
بے وفائی ہو سچی یاری ہو
اس کی ہر چال خوبصورت ہے
مجھے انسان سے محبت ہے

سالوں پہ ہے محیط مگر خود کشی تو ہے

چلتے رہیں کہ بیٹھے رہیں چل رہا ہے وقت
ہر لحظہ بڑھ رہے ہیں عدم کی طرف سبھی
سالوں پہ ہے محیط مگر خود کشی تو ہے

Monday, December 9, 2013

ان کو فرصت ملے گی مر کر ہی

جن کو عادت ہو کام کرنے کی
ان کو فرصت ملے گی مر کر ہی

Sunday, December 8, 2013

زندگی مختصر ہو لمبی ہو

موت منزل ہو جس سفر کی اسے
راستے میں بھی چھوڑ دیں تو کیا
زندگی مختصر ہو لمبی ہو!

تمام عمر ہوا کے خلاف چلتا رہا

حسن خوشبو کی طرح ٹک کے نہیں رہتا ہے
اس کی عادت ہے مکانات بدلتے جانا
اس کی عادت ہے کہ پوشاک بدلتے جانا
حسن پر مان نہیں مان نہیں کر ناداں
یہ تو مہمان ہے مہمان پہ کیا اترانا

گل فروشوں کو نہیں علم محبت کیا ہے
پھول مر جاتے ہیں قیمت کے ادا ہوتے ہی!!!


جس کو دوزخ ملی ہو دنیا میں
ایسے کافر کی عاقبت کیا ہے



تمام عمر ہوا کے خلاف چلتا رہا
ہوا تھمی نہ طبیعت ہی ٹل سکی میری



Saturday, December 7, 2013

اپنے ماتحت کچھ رہا ہی نہیں

زندگی وقت خواب اور رشتے
اپنے ماتحت کچھ رہا ہی نہیں

Friday, December 6, 2013

ایک بیمار سے دیے کے لیے

ایک بیمار سے دیے کے لیے
زندگی بھر ہوا سے لڑتا رہا
اور آخر کو بجھ گیا وہ بھی!!!

اس قدر تیز چل رہے ہو کیوں
موت آنی ہے آہ جائے گی
ہر سفر موت پر ہی رکتا ہے


بڑی بے اعتبار سی ہے جو
ہم اسی زندگی پہ بیٹھے ہیں

Thursday, December 5, 2013

دکھ سبھی کے ہی ایک جیسے ہیں

باقی تفصیل جو بھی ہو سو ہو
دکھ سبھی کے ہی ایک جیسے ہیں
ایک کنبہ ہے بابے آدم کا
سارے اپنے ہیں سارے اچھے ہیں

Wednesday, December 4, 2013

بس ایک موڑ غلط تھا تمام رستے میں

بس ایک موڑ غلط تھا تمام رستے میں
ہمارے بیچ میں صدیوں کا فاصلہ ہے اب

Monday, December 2, 2013

ہے یہی قدر مشترک ہم میں

نفیساتی مریض ہے دنیا
اس پہ آسیب ہے عقیدوں کا
اک معالج ہی جانتا ہے بس
کتنا مشکل ہے ساتھ پاگلوں کا

تو بھی تنہا ہے اور دکھی بھی ہے
میں بھی تلکیف میں اکیلا ہوں
ہے یہی قدر مشترک ہم میں


Sunday, December 1, 2013

جو بھی ہوتا ہے ٹھیک ہوتا ہے

ترو تازہ گلاب اور کلیاں
کیوں سمجھتا ہے تیرا ہی حق ہیں
دوسروں کو بھی کچھ مہکنے دے
دوسرے بھی تو ان کے طالب ہیں
تو ذرا کانٹوں سے بہل کر دیکھ
یہ بھی  تو باغ کی حقیقت ہیں

میری بیٹی ہے کائینات مری
اور بیٹا نظر کی راحت ہے
ان کی ماں سے مگر عداوت ہے
کس قدر خود غرض ہے انساں بھی

-----------------
جو بھی ہوتا ہے ہوتا آیا ہے
جو بھی ہوتا ہے ٹھیک ہوتا ہے
مرگ و شادی کوئی نئے تو نہیں
درد و راحت پرانی باتیں ہے
چھوڑ دے ہاتھ ڈھیلے غم نہ کرو
وقت کا دھارا من کا موجی ہے
اپنی موجوں میں بہتا جاتا ہے
اور سب کچھ بہاتا جاتا ہے
جو بھی ہوتا ہے ٹھیک ہوتا ہے

Saturday, November 30, 2013

ہم تو بس آلو لینے بازار گئے تھے

ہم آلو لینے بازار گئے تھے
وہ کہہ رہی تھی کہ علی آلووں والے پراٹھوں کا شوقین ہے
وہ کہہ رہی تھی کہ صبح علی کے لنچ بکس میں آلووں والے پراٹھے رکھنے ہیں
ہم آلو لینے بازار گئے تھے
میں نے آلو خریدے، 
دکان دار کو پیسے دیے
تو وہ بولی آلو مجھے پکڑا دو
میں نے آلو پکڑانے کے لیے ہاتھ بڑھایا
"پکڑو"
میں پھر بولا
"پکڑ بھی لو"

