Wednesday, July 31, 2013

زند گی اب رفو نہیں ہو گی

قبر تک آ گئے گٹھڑی سی اٹھائے سر پر
زندگی ہم نے تجھے پھول کے دیکھا ہی نہیں

کچھ خرابی ضرور ہے اس میں
زندگی راس کیوں نہیں آتی

سینکڑوں لاکھوں چھید ہیں اس میں 
زند گی اب رفو نہیں ہو گی

اس قدر غم ہے پھر بھی زندہ ہوں
یہ بھی کچھ معجزے سے کم تو نہیں

Tuesday, July 23, 2013

بعد ازاں رزق اٹھ گیا دل کا

جب تلک آنکھ بے بصیرت تھی
زندگی کافی خوبصورت تھی

عشق اس کا تھا خواہشوں سے اٹا
اور مجھے خواہشوں سے نفرت تھی

بعد ازاں رزق اٹھ گیا دل کا
وہ مری آخری محبت تھی

پیاز کی طرح چھیلتے ہی گئے
زندگی جستجو کی حیرت تھی

Monday, July 22, 2013

ہاں یہی سچ ہے سو کہنے میں تامل کیسا

ہاں یہی سچ ہے سو کہنے میں تامل کیسا
 میں تجھے بھول چکا بھول چکا بھول چکا

سو کہا سنا معاف کر دیا کیجیے

جسم و ذہن کا فاصلہ

جہاں میں ہو تا ہوں
وہاں پہنچنے میں کئی سال سگتے ہیں مجھے
اور جب پہنچتا ہوں تو وہاں  میں ہوتا نہیں
سو کہا سنا معاف کر دیا کیجیے

Friday, July 19, 2013

چاند جاگے ہے رات بھر تنہا

راستے منزلیں سفر تنہا
دھول اور دھوپ اور شجر تنہا

کیسا منظر ہے میرے چاروں طرف
لاکھوں اجسام ہیں مگر تنہا

رات کروٹ بدل کے سوتی رہے
چاند جاگے ہے رات بھر تنہا

روز خوابوں میں دعوتیں بھیجیں
منزلیں بھی ہیں کس قدر تنہا

ریت کے ذرے پاوں سے لپٹیں
"کہیں مت جانا چھوڑ کر تنہا"





Monday, July 15, 2013

درد رہنے لگا ہے اب سر میں

پہلے تیرا خیال رہتا تھا
درد رہنے لگا ہے اب سر میں

Sunday, July 14, 2013

بڑی کوفت ہے جینے میں

خالی خآلی سا 
خالی برتن ہے
کچھ بھی نہیں ہے سینے میں
سانس بھی لگتی 
ہے مشقت اب
بڑی کوفت ہے جینے میں

آج یکسر میں محبت سے نکل آیا ہوں

ایسا لگتا ہے کوئی دشت ہوں بے آب و گیاہ
یا خلائوں کا اندھیرا ہوں خموش اور سیاہ

یا کوئی قبر ہوں بے نام و پتہ لاش لیے
یاکوئی زخمی ہوں تکلیف نہ آرام جسے

یا وہ تارہ ہوں جو لپکا ہو زمیں کی جانب
اور رستے میں ہی رستے کی نذر ہو گیا ہو

یا وہ رہرو ہوں کہ جو شوقِ سفر سے سر شار
اپنی منزل کہیں راہوں میں ہی چھوڑآیا ہو

کبھی لگتا ہے کہ میں ہوں کبھی لگتا ہے نہیں
کوئی سایہ ہوں جو چھپتا پھرے سورج سے سدا

مختصر یہ کہ عجب کشمکشِ زیست ہے آج
آج یکسر میں محبت سے نکل آیا ہوں

وہ بھی اب عام ہوئے تھے جو کبھی خاص الخواص

وہ بھی اب عام ہوئے تھے جو کبھی خاص الخواص
زندگی سے تو بھروسہ ہی مرا اٹھ گیا اب

Thursday, July 11, 2013

تنگ آئے اس قدر کہ محبت ہی چھوڑی دی

چشم و لب و شباب کی چاہت ہی چھوڑ دی
محبوب اور شراب کی عادت ہی چھوڑی دی

اک کشمکش سی رہتی تھی سوچوں میں رات دن 
تنگ آئے اس قدر کہ محبت ہی چھوڑی دی

کل مل کے رو پڑی مجھے تنہائی اور کہا
جائوں کہاں کہ یاروں نے مہلت ہی چھوڑی دی

جنگل میں لاکھ عیب ہوں آزادیاں تو تھیں
تہذیب کے غلاموں نے فطرت ہی چھوڑی دی

بس فیکٹری کے پرزے ہیں گھستے ہیں روزوشب
لوگوں نے زندگی کی حرارت ہی چھوڑ دی

تنگ آئے اس قدر کہ محبت ہی چھوڑ دی

اک کشمکش سی رہتی تھی آٹھوں پہر ہمیں 
تنگ آئے اس قدر کہ محبت ہی چھوڑ دی

Wednesday, July 10, 2013

خود اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک آئو نا!

ہماری ذات بجھی راکھ کے برابر ہے
نہ جس سے ہاتھ جلیں اور نہ روشنی پھیلے

الٹ پلٹ کے ہمیں کچھ نہیں ملے گا تمہیں
خود اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک آئو نا!

