کیوں مغز کھپاتے ہو
کیوں وقت گنواتے ہو
یہ دنیا نہ سمجھے گی
یہ لوگ نہ مانیں گے
انسان کی شکلوں میں
پتلی کے تماشے ہیں
یہ ٹین کے بندر ہیں
یہ کاٹھ کے گھوڑے ہیں
اور شور جو کرتے ہیں
سب کاغذی طوطے ہیں
اقدا ر و روایت پر
لڑتے ہیں جھگڑتے ہیں
پڑھ پڑھ کے کتابوں سے
یہ فیصلے کرتے ہیں
جو دل پہ لکھی رب نے
اس بات کو کیا جانیں
یہ جسموں کے قیدی ہیں
جذبات کو کیا جانیں
الفاظ کے کوزہ گر
احساس کو کیا جانیں
آنکھوں کی چمک دیکھیں
لہجے کی کھنک دیکھیں
جو سینے کے اندر ہیں
اس آگ کو کیا جانیں
ہنستے ہوئے چہروں کے
دن رات کو کیا جانیں
کیوں مغز کھپاتے ہو
کیوں وقت گنواتے ہو
یہ محبت نہ ہو گی ہم سے
یہ محبت ہے نام کی بس
اصول پہلے سے طے ہیں جس کے
عمر کی بھی حد ہے اس میں
مذہب جس میں دیوارکی صورت
لاج اس میں ہے غیرت اس میں
طریقے سارے ہی فلمی جس میں
دل بیچارے کے ساتھ دیکھو
کیسے کیسے مذاق یہاں پر
دل کے نام پہ میر ے یارا
یہ خیانت نہ ہو گی ہم سے
یہ محبت نہ ہو گی ہم سے
یہ محبت ہے نام کی بس
منظر: گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کے احسات جس کو شادی کہ بعد پتہ چلتا ہے کہ اس کا شوہر یا محبوب تو عادی مجرم اور نفسیاتی مریض ہے- اس کے پاس واپسی کے سارے راستے بند ہیں اور آگے بھی مایوسی کی اندھی غار ہے
بکھرتی ہے تو خوشبوئوں پہ کچھ قابو نہیں رہتا
محبت پھول جیسی ہے
بھٹکتی ہے تو کانوں میں دبا کر انگلی چلتی ہے
بہت گھمسان رستوں سے بنا دیکھے گزرتی ہے
محبت بھول جیسی ہے
کسی کم سن جوانی سے جو انجانے میں ہو جائے
گلی کوچوں میں اڑتی ہے
یہ پیروں سے لپٹتی ہے
ہوا کا رخ بدلنے پر، یہ اپنا در بدلتی ہے
محبت دھول جیسی ہے
زندگی سفر میں ہے ، آدمی مسافر ہے
جس طرح بھی ممکن ہو
اس نے چلتے جانا ہے
وقت کے بہائو میں
ہم نے بہتے جانا ہے
رزق ہو تعلق ہو
یہ تو بس بہانے ہیں
آدمی کی قسمت میں
کو بکو بھٹکنا ہے
دردبدر بہکنا ہے
دو قدم مسافت پر
راستہ بدلنا ہے
راستہ نہ بدلے بھی
تو بھی اس کو جانا ہے
عمر بھر کی سنگت کو
ایک پل نہیں لگتا
سامنے نگاہوں کے
سانسیں ٹوٹ جاتی ہیں
گرہیں چھوٹ جاتی ہیں
ہم بھی کتنے پاگل ہیں
رزق کو ، تعلق کو
جوڑ جوڑ رکھتے ہیں
اور بھول جاتے ہیں
انتہا ملن کی تو ، ٹوٹنے کے اندر ہے
زندگی سفر میں ہے ، آدمی مسافر ہے
اجنبی تو ہو لیکن
اجنبی کہوں کیوں کر
چاہ کےمحبت کے