اس نے جواب نہ دیا
جب میں نے پچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بائک سے نیچے گری ہوئی تھی 

دور کہیں گولیوں کی آواز آرہی تھے
ڈاکووں کا پولیس مقابلہ تھا شاید
پر ہم تو آلو لینے بازار گئے
میں بوکھلاہٹ میں آلو اور بائک گرا کر اس کی طرف بھاگا
سرخ خون کا دھارا اس کے سر سے پھوٹ رہا تھا اور  گلی کی گندی نالی میں جاکر گر رہا تھا

"میں نے چیخ کر کہا
تم آلو لانے کے لیے مجھے بازار لائی تھی

" تم نے آلو پکڑے کیوں نہیں
وہ خموش تھی 

بھائی صاحب قسم لے لو، ہماری تو کسی سے کوئی دشمنی نہیں
ہم تو بس آلو لینے بازار گئے تھے

علم تہذیب سے عاری تو چنگھاڑتا ہے

علم تہذیب سے عاری تو چنگھاڑتا ہے
بات سچّی ہے کہ انسان بھی اک وحشی ہے

Friday, November 29, 2013

اب تیرا فیصلہ ہے کہ جس راہ تو چلے

عزت بھی دستیاب ہے ذلت بھی عام ہے
اب تیرا فیصلہ ہے کہ جس راہ تو چلے

Thursday, November 28, 2013

دشمنی عورتوں کی

دشمنی عورتوں کی عورتوں سی
جانے کب پیار میں بدل جائے
اس کو سنجیدگی سے مت لیجو
دل میں کچھ ہے زبان پر کچھ ہے

Monday, November 25, 2013

تجھے گنوا کے میں خوش ہوں اور اس قدر خوش ہوں

تجھے گنوا کے میں خوش ہوں اور اس قدر خوش ہوں
کہ دور ہونے کا دھڑکا نہ قربتوں کی ہوس!!