Sunday, July 7, 2013

یہ بھی ہو سکتا ہے مذہب خوف کا ہی فلسفہ ہو

یہ بھی ہوسکتا ہے رب ہو اور سب کچھ دیکھتا ہو
یہ بھی ہو سکتا ہے مذہب خوف کا ہی فلسفہ ہو

یہ بھی ہو سکتا ہے دنیا کائیناتی حادثہ ہو
یہ بھی ہو سکتا ہے شاید حادثہ اک تجربہ ہو

یہ بھی ہوسکتا ہے جنت نیک کاموں کی جزا ہو
یہ بھی ہوسکتا ہے جنت حسرتوں کاتخلیہ ہو

یہ بھی ہو سکتا ہے روحیں وقت سے باہر پڑی ہوں
اور وقت اپنے ازل سے اور ابد سے ماورا ہو

یہ بھی ہوسکتا ہے روحیں اینٹ پتھر کی طرح ہوں
سوچنا اور دیکھنا بس جسموں کا ہی مشغلہ ہو

یہ بھی ہو سکتا ہے ہم سب جسم واحد کے حصص ہوں
جینا مرنا انقسامِ اندروں کا سلسلہ ہو

ربا جیت گیا تو اور ہار گیا میں

مظلوم کے حق میں بہت لڑا  میں لیکن آخر
ربا جیت گیا تو اور ہار گیا میں

ہم تو رب سے ہارے

دھوپ ہے شعلوں سی
چھاوں ہے کیکر کی

عشق ہے سودائی

---------

پینگ ست رنگوں کی
آسماں پرجھولے 

حسن ہے پرچھائیں

-----------

کس نے چھو کر دیکھا
پیار اور جذبوں کو

رشتے ہیں مفروضے

---------

قسمتیں ڈوریں  سی
اور ہم پتلی سے

بے ارادہ ناچیں

----------------

زندگی چلتی ہے 
جسموں جسموں پیہم

موت ہے افسانہ

----------------

گھونسلہ چیلوں کا
بچے ہیں بلبل کے

ہم تو رب سے ہارے

دل پہ بوجھ کیا رکھیں ، ہم تو خود پہ بھاری ہیں

خاک سے ملے تھے ہم - خاک میں ملے آخر
آنکھوں کو ہی خوابوں سے ہو گئے گلے آخر

کھودنا پہاڑوں کا عادتِ جنوں پیشہ
مجنووں کو وحشت سے کیا ملے صلے آخر

عشق ہو کہ نفرت ہو، دل پہ بوجھ ہیں دونوں
دل پہ بوجھ کیا رکھیں ، ہم تو خود پہ بھاری ہیں

ہم اپنے ہاتھوں سے خود اپنے پنکھ کاٹ آئے

قفس میں بند کرو یا ہمیں کھلا چھوڑو
ہم اپنے ہاتھوں سے خود اپنے پنکھ کاٹ آئے

نگاہ  وجسم کجا روح تک غلام ہوئی
کچھ ایسی قید ہے اب موت بھی چھڑا نہ سکے


---------------------------


تعمیر ہو سکے نہ ہی مسمار ہو سکے
پہلی ہی اینٹ ٹیڑھی تھی رکھی بھی خود ہی تھی

خوابوں کے پیرہن میں تھی خواہش چھپی ہوئی
دل جس کو کہہ رہے تھے ہوس کا سفیر تھا

Thursday, July 4, 2013

اور اس لڑائی کا خمیازہ عمر بھر بھگتا

بس ایک بار لڑے تھے نصیب سے اپنے
اور اس لڑائی کا خمیازہ عمر بھر بھگتا

گر زندگی یہی ہے تو اس زندگی پہ خاک

سر پٹ بھگائے جاتی ہیں مجبوریاں ہمیں
کچھ پل کو سانس روک لوں اتنی مجال کیا

گر زندگی یہی ہے تو اس زندگی پہ خاک

Tuesday, July 2, 2013

پس اب حوالہ تقدیر کر دیا خود کو

میں بھاگ بھاگ کے اکتا گیا تھا تھک گیا تھا
پس اب حوالہ تقدیر کر دیا خود کو

Monday, July 1, 2013

چاند سورج زمیں ہیں چکرائے


سیدھی رہ سے بھٹک گیا قصدا
میری فطرت میں ہی بغاوت تھی

زندگی انتخاب کم نظراں
مجھ کو بے مائیگی سے نفرت تھی

دل میں اب کچھ نہیں ہے کچھ بھی نہیں
وہ مری آخری محبت تھی


----------------------------------

چاند سورج زمیں ہیں چکرائے
وقت کا راز ان سے باہر ہے

Thursday, June 27, 2013

اے کاش یوں بھی ہو اک بار سب ہی غارت ہو

اے کاش یوں بھی ہو اک بار سب ہی غارت ہو
یہ کائینات نئے طور سے عمارت ہو
میں تنگ آ گیا مصروفیت سے محفل سے
جی چاہتا ہے کہ تنہائی ہو فراغت ہو
کسی کا ساتھ ہو لیکن ہوا سا ہلکا سا
کہ جس میں کوئی عداوت نہ کوئی الفت ہو
تمام عمر چلوں راستہ تمام نہ ہو
نہ کوئی دیر نہ عجلت سفر میں راحت ہو
سکوت ایسا کہ دھڑکن بھی شور لگتی ہو
کنارِ آب کہیں چاند پر سکونت ہو
حسین لوگ ہوں لیکن خموش بیٹھے ہوں
نہ کوئی شکوہ شکایت نہ کوئی حاجت ہو
ہوس پرست ہو عاشق ہو شرط اتنی ہے
تعلقات میں نرمی ہو اور نزاکت ہو
نگاہ ٹھنڈی ہو ایسی سکون آجائے
لبوں میں شہد سے بڑھ کو کوئی حلاوت ہو
ہوا چلے تو بدن ڈولتا پھرے ایسے
کہ جیسے پانی پہ کاغذ کا پھول تیرت ہو