سارے خواب ہم سے ہیں
رسم ہے زمانے کی
عشق کو دبا رکھنا
بارشوں کے موسم میں
حبس سا بنا رکھنا
قید کے اذیت کے
سب حساب ہم سے ہیں
سادگی بھی ہم سی ہے
عاجزی بھی ہم سی ہے
اور خوشی کے موسم میں
یہ ہنسی بھی ہم سی ہے
پھول مسکراہٹ کے
جب کبھی بھی کھلتے ہیں
ہونٹ کھینچ دیتے ہیں
آنکھ میچ دیتے ہیں
دانت جھانک لیتے ہیں
سانس سانس جینے کے
سارے باب ہم سے ہیں
ہر برس جنم دن پر
ہم بھی سوچتے ہیں اور
تم بھی سوچتے ہو گے
اس خدائے برتر نے
ہم کو آسمانوں سے
کس لیے اتارا ہے
کس لیے بنا یا ہے
زیست کے تعلق کے
سب سوال ہم سے ہیں
سب جواب ہم سے ہیں
اجنبی تو ہو لیکن
اجنبی کہوں کیوں کر
مجھے خدا نہ کرو تم، مجھے خدا نہ کرو
تمہاری بندگی مجھ کو تو مار ڈالے گی
کہاں یہ ظرف کہ اتنے گناہ معاف کروں
کہ مجھ میں بوجھ اٹھانے کا حوصلہ کب ہے
کہ میں تو خود ہی کسی گود کی تلاش میں ہوں
تمہارے سجدے مرے پائوں باندھ دیتے ہیں
مجھے بتوں کی طرح قیدِ بے بسی نہ کرو
کہ میں تو خود ہی گرفتارِ جالِ قسمت ہوں
مجھے سزا نہ کرو تم مجھے سزا نہ کرو
مجھے خدا نہ کرو تم، مجھے خدا نہ کرو
کیا دیا محبت نے
چاہنے کی عادت نے
درد ہے اذیت ہے
منہ چھپاتے پھرتے ہیں
عمر بھر ندامت ہے
تم بھی کتنے پاگل ہو
وصل وصل کرتے ہو
اس جہانِ کم تر میں
وصل ہجر ہی تو ہے
ایک جبر ہی تو ہے
ہم نے ساتھ دینا ہے
عمر بھر زمانے کا
اِس طرح بھی قیدی ہیں
اُس طرح بھی قیدی ہیں
میری تیری قسمت میں
لفظ ہی محبت تھے
لفظ ہی محبت ہیں
میری تیری چاہت میں
خواب ہی حقیقت تھے
خواب ہی حقیقت ہیں
کیا کریں سرابوں کا
کیا کہیں فسانے ہیں
کیوں مجھے سمجھتے ہو
چاند اپنے آنگن کا
ہم خلا نوردوں کا
گھومنا مقدر تھا
گھومنا مقدر ہے
ہم نے چلتے جانا ہے
اپنےاپنے رستوں پر
کوئی میرا محور ہے
کوئی تیرا محور ہے
ماتھے پر جسم کے دام لکھے
کیوں قریہ قریہ پھرتے ہو
ہاتھوں میں فن کی کتاب لیے
تم کس کو ڈھونڈتے رہتے ہو
یہ دنیا چور بازاروں کی
یہ دنیا حرص کےماروں کی
یاں ذرا ذرا سی باتوں پر
سرتن سے جدا ہو جاتے ہیں
یاں کھود کے پچھلی قبروں کو
لاشوں کو پیٹا کرتے ہیں
تم پاگل ہو دیوانے ہو
کیا باتیں بکتے پھرتے ہو
انسان جسے تم کہتے ہو
جنگل سے بھاگ کے آیا ہے
اور شہر شہر دندناتا ہے
یہ خونی ہے ، یہ وحشی ہے
اس وحشی کو زنجیر ڈلے
اس وحشی کو زنجیر ڈلے
Written on Sialkot Incident........................