تم ایسے دیس میں انصاف ڈھوندتے ہو جہاں
دیے کی لو پہ ہی الزام تیرگی کا لگے

میں کور چشموں کی بستی میں رہ رہا ہوں جہاں
شعور و عقل کا معیار بیوقوفی ہے



سفر بھی جاری ہے اور مجھ کو بھی سکون نہیں

کچھ اس لیے بھی ہے یہ ہار جیت سے اچھی
سفر بھی جاری ہے اور  مجھ کو بھی سکون نہیں


خدا کے فیصلے دلچسپ بھی ہیں صائب بھی
شکست جیت سے بڑھ کر مواقع دیتی ہے

Friday, November 22, 2013

اور مٹی کے سب خدا توڑے

فیصلہ جن کا لوگ کرتے تھے
ہم نے وہ سب مقابلے چھوڑے

ڈالی لعنت ہر ایک عہدے پر
اور مٹی کے سب خدا توڑے

Thursday, November 21, 2013

کامیابی کا پیش خیمہ ہیں

یہ جو ناکامیاں ہیں پے در پے
کامیابی کا پیش خیمہ ہیں

Wednesday, November 20, 2013

ہم نے خنجر کو آزمایا ہے

کیا عجب ہے جو زخم آیا ہے
ہم نے خنجر کو آزمایا ہے

جن کو ٹھکرایا سارے لوگوں نے
ہم نے ان کو گلے لگایا ہے

وہ جو اپنا خیال رکھ نہ سکیں
اپنا سب کچھ انہیں تھمایا ہے

زندگی سے مذاق ہم نے کیے
زندگی نے ہمیں ستایا ہے

ہم کو منظور موت اس دل کی

لاکھ لعنت ہو ایسے خوابوں پر
جو مری ماں کو سوگوار کریں
 
ہم کو منظور موت اس دل کی
ہم ہوں کافر جو پھر سے پیار کریں

Tuesday, November 19, 2013

یہ محبت ہے جیت جاتی ہے

تم ذرا آزما کے تو دیکھو
یہ محبت ہے جیت جاتی ہے

حسنِ آدم کی انتہا کیا ہے؟
سارے انسان دیکھنا چاہوں

مجھ کو انسانیت سے عشق ہوا
بس یہی ایک مجھ میں اچھا ہے

لاکھ لعنت ہو ایسے خوابوں پر
جو مری ماں کو سوگوار کریں

تجھ کو چاہیں تو روح کی حد تک
وہ ہیں کافر جو حد کو پار کریں

خواہشوں کے غلام لالچی لوگ
ظاہری حسن سے جو پیار کریں

بھولپن میں گناہ عشق ہوا
مولوی جی بتاو کفارہ







Saturday, November 16, 2013

زندگی اس کو سونپ دی ہم نے

وہ جو خود اپنی جاں کے در پہ ہے
زندگی اس کو سونپ دی ہم نے

Tuesday, November 12, 2013

شادی کرنا ہے خود کشی کرنا

بد زباں بیوقوف عورت سے
شادی کرنا ہے خود کشی کرنا

قابلِ زکر چیز دنیا کی

اس قدر دلکش و حسیں چہرے
رب کی رحمت نہیں تو اور کیا ہے

قابلِ زکر چیز دنیا کی
گر محبت نہیں تو اور کیا ہے

Monday, November 11, 2013

عقب سے وقت مری عمر چرا کر لے گیا

میں ابھی زیست سے دوچار تھا کہ اتنے میں
عقب سے وقت مری عمر چرا کر لے گیا

Thursday, November 7, 2013

موت اتنی ہی پر سکوں ہو گی

زندگی جس قدر کٹھن ہوگی
موت اتنی ہی پر سکوں ہو گی

جب تک وہ پاس بیٹھا رہا بولتا گیا

گرہوں کی طرح دل کو مرے کھولتا گیا
جب تک وہ پاس بیٹھا رہا بولتا گیا

پہلی نظر کی بارشیں اور قرب کے نشے
سب کچھ ہمارے کاسے میں وہ گھولتا گیا

عشق کے دنوں میں تو دل خدا کے جیسا تھا

باوفا مقدر سے، بے وفا مقدر سے
کار عشق کا تو ہر سلسلہ مقدر سے

روٹھ کر چلے جانا سوری کہہ کے لوٹ آنا
حسن کی ادائیں ہیں کیا گلہ مقدر سے

عشق کے دنوں میں تو دل خدا کے جیسا تھا
ہائے دل! کہ دل بھی اب جا ملا مقدر سے

ڈھونڈنےچلے ہو تم، ڈھونڈنے سے کیا ہوگا
رزق و حسن کا تو ہے فیصلہ مقدر سے

Wednesday, November 6, 2013

حسن میں درد کی ملاوٹ ہے

کچھ بھی خالص نہیں ہے دنیا میں
حسن میں درد کی ملاوٹ ہے

Friday, November 1, 2013

بس ذرا پیار کی ضرورت ہے

یہ جو سنسار کی ضرورت ہے
فردِ بے کار کی ضرورت ہے

رنگ بکھرے ہوئے ہیں چاروں طرف
صرف فنکار کی ضرورت ہے

لو جی دوکاں سجا لی انہوں نے!!
اب خریدار کی ضرورت ہے

حسن وافر بھی اور مائل بھی
بس ذرا پیار کی ضرورت ہے

ربّا تیری حسین دنیا میں
پیار ہی پیار کی ضرورت ہے

خواہش کے چند کھوٹے سے سکّے ہیں دل کے پاس

 جو عشق تھا وہ کچی جوانی میںچھن گیا
خواہش کے چند کھوٹے سے سکّے ہیں دل کے پاس

راحتیں اس قدر مزہ دیں گی

دکھ اٹھائے ہیں جس قدر ہم نے
راحتیں اس قدر مزہ دیں گی

Thursday, October 31, 2013

اب سہل ہو گیا جدا ہونا

پردہِ سیمیں پہ جب دیکھا ترا پھول بدن
سارے کمرے میں مہکنے لگی تو روشنی سی


اب ترے پیار سے نکل آئے
اب سہل ہو گیا جدا ہونا



Sunday, October 27, 2013

نفس وہ خون خوار وحشی ہے

نفس وہ خون خوار وحشی ہے
بھوک بڑھتی ہے جس کی کھانے سے
پیٹ تو ریت سے بھی بھر جائے

جسم کو جسم کا وہ چسکا ہے
ایک لمحے کے لمس کی خاطر
موت کی حد پھلانگتے دیکھا


اپنی فطرت سے خوف آتا ہے
یعنی خلوت سے خوف آتا ہے
خواہشیں بے لگام کر دے گی
تیری صورت سے خوف آتا ہے