تاروں کے ساتھ رات بسر کرتے تھے کبھی

بجلی نے بند کمروں میں محبوس کر دیا
اتنی گھٹن کہ سوچ بھی محدود ہو گئی

تاروں کے ساتھ رات بسر کرتے تھے کبھی

بالفاظِ دگر نادان تھے ہم

بہت ایماندارانسان تھے ہم
بالفاظِ دگر نادان تھے ہم

!!!!یا سات رنگ بکھرے تھے یا ایک بھی نہیں


غائب ہوئے کہ کہ جیسے ہو قو سِ قزح کوئی
!!!!یا سات رنگ بکھرے تھے یا ایک بھی نہیں

ہے بد نصیبی اگر ہم سفر ملے ایسا

ہے بد نصیبی اگر ہم سفر ملے ایسا
جو چل سکے نہ ہی منزل سے کم پہ راضی ہو

Wednesday, June 26, 2013

!!عرصہ ہوا ہے گائوں کا چکر نہیں لگا

اک فاختہ جو گاتی تھی یوسف کنویں میں ہے
شدت سے یاد آنے لگی جانے کیوں مجھے

!!عرصہ ہوا ہے گائوں کا چکر نہیں لگا

خوابوں میں روز آنے لگے ہیں پپیہے بھی
بیلوں کی سبک چال بھی گڈے کے پہیے بھی
لوسن کے سبز چارے پہ شبنم کی بوندیں بھی

!!عرصہ ہوا ہے گائوں کا چکر نہیں لگا

شیشم کی ٹہنیوں پہ گلہری کا کھیل تھا
پانی پہ جان دیتے تھے، بگلے سفید تھے
اور چاند چاند کرتی تھی، چوکور کالی تھی

!!عرصہ ہوا ہے گائوں کا چکر نہیں لگ



Tuesday, June 25, 2013

سب اہلِ دل بھی یہاں اب نظر کے مارے ہیں

امیر بھی ہے ذہیں بھی زباں کی شیریں بھی
بس ایک حسن کی قلت ہے سو وہ کچھ بھی نہیں

سب اہلِ دل بھی یہاں اب نظر کے مارے ہیں

کہ جستجو ہے ملے آخری کنارہ اب

کوئی نہیں ہے یہاں ہمسفر ہمارا اب
بس ایک راہ گزر ہی ہے سہارا اب
چلے چلو کہ جہاں تک یہ رہ گزر جائے
کہ جستجو ہے ملے آخری کنارہ اب

Monday, June 24, 2013

میں اپنے لوگوں میں ہوں کس قدر پرایا سا

زبان رکھتا ہوں میں بھی، مگر خموش رہوں
کہوں بھی کیا، کہ یہاں کوئی ہم زباں ہی نہیں
میں اپنے لوگوں میں ہوں کس قدر پرایا سا

عجیب قسم کی اک دھونس ہے یہ زندگی بھی

نہ والدین ہی پوچھیں نہ خالقِ مطلق
تھما کے ہاتھ میں جبرا گنی چنی سانسیں
دھکیل دیتے ہیں اک بے کراں سمندر میں

کمر پہ باندھا ہے پٹھو کڑی شرائط کا
 کہیں پہ خوف و گماں اور  کہیں پہ لالچ ہے
ہے دھکا شاہی کا سودا یہ دوزخ  و جنت
-----
عجیب قسم کی اک دھونس ہے یہ زندگی بھی

اے مری جاں مجھے اتوار کی چھٹی دے دے

عمر بھر ساتھ نبھانا بھی تو مزدوری ہے
اے مری جاں مجھے اتوار کی چھٹی دے دے

Thursday, June 20, 2013

نہ جانے کس کا بدن ہے رکھا ہوا مجھ پر
نہ جانے کس کے ارادوں کی پاسداری ہے

مزہ تو تب ہو کہ جب چاہے روک لوں اس کو
گزرتی جائے جو خود ہی وہ میری عمر نہیں

یہ بھوک اور غریبی اتار دیجے گا

حیات چاہیے مجھ کو مگر حیات فقط
یہ بھوک اور غریبی اتار دیجے گا

کہ ہم چلے ہی نہیں وقت چل گیا ہو گا

کمر خمیدہ ہوئی سانس لڑکھڑانے لگی
مگر نگاہ میں اور دل میں بچپنا ہے وہی
کہ ہم چلے ہی نہیں وقت چل گیا ہو گا

گھسا پٹا سا ہے معمول، زندگی کیا ہے

گھڑی نے سوئی سے باندھا ہوا ہے ہم سب کو
گھسیٹے جاتی ہے جو ساتھ ساتھ آٹھوں پہر
گھڑی رکے تو ذرا سانس لے سکیں ہم بھی

صبح کے آٹھ بجے ناشتہ کرو اٹھّو
چلو چلو کہیں دفتر سے دیر ناں ہو جائے
لو ایک بج گیا ظہرانہ بن گیا ہو گا
یہ پیٹ پاپی ہے نیّت کا لالچی ہے بہت
دو چار لقموں سے اس کی زبان بند کرو 

گھڑی نے سات بجائے اٹھو چلو گھر کو
گھر آ کے پھر وہی بیوی کے روز کے شکوے
جسے تسلیاں دیتے گیارہ بارہ بجیں
ذرا جو آنکھ لگے پھر کلاک بجنے لگے
گھسا پٹا سا ہے معمول،  زندگی کیا ہے

گھڑی نے سوئی سے باندھا ہوا ہے ہم سب کو
گھسیٹے جاتی ہے جو ساتھ ساتھ آٹھوں پہر
گھڑی رکے تو ذرا سانس لے سکیں ہم بھی