کسی ٹوٹے شجر کی صورت تھی
اس کی الفت فقط ضرورت تھی
ہم جسے چاہ سمجھا کرتے تھے
جسم کی ہوس تھی کدورت تھی
جیت کر ہم نے راز پایا ہے
ہار اس سے بھی خوبصورت تھی
دیکھنے میں چٹان جیسی تھی
بھربھری ریت کی جو مورت تھی
ساری دنیا کا کیا قصور اس میں
ایک سادہ، بھلی سی صورت تھی
ہم سفید پوشوں کی
چاہتیں بھی ہم سی ہیں
نام لحاظ کے رشتوں میں
عمر گزاردیتے ہیں
دو وقت کی روٹی میں
محبوب پال لیتے ہیں
کس کے پاس جانا ہے
کس سے دور رہنا ہے
بچپن سے طے ہو جاتا ہے
پھر بھی خود فریبی کو
اور جگ فریبی کو
ڈھونگ رچاتے پھرتے ہیں
ہم پیار جتاتے پھرتے ہیں
وقت ایک بہائو ہے جو ہر پل حقیقت کو عدم میں دھکیلتا جاتا ہے- ہر آنے والا کل ایک غیر شفاف چادر کی طرح گزرے ہوئے کل کو ڈھانپ لیتا ہے- یوں دن مہینوں میں، مہینے سالوں میں اور سال صدیوں میں بدل جاتے ہیں۔ اور کس کی مجال ہے کہ اتنی انگنت چادروں کے نیچے دبے ہوئے موہوم ماضی کو دیکھ سکے۔وقت کی چرخی کو الٹا گھما سکے- ایسا صرف وہی ذات کر سکتی ہے جس نے وقت کو پیدا کیا – وقت کے اس بے کراں سمندر میں فانی انسان کی فانی شہرت اور بقا کے کیا معانی! -
مر گیا آج جو کل تک مرے ہمراہ رہا
پھر بھی لگتا ہے کہ زند ہ ہے وہ ہم سب کی طرح
اس کے دروازے پہ دستک تو ذرا دینا تم
مسکراتا ہوا پردے کو ہٹا ئے گا وہ
پیٹھ پر ہاتھ رکھے قہقہ لگائے گا وہ
اب بھی لگتا ہے گھنے پیڑ کی چھائوں میں وہ
ہاتھ میں شاخ لیے پائوں پسارے ہو گا
بات پر بات بنانا تو ہے عادت اس کی
بات پر بات بناتا ہو گا ہنس ہنس کر وہ
لوگ کہتے ہیں کہ دفنا بھی چکے ہیں اس کو!!
گلے کٹ جائیں رشتوں کے
محبت راکھ ہو جائے
ذرا سی بد گمانی سے
سبھی کچھ خاک ہو جائے
طبیعت کیا ، جبلت کیا
سبھی باتیں ارادوں کی
کدورت دل میں آجائے
تو صورت کا تعارف کیا
بغا وت پر اتر آئے
تو برف بھی آگ ہو جا ئے
ذرا سی بد گمانی سے
سبھی کچھ خاک ہو جائے
اے گلابِ جاں ، اے گلابِ من
مری بات سن، مری بات سن
تجھے توڑ لوں یہ کہا نہ کر
مرے ساتھ ساتھ رہا نہ کر
مرے ہاتھ چھلنی ہیں اس قدر
تجھے توڑنے کی سکت نہیں
یہ لہو لہو سا بدن مرا
کوئی زندگی کی رمق نہیں
مرے ہم نوا مرے دل جگر
بڑی دیر بعد ملا ہے تو
ترے آنے سے ذارا پیشتر
کوئی خار مجھ میں چبھو گیا
کوئی موت مجھ میں سمو گیا
ابھی یہ عشق کم سن ہے
ابھی اظہار مت کرنا
جنوں کی آگ بڑھنے دو
ابھی کچھ روز جلنے دو
اگر یہ راکھ کر ڈالے
سمجھ لینا کہ ناقص ہے
سمندر میں بہا آنا
اگر کندن بنا ڈالے
سمجھ لینا کہ خالص ہے
بہت نایاب گوہر ہے
اسے بیکار مت کرنا
کسی کم ظرف کے آگے
کبھی اظہار مت کرنا
جتنے مرضی
پائوں پسارو
وقت رکا ہے
نہ ہی رکے گا
ریت کی مانند
عمر کا توشہ
ہاتھ سے اپنے
گرتا رہا ہے
گرتا رہے گا
آنکھ کا تارہ
جان سے پیارہ
یار ہمارا
لوٹ کے پھر سے
آ نہ سکے گا
مجھے خوابوں میں رہنے دو
مجھے تعبیر مت دینا
کہ تعبیروں کے کاسے میں
ندامت کے سوا کیا ہے
مرے خوابوں کی دنیا میں
مری مرضی تو چلتی ہے
مجھے مرضی میں جینے دو
مجھے تقدیر مت دینا
مجھے تعبیر مت دینا
ابھی تو درد سویا تھا
بڑی ہی مشکلوں کے بعد
کہاں سے تم چلے آئے
زمیں پہ پیر پٹخاتے
تمہاری یاد تو دل میں
یوں پائوں دابے آتی تھی
کہ آہٹ تک نہ ہوتی تھی
پہ تم تو ڈھول جیسے ہو
یہاں اب درد سوئے کیا
ابھی تو درد سویا تھا!