Saturday, October 26, 2013

دل پہ کچھ اختیار تھوڑی ہے

دل پہ کچھ اختیار تھوڑی ہے
دھکا شاہی ہے پیار تھوڑی ہے

نفع و نقصان کا سوال نہ کر
عشق ہے کاروبار تھوڑی ہے

کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ
جوخدا پر یقین رکھتے ہیں

معبدوں میں صبح صبح جا کر
رب سے راز و نیاز کرتے ہیں

کلمہ رد محبت کوئی سکھلائے مجھے

زندگی کیا تھی بیا باں تھا کوئی بے آباد
اپنے ہاتھوں سے ہی تزئین و آرائش کی ہے

راحتیں ایسی کوئی خاص نہیں ہیں تجھ میں
بات اتنی ہے کہ رستے میں کئی صحرا تھے

دل کی نقدی بھرے بازار میں لٹ سکتی ہے
حسن جادوہے کسی وقت بھی چل سکتا ہے

کلمہ رد محبت کوئی سکھلائے مجھے
عمر کے ساتھ ارادے بھی تو کمزور ہوئے


حسن کا بے پناہ سرمایا

خاک تھا خاک سے نمو پایا آیا
خاک کو خاک میں ہی دفنایا

تھا جو مکھی کے پر سے بے توقیر
جانے کس زعم پر ہے اترایا

کچھ ہمیں راستے میں روندھ گئے
کچھ کو ہم نے بھی یونہی ٹھکرایا

ہر کوئی اپنے خواب کے پیچھے
ہر کوئی اپنے پیٹ کا جایا

عشق کے نام پر ہوس نے ہی
ہر جگہ اپنا کاروبار چمکایا

ہم نے بھی ایک بار دیکھا تھا
حسن کا بے پناہ سرمایا

آنکھ برداشت کر سکی نہ اسے
دل دھڑکتے دھڑکتے چکرایا


دیکھا تو آنکھ سے چھلکنے لگا
سوچا تو سوچ میں نہ لا پایا

سر میں جھکڑ چلے بلاوں کے
گویا طوفان دشت میں آیا






Friday, October 25, 2013

سر میں ایسے بھرا ہے عشق ترا

سر میں ایسے بھرا ہے عشق ترا
جیسے صحرا میں آندھی بھرتی ہے
نظر آئے نہ کچھ سمجھ آئے
دھول ہی دھول ہر طرف ہے بس
سچ ہی کہتے تھے  مولوی حضرات
ایک لمحہ لگا قیامت کو!!!!!!!!!!!
سر میں ایسے بھرا ہے عشق ترا

کیا ضروری ہے بس اک سمت میں چلتے جانا؟؟؟



یہ جو دریا ہیں سبھی بہتے ہیں ساگر کی طرف
کیا ضروری ہے بس اک سمت میں چلتے جانا؟؟؟

ہم سے کچھ سر پھرے جھکڑ بھی تو ہوتے ہیں جو
صبح سے شام تلک خاک اڑاتے رہیں یونہی ہر سمت
دل لگی چلتی رہی دشت سے دیوانوں کی

کچھ ندی نالے جو دریا سے الجھ پڑتے ہیں
انو نکل پڑتے ہیں پھر بانجھ زمینوں کی طرف
بانجھ کی گود پری کرتے ہیں مر جاتے ہیں


یہ جو دریا ہیں سبھی بہتے ہیں ساگر کی طرف
کیا ضروری ہے بس اک سمت میں چلتے جانا؟؟؟

Thursday, October 24, 2013

مہمان چاہے جو بھی ہو رحمت خدا کی ہے

آیا ہے درد اٹھیے گلے سے لگائیے
مہمان چاہے جو بھی ہو رحمت خدا کی ہے

جینے کا اہتمام بھی آسان تو نہیں

روٹی بھی دستیاب ہو کپڑا، مکاں بھی ہو
جینے کا اہتمام بھی آسان تو نہیں

Tuesday, October 22, 2013

وقت کا ہاتھ تھامنا کیسا

بس یہی سوچ کے ہر درد سہے جاتے ہیں
زندگی رکتی نہیں رکتی نہیں رکتی نہیں

زندگی! اک دفعہ بتا ہی دے
اور کیا کیا ہے تیرے دامن میں

وقت رکّا ہے اور نہ رکّے گا
ہم کو رکنا پڑے کا بالآخر
وقت کا ہاتھ تھامنا کیسا؟؟؟


Monday, October 21, 2013

مجھے افسوس ہے مگر ہمدم

اس سے پہلے کہ میری آنکھوں میں
تیرے چہرے کا رنگ روپ آئے
اس سے پہلے کہ تیری آنکھوں کو
کوئی پچھتاوا گیلا کر جائے
میری آمد سے تھوڑا پہلے ہی
سر پہ گھونگھٹ نکال لینا تم
اور قرآنِ پاک کے سائے
اپنے پی گھر سدھار جانا تم
مجھے افسوس ہے مگر ہمدم
کچھ فسانے بس ایسے ہوتے ہیں
انہیں جتنا بھی طول دے دیں وہ
نامکمل ادھورے رہتے ہیں

بات کس کی تھی کس سے کر بیٹھے

کچھ بھی ملتا نہیں خیا لوں سا
کوئی ہوتا نہیں مثالوں سا
بات کس کی تھی کس سے کر بیٹھے
عشق اپنا خراب حالوں سا

وہ زباں دفتر و مکتب سے نکالی کس نے

میں یہیں کا مرا والد بھی یہیں کا لیکن
درد ہجرت کا وراثت میں ملا ہے پھر بھی
میرے آبا نے وطن چھوڑا تھا روزی کے لیے
میری اولاد نے تہذیب و ثقافت چھوڑی