یہ ایک دائرہ دن رات کا کہاں تک ہے؟


میں بھاگتا تو رہوں پر فرار ہو نہ سکوں
یہ ایک دائرہ دن رات کا کہاں تک ہے؟

Tuesday, June 18, 2013

بس ایک رد عمل ہے برا بھلا کیا ہے

جو سوچ بھی نہیں سکتے تھے ہو رہا ہے وہی
کہ روز ہو ہو کے لگنے لگا ہے ٹھیک وہی
بس ایک رد عمل ہے برا بھلا کیا ہے

عشق اچھا ہے مگر عشق ضروری بھی نہیں

شاعری کرنے کو درکار ہے احساس فقط
عشق اچھا ہے مگر عشق ضروری بھی نہیں

یہ جو شاعر ہیں

پہلے تنہائی کماتے ہیں بڑی محنت سے
اور پھر زندگی بھر کرتے ماتم اس کا

یہ جو شاعر ہیں جھگڑتے ہیں ہمیشہ خود سے

Monday, June 17, 2013

ہے میرے طفل کی آنکھوں میں کائینات مری

گلے میں ڈآل کے باہیں سنائے جب نظمیں
اڑوں ہوائوں میں اور آ سماں کی سیر کروں
ہے میرے طفل کی آنکھوں میں کائینات مری

گر پڑوں کو نہ اٹھانا انہیں مرنے دینا

گر پڑوں کو نہ اٹھانا انہیں مرنے دینا
موت سے جو بھی لڑا مارا گیا بالآ خر
ہم نے اک ڈوبنے والے کو اٹھایا ہوا ہے
اور زندہ ہیں کئی سال سے بس مر مر کر