"جو میرا ہے
وہ سب تیرا ہے
جو تیرا ہے
وہ تو تیرا ہے ہی!"
کل باتوں باتوں ماں مجھ کو سمجھا رہی تھی
اور میں سوچ رہا تھا
گر سارے رشتے ماں سے ہوں
تو اس دنیا میں آکر
جنت کی دعائیں کون کرے
ڈھول جیسا تھا آدمی کوئی
میرے کانوں میں روز بجتا تھا
شور سے جاں بلکتی رہتی تھی
اور میں شکوے لکھتا رہتا تھا
آج وہ بھی چلا گیا دیکھو
مجھ میں اب موت سی خموشی ہے
ذات میری کہ قبر ہے کوئی
جاتے جاتے بھی جان لے گیا -------- دیکھو
مرے سامنے ٹپ ٹپ
کسی کی شکا یت خاک میں مل رہی ہے
دھیمے دھیمے سروں میں کسی کی سسسکی
پنکھے کی آواز میں گھل رہی ہے
اگرچہ لیمپ پہ اڑتے ہوئے پتنگے کے لیے
یہ بہت رقت انگیز منظر ہو گا
لیکن مرے لیے یہ اتنا معمولا اور غیر محسوس ہے
کہ مرے ذہن میں بس اتنا خیال آیا ہے
"رات کا ایک بج گیا ہو گا
آج سے کئی برس پہلے
پہلے ملن کی شب
بادل یوں دھاڑا تھا
جیسے کسی باپ کا جواں سال اکلوتا بیٹا
اچانک موت نے اچک لیا ہو
آسمان سے پاتال تک ایسے دھارے چھوٹے تھے جیسے
اگلے کئی برس تک آنسوئوں کے لیے پانی کم پڑ جا ئے گا
اس وقت مجھے یہ سب کچھ جشن لگا تھا
آج تجھ کو کھویا ہے تو بادل کا دکھ جانا ہے
اور سمجھ میں آیا
ہمارے ملنے پہ بادل کیوں رویا تھا
یہ فطرت کے نظارے
بادل موسم بجلی پھول
انسان کے کتنے ہمدرد ہیں-
کتنے خیر خواہ ہیں –
محبوبائو ں سے بھی زیادہ!
آج اک جونک سے ملا ہوں میں
عمر میں مجھ سے دوگنا ہو گی
مجھ سے کہتی کہ مجھ سے پہلے بھی
تین جسموں کا خوں نچوڑ چکی
میری آنکھوں کا رخ بدلنے کو
دکھ بھری داستاں سنانے لگی
اس کی باتوں میں کھو گیا جب میں
اس نے لہجے میں کپکپی بھر لی
اور شہ رگ پہ اس طرح جھپٹی
جیسے مرتے کی آخری ہچکی
شیر جیسے ہو بھوکا پنجرے میں
کوئی چپکے سے کھول دے کھڑکی
عمر اس کی تھی شام کا سورج
بھوک اس کی مگر یہ کہتی تھی
جونک کا پیٹ پھٹ تو سکتا ہے
جونک کی بھوک مٹ نہیں سکتی
آج اک جونک سے ملا ہو میں
عمر میں مجھ سے دوگنا ہو گی