اہنی دھرتی کا قرض کیسے چکا پائے گی
یہ نئی نسل جو ماں بولی سے بیگانی ہے

وہ زباں جس نے مجھے بولنا سکھلایا تھا
وہ زباں دفتر و مکتب سے نکالی کس نے

جو اہلِ زر ہیں وہی سب سے معتبر بھی ہیں

بڑے عجیب سے معیار ہے زمانے کے
جو اہلِ زر ہیں وہی سب سے معتبر بھی ہیں

Friday, October 11, 2013

ایک لمحہ بھی سرکتا نہیں پیسوں کے بغیر

وقت! سرکاری دفاتر کا کوئی رشوت خور
ایک لمحہ بھی سرکتا نہیں پیسوں کے بغیر

عمر کی فکر نہ کر عمر کہاں جائے گی
بھوک اور پیاس کا سورج نہیں ڈھلنے والا

Thursday, October 10, 2013

درد کیسا بھی ہو اور کتنی ہی شدت کا ہو

درد کیسا بھی ہو اور کتنی ہی شدت کا ہو
رفتہ رفتہ ہو ہی جاتا ہے موافق دل کے
سیکھ جاتے ہیں ہنر جینے کا وہ بے کس بھی 
کہ جنہیں کچھ بھی نہیں ملتا مطابق دل کے

Wednesday, October 9, 2013

سرخ لب چاند جبیں پھول بدن سب روٹی

ایک سادھو کو میسر نہ ہوئی جب روٹی
تو مجھے کہنے لگا دین دھرم رب روٹی

پیٹ کی بھوک نے خواہش کا گلا گھونٹ دیا
سرخ لب چاند جبیں پھول بدن سب روٹی

جو تیرے ہاتھوں سے دھل جائے میل کی صورت

ضروریات کا چابک کمر ہہ ہے اور ہم
بدکتے جاتے ہیں کولھو کے بیل کی صورت
یہ کس کے واسظے تو خون پانی کرتا ہے
جو تیرے ہاتھوں سے دھل جائے میل کی صورت

Monday, September 30, 2013

پلٹ رہیں شب و روز اس طرح جیسے

پلٹ رہیں شب و روز اس طرح جیسے
کھلی کتاب کے صفحے ہوا کی زد پر ہوں

Tuesday, September 24, 2013

زندگی قیدِ مشقت سے کوئی کم تو نہیں

مفلسی آپ کی فرقت سے کوئی کم تو نہیں
جنگ جینے کی محبت سے کوئی کم تو نہیں

زندہ رہنا بھی ہے اور رزق کمانا بھی ہے
زندگی قیدِ مشقت سے کوئی کم تو نہیں

دوڑ پڑتے ہیں صبح اٹھتے کدالیں لے کر
یہ جو مزدوری ہے آفت سے کوئی کم تو نہیں

اپنے اپنے ہی نوالوں کے تعاقب میں ہیں سب
نفسا نفسی یہ قیامت سے کوئی کم تو نہیں

قافلہ ایک مگر راہی ہیں تنہا تنہا
ساتھ ایسا بھی اذیّت سے کوئی کم تو نہیں

Saturday, September 21, 2013

مگر ضرورتیں پائوں پڑیں تو کیا کیجے

خدا گواہ کبھی مال و زر کی حرص نہ کی
مگر ضرورتیں پائوں پڑیں تو کیا کیجے

میں ایسے لوگوں کو انسان کس طرح مانوں
جو اپنے پیٹ کو بھرتے ہوئے ہی مر جائیں

Tuesday, September 10, 2013

سر پر اضافی بوجھ ہیں سر سے اتار دو

وعدے وفائیں خواہشیں خواب اور الفتیں
جب تک تمہارے ساتھ ہیں تب تک غلام ہو

غصہ ہو نفرتیں ہوں عداوت ہو حسد ہو
سر پر اضافی بوجھ ہیں سر سے اتار دو

نہ بھی آئے مضائقہ کیا ہے

نہ بھی آئے مضائقہ کیا ہے
اک تکلف ہے سانس بھی اب کے

چلنا عادت ہے چلتا رہتا ہوں
کوئی منزل نہیں رہی اب کے

Friday, August 30, 2013

اے خالقِ دوجہاں تیری پیاری دنیا میں

اے خالقِ دوجہاں تیری پیاری دنیا میں
یہ بیوقوف نہ ہوتے تو کیا کمی تھی بھلا!

Tuesday, August 27, 2013

خواب مر جائیں تو دفنا دیے جائیں فورا

خواب مر جائیں تو دفنا دیے جائیں فورا
ورنہ نس نس میں سما جاتی ہے بدبو ان کی

ان میں بدبو و تعفن کے سوا کچھ بھی نہیں
مردہ خوابوں کو کریدو گے تو کیا پائو گے

Friday, August 23, 2013

اپنے بچوں کی طرح درد کو پہچانتے ہیں

دکھ کی میراث  ملی اپنے بزرگوں سے مجھے
کہ مرا سلسلہِ نسب ہے دل تک جاتا

ایک احساس تو سرمایہ ہے اہلِ دل کا
اپنے بچوں کی طرح درد کو پہچانتے ہیں

معذرت

کہیں پر کھولتا پانی، بھڑکتی آگ کے شعلے
کہیں پر سیسہ پگھلا کر بھرا جاتا ہے کانوں میں
کہیں پر ازدہے پھنکارتے اور چیرتے بے بس گنہگاروں کے جسموں کو
کہیں پر ڈوب مرنے کو بھری ہیں خون کی نہریں
کہیں پر پیپ پینے کو
یہ کیسا خوف کا عالم ہے مذہب کی کتابوں میں
ڈرا کر اور دھمکا کر اگر مومن بنانا ہے
تو میری معذرت یارب!