مگر وہ موتی بضد تھا

اسے کہا تھا کہ میں خاک ہوں مجھے مت مل
مگر وہ موتی بضد تھا سو رل گیا آخر

کہ میں بادل ہوں جہاں چاہوں وہاں برسا کروں

چھوڑ آیا ہوں اسے دشت میں پیاسا تنہا
کہ میں بادل ہوں جہاں چاہوں وہاں برسا کروں

آگ جس دل کو لگے سیک اسی کو جائے

آگ جس دل کو لگے سیک اسی کو جائے
دیدہ ور تیرا ہے کیا روشنی کہتا جائے

زندگی موت کا نوالہ ہے

میں اسے زنگی نہ مانوں جو
آخرش موت میں اتر جائے 
زندگی موت کا نوالہ ہے


----------------

موت ہی ابدیت ہے باقی ہے
زندگی اتفاقی وقتی ہے

گلزار کے نام

خود سے بچھڑ کے خود کو ہی پھر کھوجتے رہے
ہجرت نصیب لوگوں کو چہرے نہ مل سکے

تقسیم کا ملال مجھے اس لیے بھی ہے
گلزار دینہ چھوڑ کے دلی چلے گئے

ستر برس کے بعد جو لوٹے وطن میں وہ
جوتے اتار مٹی سے چھوتے ہوئے چلے

بچپن کا بھولپن تو کہیں یاد رفتگاں
ہر سمت داستاں تھی کہ آنسو چھلک پڑے

قانون زندگی ہے فقط آرزو نہیں
جس دھرتی پہ اگا ہو، اسی دھرتی پہ کٹے

لاکھوں کی شہہ رگوں کو نچوڑا تو پھر بنی
وحشت کا استعارہ ہے سرحد نہ کہہ اسے

Saturday, June 15, 2013

کہ قسط قسط ہمیں آپ تو گزارئیے نا

ادھورے خواب کی مد میں ہمیں لگائیے نا
یہ جھوٹ موٹ کے افسانچے سنائیے نا

دل و نگاہ کجا اب تو جان تک آئی
!خدا کے واسطے سنجیدگی دِکھائیے نا

ہمارے ہاتھ میں گر ہاتھ دے نہیں سکتے
ہماری راہ سے ہٹیے یوں دل دُکھائیے نا

نہ کوئی شرط ملن کی نہ کوئی عہدِ وفا
یہ پنچھیوں سی لگاوٹ ہمیں دکھائیے نا

گزار دے گی ہمیں زندگی بہر صورت
کہ قسط قسط ہمیں آپ تو گزارئیے نا



Friday, June 14, 2013

میں زہر پھانک چکا تھا تمہارے آنے سے قبل


پیالہ شہد کا جھٹکا نہیں بچایا ہے
میں زہر پھانک چکا تھا تمہارے آنے سے قبل

تقسیم

تقسیم کا ملال مجھے اس لیے بھی ہے
گلزار دینہ چھوڑ کے دلّی چلے گئے

کسی کے کھو جانے کا خواب

کسی کے کھو جانے کا خواب

خدا کا شکر ہے وہ خواب تھا فقظ خواب ہی تھا
کہ میری آنکھ نہ کھلتی تو غم سے مر جاتا

Wednesday, June 12, 2013

Full text of Jiah Khan's six-page letter. the feelings leading to suicide

Page 1
"I don't know how to say this to you but I might as well now as I have nothing to lose. I've already lost everything. If you're reading this I might have already left or about to leave. I am broken inside. You may not have known this but you affected me deeply to a point where I lost myself in loving you. Yet you tortured me everyday. These days I see no light I wake up not wanting to wake up. There was a time I saw my life with you, a future with you. But you shattered my dreams. I feel dead inside. I've never given so much of myself to someone or cared so much. You returned my love with cheating and lies. It didn't matter how many gifts I gave you or how beautiful I looked for you. I was scared of getting pregnant but I gave myself completely."
Page 2
The pain you have caused me everyday has destroyed every bit of me, destroyed my soul. I can't eat or sleep or think or function. I am running away from everything. The career is not even worth it anymore. When I first met you I was driven, ambitious and disciplined. Then I fell for you, a love I thought would bring out the best in me. I don't know why destiny brought us together. After all the pain, the rape, the abuse, the torture I have seen previously I didn't deserve this. I didn't see any love or commitment from you. I just became increasingly scared that you would hurt me mentally or physically. Your life was about partying and women. Mine was you and my work. If I stay here I will crave you and miss you.
Page 3
So, I am kissing my 10-year career and dreams goodbye. I never told you but I received a message about you. About you cheating on me. I chose to ignore it, decided to trust you. You embarrassed me. I never went out, I never went with anyone else. I am a loyal person. I never met anyone with Karthik I just wanted you to feel how you make me feel constantly. No other woman will give you as much as I did or love you as much as I did. I can write that in my blood. Things were looking up for me here, but is it worth it when you constantly feel the pain of heartbreak when the person you love wants to abuse you or threatens o hit you or cheats on you telling other girls they are beautiful or throws you out of their house when you have


Page 4
no where to go and you've come to them out of love or when they lie to your face or they make you chase after them in their car. Or disrespects their family. You never even met my sister. I bought your sister presents. You tore my soul. I have no reason to breathe anymore. All I wanted was love. I did everything for you. I was working for us. But you were never my partner. My future is destroyed my happiness snatched away from me. I always wished the best for you, was ready to invest what little money I had in your betterment. You never appreciated my love, Kicked me in the face. I have no confidence or self esteem left, whatever talent whatever ambition you took it all away. You destroyed my life.

Page 5
It hurt me so much that I waited for you for ten days and you didn't bother buying me something. The Goa trip was my birthday present but even after you cheated I still spent on you. I aborted our baby when it hurt me deeply. You destroyed my Christmas and my birthday dinner when I came back. When I tried my hardest to make your birthday special. You chose to be away from me on Valentines Day. You promised me once we made it to one year we would get engaged. All you want in life is partying, your women and your selfish motives. All I wanted was you and my happiness you took both away from me. I spent money on you selflessly
Page 6
you would throw in my face. When I would cry for you. I have nothing left in this world to live for after this. I wish you had loved me like I loved you. I dreamt of our future. I dreamt f our success. I leave this place with nothing but broken dreams and empty promises. All I want now is to go to sleep and never wake up again. I am nothing. I had everything. I felt so alone even while with you. You made me feel alone and vulnerable. I am so much more than this.









تو نے ٹھکرایا تو کچھ وقت چلا میرا بھی

میں کئی سال سے اک لمحے کی تحویل میں تھا
تو نے ٹھکرایا تو کچھ وقت چلا میرا بھی

Monday, June 10, 2013

دیکھ لیجے ہمیں ہم بھی رہے تنہا تنہا


ہاتھ خالی ہی رہے سارا سمند چھانا
ناخدا شام ڈھلے گائوں کو لوٹا تنہا
ہم کہ مشہور بہت دوستی اور عشق میں تھے
دیکھ لیجے ہمیں ہم بھی رہے تنہا تنہا

بعض چہروں پہ بہت سجتا ہے دکھ درد اے دوست

بعض چہروں پہ بہت سجتا ہے دکھ درد اے دوست
غم اگر اوڑھ کے وہ نکلا، قیامت ہوگی

Friday, June 7, 2013

رشتے

زندگی راستہ اور وقت ہےصحرا کوئی
جب تلک سانس چلے پائوں بھی چلتے جائیں
رشتے ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں ایسے جیسے
کوئی آبادی کسی موڑ پہ آئے یک دم
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اوجھل ہو جائے

Wednesday, June 5, 2013

کچھ برس نوکری اب دل کی کریں گے ہم تو!

کب تلک پھرتا رہیں ہاتھ میں لے کر اسناد
دو ٹکوں کے لیے یہ زندگی گروی کب تک

کچھ برس نوکری اب دل کی کریں گے ہم تو!

Monday, June 3, 2013

تری صدا نے پکارا جب بھی میں بے زباں تھا

میں تیرے شایانِ شاں نہیں تھا اسی لیے تو
خدا نے تیری سبھی دعائوں کو رد کیا ہے
تری صدا نے پکارا جب بھی میں بے زباں تھا
سو مت سمجھنا کہ میں نے تجھ کو جھٹک دیا ہے

مری جوانی کا سارا ایندھن تمہارے چولھے میں جل بجھا ہے

مری جوانی کا سارا ایندھن تمہارے چولھے میں جل بجھا ہے
وہ شعلگی بھی تمہاری تھی اور یہ راکھ بھی اب تمہاری ہی ہے

Friday, May 31, 2013

میں آسماں کے ستارے پکڑنا چاہتا ہے

میں آسماں کے ستارے پکڑنا چاہتا ہے
مگر میں کیا کرے دنیا ہے پائوں سے لپٹی

Thursday, May 30, 2013

رہے گی روح ہمیشہ ہی گائوں سے لپٹی

کڑکتی دھوپ ہے پیڑوں کی چھائوں سے لپٹی
جنم جنم سے ہے تکلیف مائوں سے لپٹی

دل آسماں کے ستارے پکڑنا چاہتا ہے
مگر یہ کیا کرے دنیا ہے پائوں سے لپٹی

میں شہر آ تو گیا ہوں یہیں مروں گا بھی
رہے گی روح ہمیشہ ہی گائوں سے لپٹی

ہم اہلِ علم ہیں لفظوں سے راستہ پوچھیں
رہیں گی منزلیں مجنوں کے پائوں سے لپٹی

ڈرے ڈرے مرے سب لوگ غیر کے ہیں اسیر
کہ جیسے گرد ہو کوئی ہوائوں سے لپٹی


ہماری پہلی محبت تھی بے مزہ اتنی

ہماری پہلی محبت تھی بے مزہ اتنی
کہ اس کے بعد کسی سے بھی دل لگا نہ سکے
تمہارے بعد محبت نے کھینچا تانی تو کی
تمہارے بعد محبت کے ہاتھ آ نہ سکے
شباب اور جوانی بہار اور ساون
قفس کے سامنے آئے قفس میں آ نہ سکے

Monday, May 20, 2013

بہار ہو کہ خزاں ہو اداس رہنا ہے

قفس میں قید پرندے سے پوچھتے کیا ہو؟
بہار ہو کہ خزاں ہو اداس رہنا ہے

آخری بار ملا تھا وہ یوں

جوان جذبے سلامت رہیں کہ ان کے طفیل
غمِ زمانہ بھی اب سازگار لگتا ہے


ایزدی خواب کی تعبیر میں گزری ہے حیات

یعنی خواہش مری در اصل مری تھی ہی نہیں

ہم وہ کردار اضافی ہیں کسی کھیل میں جو
یونہی آجاتے ہیں منظر کے پسِ منظر میں


آخری بار ملا تھا وہ یوں
جیسے سب عیب مرء جانتا ہو

آس بے وجہ سہی کوششِ ناکام سہی

آس بے وجہ سہی کوششِ ناکام سہی
جب تلک زندہ ہیں مصروف تو رہنا ہو گا

Thursday, May 16, 2013

ہے چار لقموں کی دوری یہ بھوک کچھ بھی نہیں

ہے چار لقموں کی دوری یہ بھوک کچھ بھی نہیں
مگر غریب سے پوچھو جو ساری عمر چلے

Wednesday, May 15, 2013

یہ وقت کہتے ہیں جس کو، کوئی سمندر ہے

یہ وقت کہتے ہیں جس کو، کوئی سمندر ہے
کوئی کنارہ ہے جس کا نہ کوئی پیندہ ہے
سطح پہ تیرتے رہتے ہیں جب تلک دم ہو
قضا جب آتی ہے چپکے سے ڈوب جاتے ہیں

بھلا یہ وقت مرے ساتھ کیوں نہیں چلتا؟

ذرا سا تیز چلوں، ہانپتا پکارتا ہے
ذرا سا سست جو ہوں چھوڑ کر چلا جائے
بھلا یہ وقت مرے ساتھ کیوں نہیں چلتا؟

Tuesday, May 14, 2013

کہ کاش وقت کا گھوڑا نکیل دیتا مجھے


کئی دفعہ یہ خیال آیا دل میں شدت سے
کہ کاش وقت کا گھوڑا نکیل دیتا مجھے
کچھ ایسے پل تھے کہ سالوں ٹھہرنا تھا جن میں
کچھ ایسے سال تھے جو بائی پاس کرنے تھے

Saturday, May 4, 2013

خواب خواہش کے لبادے میں اگر آئے گا

خواب خواہش کے لبادے میں اگر آئے گا
آنکھ کے ساتھ ترا جسم بھی زخمائے گا

بیڑیاں پائوں میں اور طوق گلے میں کس کے
یار کے کوچے کبھی دار پہ کھنچوائے گا

پائوں پڑنا نہ کبھی اور نہ منت کرنا
جس نے جانا ہے بہر طور چلا جائے گا


وہ اگر جان گیا کچھ نہیں دامن میں ترے
سر کو نیچا کیے چپ چاپ بچھڑ جائے

پودا چاہت کا بھی ہر وقت نمی مانگتا ہے
پانی کم دو گے تو کچھ روز میں مرجھائے گا

زندگی جو بھی ترے ساتھ چلے گا دل سے
آخرِ کار وہ ہر حال میں پچھتائے گا

اکیسویں صدی کا روبوٹ

 ایک جنگل ہے مشینوں کا جہاں تک  دیکھوں
اور میں بھولا ہوا بھٹکا ہوا پھرتا ہوں
صنعتی دور کا انسان ہوں روبوٹ ہوں میں
-----------------------------------

کمپیوٹر کی ہی سکرین میں سمٹی ہے حیات
ہاتھ سے باندھی گھڑی سے ہی بندھے ہیں اوقات
میں نے دیکھی ہی نہیں شام کبھی اور نہ رات!!
-------------------------------------

میں تھا خائف بڑا فطرت کے حوادث سے کبھی
موسم اور قدرتی آفات پہ اب قابو ہے
لیکن اس فتح میں خوابوں کو بہت خون ہوا
---------------------------------------

مجھ کو فطرت نے کیا ملک بدر کچھ ایسے
چاندنی رات سے انسانوں سے اور پھولوں سے
اب ملاقات کی تاعمر کوئی آس نہیں
---------------------------------------

ایک بے روح سے ڈھانچے کی ہے نسبت مجھ سے
جس میں احساس ہے جینے کا نہ مرنے کا اب
شکل انسانوں سے ملتی ہے، حقیقت یوں ہے
فیکٹری کے کسی انجن کا ہی اک پرزہ ہوں


Thursday, May 2, 2013

چلے جہاں سے تھے اب بھی وہیں پہ ہیں شاید


جہانِ عشق و وفا آدمی کے بس کا نہیں
ہر ایک سانس پہ دھڑکا ہے زندگی کا جسے
خدا ہمیشہ رہا ہے ہمیشہ ہی ہو گا
سو اس کے ساتھ تعلق بنانا چاہیے تھا
مگر یہ راستہ مشکل تھا اور ہم سیدھے
بھلا یہ کس طرح ممکن تھا سرخرو ہوتے؟
قدم قدم پہ گماں اور بے یقینی تھی
طرح طرح کے مذاہب تھے راہ میں حائل
تمام عمر کسی دائرے میں چلتے رہے
چلے جہاں سے تھے اب بھی وہیں پہ ہیں شاید