Wednesday, August 21, 2013

فقط کانچ ہے دنیا کیا ہے


دل کے معیار پہ پورا ہی نہیں آتا کچھ
ارے دنیا! تیرے بازار سے کیا لینا ہمیں
طفل ناداں کے کھلونوں سے سجی منیاری
کہیں لذت، کہیں عزت کہیں شہرت تھی پڑی
شہرت و عزت و شوکت تو فقظ کاغذی تھے
ہم نے لذت کو اٹھایا تھا ہمک کر لیکن
ہاتھ میں آتے ہی چٹخی وہ بھی چوڑی کی طرح
کانچ نے خون کیے خواب گلابی ہو گئے!
کانچ ہی کانچ ہے اب آنکھوں میں اور سینے میں
مجھ سے پوچھو تو فقط کانچ ہے دنیا کیا ہے 

تنی ہوئی کسی رسّی پہ چل رہے ہیں ہم

ہر ایک لمحہ توازن بحال رکھنا ہے
تنی ہوئی کسی رسّی پہ چل رہے ہیں ہم

دو چار سال نہیں عمر بھر کا مسئلہ ہے
کہ بھوک پیاس کے سائے میں پل رہے ہیں ہم

اے میری سانسو! مسلسل رسد ضروری ہے
تمہارے چلنے سے چلتی ہے زندگی اپنی


Tuesday, August 13, 2013

عجیب دنیا ہے دیواریں کھینچ کر خوش ہے

سب اپنے اپنے وطن میں اسیر ہیں پھر بھی
بڑے ہی دل سے مناتے ہیں یوم آزادی
کسی بھی سمت چلو رستہ روک دے سرحد
!!!عجیب دنیا ہے دیواریں کھینچ کر خوش ہے

Monday, August 12, 2013

فاختہ سانپ کی سہاگن تھی

گلے لگانے سے ڈرنے لگے ہیں شہر کے لوگ
نماز عید کسی گائوں میں پڑھی جائے

جاں نہ جاتی تو اور کیا ہوتا
فاختہ سانپ کی سہاگن تھی

Thursday, August 8, 2013

یہ ایک دائرہ جو ہاتھ سے حلق تک ہے

یہ ایک دائرہ جو ہاتھ سے حلق تک ہے
اسی پہ چلتے ہوئے عمر کاٹ دی ہم نے

Wednesday, August 7, 2013

بچھڑتے وقت عجب لین دین ہوتا ہے

بچھڑتے وقت عجب لین دین ہوتا ہے
وہ باو فا مرا سینہ ہی کر گیا خالی

بڑی حقیر تھی مٹی کے گگو گھوڑوں سی

سب اپنے اپنے ہی محور کے گرد گھومتے ہیں
پبھیریوں کی نماش ہے لوگ تھوڑی ہیں

میں کس کے ساتھ چلوں کس کا آسرا مانگوں
بقا کی جنگ سے دو چار ہے یہاں ہر شخص

بڑی حقیر تھی مٹی کے گگو گھوڑوں سی
میں ایس دنیا سے کب تک بھلا لگاتا جی

میری تھالی میں حقارت کی ملاوٹ مت کر


کیسے کھائوں کے گلے میں ہی اٹک جاتا ہے
میرے کھانے میں حقارت کی ملاوٹ مت کر
 جان پیاری ہے مگری اتنی بھی پیاری نہیں ہے
اے سخی ایسی سخاوت کو اٹھا لے مجھ سے