مجھے عادت ہی نہیں ہے تری ناراضگی کی

ابل رہی ہیں کہیں آنکھیں ، اس میں حیرت کیا
بچھڑ گیا ہوگا کوئی بدل گیا ہو گا

زمین زادے بھلا کیا نبھائیں گے رشتے
ہر ایک سانس پہ سوچیں جو فائدہ اپنا

چٹخ گیا ہے کوئی آئینہ تو کیا غم ہے
کسی نے سچ ہی کہا "دل کا استعارہ ہے

وہ بد دعائیں مجھے رہا ہے اور میں چپ
یہ سوچتا ہوں کہ دنیا سا ہو گیا وہ بھی

تیرے شکووں کا مرے پاس نہیں کوئی جواب
اس قدر اجنبی لہجے میں تکلم کیا ہو؟
مجھے عادت ہی نہیں ہے تری ناراضگی کی

Monday, April 29, 2013

جب اپنے آپ سے نکلے گا تب یہ جانے گا

وفا کرو گے تو پچھتائو گے یہ لکھ لیجیے
محبتوں میں وفا ہی عذاب ہوتی ہے

/ بنتی ہے


یہ تیرا عشق ترے ذہن کے ہی اندر ہے
جب اپنے آپ سے نکلے گا تب یہ جانے گا

Saturday, April 20, 2013

خود اپنے آپ کو ضائع کیا کتابوں سے

خود اپنے آپ کو ضائع کیا کتابوں سے
جو بچ گیا تھا تلاشِ معاش میں خرچا
محبتیں کہ مرے جسم و جاں کا حصہ تھیں
کبھی کبھی مجھے ملتی ہیں اجنبی کی طرح
تکلفات نے فطرت کو یوں اتار دیا
کہ جیسے سانپ اتارے ہے کینچلی اپنی
ہزار قسم کے رشتے، کہ میری آنکھوں میں
پڑے ہوئے ہیں جلائے ہوئے پتنگوں سے
فریب خوردہ آنکھیں ہیں دے رہی پہرہ
کہ جیسے راکھ میں پھر روح پھونک دے گا کوئی

گزر گئے ہیں زمانے فریب نظری میں


تلاش جس کی تھی دل کو وہ دل کے اندر تھا
تھے جس سے بھاگتے پھرتے وہ سر پہ رکھا تھا
گزر گئے ہیں زمانے فریب نظری میں
-------------------------------------------------

چلا جہاں سے مسافر وہیں پہ لوٹے گا
یہ بھاگ دوڑ تو اک رسم زندگانی ہے

------------------------------------------------------

دھواں نکلتا ہے چھت سے، چراغ جلتا ہے
سلگ رہی ہے کسی گھر میں زندگی یعنی

Friday, April 12, 2013

سوچوں تو کائینات ہے دیکھوں تو کچھ نہیں


انحراف فورم کا طرحی فی البدیہہ مشاعرہ جمعہ 12 اپریل 2013 جناب باصر کاظمی صاحب کے اعزاز میں

سوچوں تو کائینات ہے دیکھوں تو کچھ نہیں
ایسی حقیقتوں سے نہ کر آشنا مجھے

اتننے سوال بکھرے پڑے تھے گلی گلی
رستے بدل بدل کے گزرنا پڑنا مجھے

خواب وخیال   و عشق و جنوں چھوڑ چھاڑ دے
پیر مغاں نے وجد میں آ کر کہامجھے

سپر دگی کو محبت کا نام مت دیجیو


کسی کی گود میں گر جائے گا پرندہ اب
کہ زخم کھا کے بلندی پہ اڑنا مشکل ہے
سپر دگی کو محبت کا نام مت دیجیو

Thursday, April 4, 2013

پاس ہے جب سے ملاقات نہیں ہو پائی


دور تھا، ٹھیک تھا، خوابوں میں تو مل جاتا تھا
پاس ہے جب سے ملاقات نہیں ہو پائی

سوچتا ہوں کہ یہاں جھوٹ کی حد ہوتی کاش


قرب اتنا ہے کہ اک چھت کے تلے رہتے ہیں
دوری اتنی ہے کہ برسوں کی مسافت ہے ابھی
سوچتا ہوں کہ یہاں جھوٹ کی حد ہوتی کاش
لوگ کہتے ہیں مجھے تجھ سے محبت ہے ابھی

Tuesday, April 2, 2013

وضاحتوں میں ہی گزری ہے زندگی ساری


وضاحتوں میں ہی گزری ہے زندگی ساری
تعلقات نبھانا بھی اک مصیبت ہے

Sunday, March 31, 2013

زندگی تھی یہ مری یا کہ کوئی حادثہ تھا


زندگی تھی یہ مری یا کہ کوئی حادثہ تھا
ٹوٹتے تارء کی صورت جلی اور بجھ بھی گئی

Wednesday, December 26, 2012

ریت کو سونا بنانے کی یہ ضد چھوڑ بھی دے

ریت کو سونا بنانے کی یہ ضد چھوڑ بھی دے
سنگ پہ گھاس اگانے کی یہ ضد چھوڑ بھی دے
تو گلاب آنکھوں پہ باندھے ہوئے گھر سے نکلا
دھول کو پھول بتانے کی یہ ضد چھوڑ بھی دے
وہ ترا عشق نہیں عشق کی محرومی ہے
داغ سے داغ مٹانے کی یہ ضد چھوڑ بھی دے