کہاں یہ وقت کا پتھر کہاں نحیف سے ہاتھ
یتیم بچے نے خوابوں میں عمر کاٹی ہے


کبھی سانسوں کا کبھی دل کا کبھی لوگوں کا
اس قدر شور ہے ، جیتے ہیں تو کیا جیتے ہیں

اک اذیت ہے ترا پیار مجھے پیار نہ کر
کہ جو بے وقت کی پیتے ہیں وہ کیا پیتے ہیں


یہ جو اک ہونے نہ ہونے کا کوئی کھیل سا ہے
ہم اسی کھیل کے مہرے ہیں سو پٹ جائیں گے

یہ جو ہونے نہ ہونے کا کوئی کھیل سا ہے
ایسے لگتا ہے مرا نام مٹا ڈالے گا

Wednesday, July 31, 2013

زند گی اب رفو نہیں ہو گی

قبر تک آ گئے گٹھڑی سی اٹھائے سر پر
زندگی ہم نے تجھے پھول کے دیکھا ہی نہیں

کچھ خرابی ضرور ہے اس میں
زندگی راس کیوں نہیں آتی

سینکڑوں لاکھوں چھید ہیں اس میں 
زند گی اب رفو نہیں ہو گی

اس قدر غم ہے پھر بھی زندہ ہوں
یہ بھی کچھ معجزے سے کم تو نہیں

Tuesday, July 23, 2013

بعد ازاں رزق اٹھ گیا دل کا

جب تلک آنکھ بے بصیرت تھی
زندگی کافی خوبصورت تھی

عشق اس کا تھا خواہشوں سے اٹا
اور مجھے خواہشوں سے نفرت تھی

بعد ازاں رزق اٹھ گیا دل کا
وہ مری آخری محبت تھی

پیاز کی طرح چھیلتے ہی گئے
زندگی جستجو کی حیرت تھی

Monday, July 22, 2013

ہاں یہی سچ ہے سو کہنے میں تامل کیسا

ہاں یہی سچ ہے سو کہنے میں تامل کیسا
 میں تجھے بھول چکا بھول چکا بھول چکا

سو کہا سنا معاف کر دیا کیجیے

جسم و ذہن کا فاصلہ

جہاں میں ہو تا ہوں
وہاں پہنچنے میں کئی سال سگتے ہیں مجھے
اور جب پہنچتا ہوں تو وہاں  میں ہوتا نہیں
سو کہا سنا معاف کر دیا کیجیے

Friday, July 19, 2013

چاند جاگے ہے رات بھر تنہا

راستے منزلیں سفر تنہا
دھول اور دھوپ اور شجر تنہا

کیسا منظر ہے میرے چاروں طرف
لاکھوں اجسام ہیں مگر تنہا

رات کروٹ بدل کے سوتی رہے
چاند جاگے ہے رات بھر تنہا

روز خوابوں میں دعوتیں بھیجیں
منزلیں بھی ہیں کس قدر تنہا

ریت کے ذرے پاوں سے لپٹیں
"کہیں مت جانا چھوڑ کر تنہا"





Monday, July 15, 2013

درد رہنے لگا ہے اب سر میں

پہلے تیرا خیال رہتا تھا
درد رہنے لگا ہے اب سر میں

Sunday, July 14, 2013

بڑی کوفت ہے جینے میں

خالی خآلی سا 
خالی برتن ہے
کچھ بھی نہیں ہے سینے میں
سانس بھی لگتی 
ہے مشقت اب
بڑی کوفت ہے جینے میں

آج یکسر میں محبت سے نکل آیا ہوں

ایسا لگتا ہے کوئی دشت ہوں بے آب و گیاہ
یا خلائوں کا اندھیرا ہوں خموش اور سیاہ

یا کوئی قبر ہوں بے نام و پتہ لاش لیے
یاکوئی زخمی ہوں تکلیف نہ آرام جسے

یا وہ تارہ ہوں جو لپکا ہو زمیں کی جانب
اور رستے میں ہی رستے کی نذر ہو گیا ہو

یا وہ رہرو ہوں کہ جو شوقِ سفر سے سر شار
اپنی منزل کہیں راہوں میں ہی چھوڑآیا ہو

کبھی لگتا ہے کہ میں ہوں کبھی لگتا ہے نہیں
کوئی سایہ ہوں جو چھپتا پھرے سورج سے سدا

مختصر یہ کہ عجب کشمکشِ زیست ہے آج
آج یکسر میں محبت سے نکل آیا ہوں

وہ بھی اب عام ہوئے تھے جو کبھی خاص الخواص

وہ بھی اب عام ہوئے تھے جو کبھی خاص الخواص
زندگی سے تو بھروسہ ہی مرا اٹھ گیا اب

Thursday, July 11, 2013

تنگ آئے اس قدر کہ محبت ہی چھوڑی دی

چشم و لب و شباب کی چاہت ہی چھوڑ دی
محبوب اور شراب کی عادت ہی چھوڑی دی

اک کشمکش سی رہتی تھی سوچوں میں رات دن 
تنگ آئے اس قدر کہ محبت ہی چھوڑی دی

کل مل کے رو پڑی مجھے تنہائی اور کہا
جائوں کہاں کہ یاروں نے مہلت ہی چھوڑی دی

جنگل میں لاکھ عیب ہوں آزادیاں تو تھیں
تہذیب کے غلاموں نے فطرت ہی چھوڑی دی

بس فیکٹری کے پرزے ہیں گھستے ہیں روزوشب
لوگوں نے زندگی کی حرارت ہی چھوڑ دی

تنگ آئے اس قدر کہ محبت ہی چھوڑ دی

اک کشمکش سی رہتی تھی آٹھوں پہر ہمیں 
تنگ آئے اس قدر کہ محبت ہی چھوڑ دی

Wednesday, July 10, 2013

خود اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک آئو نا!

ہماری ذات بجھی راکھ کے برابر ہے
نہ جس سے ہاتھ جلیں اور نہ روشنی پھیلے

الٹ پلٹ کے ہمیں کچھ نہیں ملے گا تمہیں
خود اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک آئو نا!

Sunday, July 7, 2013

یہ بھی ہو سکتا ہے مذہب خوف کا ہی فلسفہ ہو

یہ بھی ہوسکتا ہے رب ہو اور سب کچھ دیکھتا ہو
یہ بھی ہو سکتا ہے مذہب خوف کا ہی فلسفہ ہو

یہ بھی ہو سکتا ہے دنیا کائیناتی حادثہ ہو
یہ بھی ہو سکتا ہے شاید حادثہ اک تجربہ ہو

یہ بھی ہوسکتا ہے جنت نیک کاموں کی جزا ہو
یہ بھی ہوسکتا ہے جنت حسرتوں کاتخلیہ ہو

یہ بھی ہو سکتا ہے روحیں وقت سے باہر پڑی ہوں
اور وقت اپنے ازل سے اور ابد سے ماورا ہو

یہ بھی ہوسکتا ہے روحیں اینٹ پتھر کی طرح ہوں
سوچنا اور دیکھنا بس جسموں کا ہی مشغلہ ہو

یہ بھی ہو سکتا ہے ہم سب جسم واحد کے حصص ہوں
جینا مرنا انقسامِ اندروں کا سلسلہ ہو

ربا جیت گیا تو اور ہار گیا میں

مظلوم کے حق میں بہت لڑا  میں لیکن آخر
ربا جیت گیا تو اور ہار گیا میں

ہم تو رب سے ہارے

دھوپ ہے شعلوں سی
چھاوں ہے کیکر کی

عشق ہے سودائی

---------

پینگ ست رنگوں کی
آسماں پرجھولے 

حسن ہے پرچھائیں

-----------

کس نے چھو کر دیکھا
پیار اور جذبوں کو

رشتے ہیں مفروضے

---------

قسمتیں ڈوریں  سی
اور ہم پتلی سے

بے ارادہ ناچیں

----------------

زندگی چلتی ہے 
جسموں جسموں پیہم

موت ہے افسانہ

----------------

گھونسلہ چیلوں کا
بچے ہیں بلبل کے

ہم تو رب سے ہارے

دل پہ بوجھ کیا رکھیں ، ہم تو خود پہ بھاری ہیں

خاک سے ملے تھے ہم - خاک میں ملے آخر
آنکھوں کو ہی خوابوں سے ہو گئے گلے آخر

کھودنا پہاڑوں کا عادتِ جنوں پیشہ
مجنووں کو وحشت سے کیا ملے صلے آخر

عشق ہو کہ نفرت ہو، دل پہ بوجھ ہیں دونوں
دل پہ بوجھ کیا رکھیں ، ہم تو خود پہ بھاری ہیں

ہم اپنے ہاتھوں سے خود اپنے پنکھ کاٹ آئے

قفس میں بند کرو یا ہمیں کھلا چھوڑو
ہم اپنے ہاتھوں سے خود اپنے پنکھ کاٹ آئے

نگاہ  وجسم کجا روح تک غلام ہوئی
کچھ ایسی قید ہے اب موت بھی چھڑا نہ سکے


---------------------------


تعمیر ہو سکے نہ ہی مسمار ہو سکے
پہلی ہی اینٹ ٹیڑھی تھی رکھی بھی خود ہی تھی

خوابوں کے پیرہن میں تھی خواہش چھپی ہوئی
دل جس کو کہہ رہے تھے ہوس کا سفیر تھا

Thursday, July 4, 2013

اور اس لڑائی کا خمیازہ عمر بھر بھگتا

بس ایک بار لڑے تھے نصیب سے اپنے
اور اس لڑائی کا خمیازہ عمر بھر بھگتا

گر زندگی یہی ہے تو اس زندگی پہ خاک

سر پٹ بھگائے جاتی ہیں مجبوریاں ہمیں
کچھ پل کو سانس روک لوں اتنی مجال کیا

گر زندگی یہی ہے تو اس زندگی پہ خاک

Tuesday, July 2, 2013

پس اب حوالہ تقدیر کر دیا خود کو

میں بھاگ بھاگ کے اکتا گیا تھا تھک گیا تھا
پس اب حوالہ تقدیر کر دیا خود کو

Monday, July 1, 2013

چاند سورج زمیں ہیں چکرائے


سیدھی رہ سے بھٹک گیا قصدا
میری فطرت میں ہی بغاوت تھی

زندگی انتخاب کم نظراں
مجھ کو بے مائیگی سے نفرت تھی

دل میں اب کچھ نہیں ہے کچھ بھی نہیں
وہ مری آخری محبت تھی


----------------------------------

چاند سورج زمیں ہیں چکرائے
وقت کا راز ان سے باہر ہے