Thursday, October 25, 2012

اس محبت نے وراثت کی طرح بانٹ دیا

جانے کس کس کو ملا کتنا مجھے علم نہیں
اس محبت نے وراثت کی طرح بانٹ دیا
مر گیا مجھ میں ہی جب میری کہانی کا پلاٹ
خود کو پھر مالِ غنیمت کی طرح بانٹ دیا

Saturday, October 20, 2012

میں کسی اور کے خوابوں کو غذا دیتا رہا

یہ سمجھ کر یہ مرے ہیں، کہ مری آنکھ میں ہیں
میں کسی اور کے خوابوں کو غذا دیتا رہا

ایک ہی درد کو رویا کرے کب تک کوئی

ایک ہی زخم سے تڑپا کرے کب تک کوئی
ایک ہی درد کو رویا کرے کب تک کوئی

جب یہ طے ہے کہ اب اس قید میں گزرے گی حیات
سر کا دیوار سے جھگڑا کرے کب تک کوئی

مرحلہ درد کا بس آہ کے بھرنے تک ہے
درد کا ماتم و گریہ کرے کب کوئی

اب وہ رفتار ہے دل کی نہ موافق حالات
خواہ مخواہ عشق کا رسوا کرے کب تک کوئی

وہ مجھے پیار سے شہزادہ کبھی چاند کہے
وہ ہے پاگل اسے ٹوکا کرے کب تک کوئی

گویا جنت سے بھی مشکل ہے قیام جنت
یعنی گندم سے کنارہ کرے کب تک کوئی

یوں بھی ہوتا ہے مرے دوست، نئی بات نہیں

یہ تو بس زعم ہے اس کا دل کا کہ جاتا ہی نہیں
بات اتنی سی ہے وہ شخص مراتھا ہی نہیں

چاند اور چاند بھی پھر عید کا ابرآلود فضا
وصل تو وصل اسے ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں
 خواب بس خواب ہیں، خوابوں کی دلیلیں مت دے
خواب تعبیر کے دامن میں سماتا ہی نہیں

یوں بھی ہوتا ہے مرے دوست، نئی بات نہیں
اس پہ ہم جان گنوا دیں جو کبھی تھا ہی نہیں
 
 

Wednesday, October 10, 2012

رخصتی

رخصتی

بہت کچھ سوچ کر میں نے
فقط اتنا ہی سوچا ہے
کہ اپنے بیچ کا رشتہ
شعوروعقل سے کچھ ماورا سا ہے!
کہ اپنی زندگی اب بھی
اسی آنگن میں بیٹھی ہے
جہاں پہلی دفعہ ہم نے
بہت حیران آنکھوں سے
یہ دنیا داری دیکھی تھی
اسی آنگن کی مٹی میں
لگا وہ نیم کا پودا
ہمیں اب بھی بتاتا ہے
کہ اس کی شاخ کے جھولے پہ کس بچے کی باری ہے
وہیں پر جابجا بکھرا ہے اپنا بھولپن، بچپن
جو راتوں کی خموشی میں
کبھی قصے سناتا ہے
کبھی جگنو پکڑتا ہے
کبھی تاروں کے جھرمٹ میں
کسی مصنوعی سیّارے کا پیچھا کرتا جاتا ہے
کبھی جادوئی لہجے میں بتاتا ہے
کہ وہ جو "ڈوئی" کی صورت
نظر آتے ہیں کچھ تارے
وہی تو دبِّ اکبر ہے
جوانی اور بڑھاپے میں
قدم رکھیں تو سوچیں بھی
کہ اب ہم نے بچھڑنا ہے!!!
تمہاری "رخصتی" یا "الوداعی" کو میں کیا مانوں!!!؟
میں تو اب تک تمہارے ساتھ گا ٔوں کی اسی نکّڑ پہ بیٹھا ہوں
جہاں پر تعزیوں کی "کجّیاں" اور "ٹھوٹھیاں" تقسیم ہوتی ہیں
جہاں پر دودھ بٹتا ہے
بہت کچھ سوچ کر میں نے
فقط اتنا ہی سوچا ہے!

Thursday, October 4, 2012

جانے عدم کے دیس میں کیسی کشش ہے دوست

جانے عدم کے دیس میں کیسی کشش ہے دوست 
جو بھی گیا ادھر کو وہ پلٹا نہیں کبھی

مشتِ غبار  و خاک ہیں اپنی بساط کیا
ہم ہیں ہوا کے دوش پہ جب تک ہوا چلے

Monday, October 1, 2012

عکس بے جرم مار کھاتا ہے


سنگ تو آئینے کے در پہ پے
عکس بے جرم مار کھاتا ہے

اس شعر کا خالق (حافظ اقبال شاہین) جناح ہسپتال لاہور کے کینسر ایمرجنسی وارڈ میں صاحب فراش ہے، زنگی لمحہ لمحہ ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے، اس حیات و ممات کے کھیل سے میں بہت حیران ہوں-

مرے یارو، سمجھدارو، کوئی تدبیر تو ہوگی
وہ دنیا چھوڑے جاتا ہے اسے واپس بلانا ہے
زیادہ تو نہیں ماگا، فقط اتنی سی خواہپش ہے
محبت کی صدائوں کو خموشی سے بچانا ہے
(ریحان)

Monday, September 24, 2012

لو دل کی نقدی خرچ ہوئی

اب اپنی کی نقدی خرچ ہوئی
اب بازاروں کا چکر کیا
اب روپ سروپ سے مالا مال
یہ خواب پریت کے ہر کارے
بھلا کاہے ہم کو چھیڑتے ہیں
ان ٹھیکری جیسی آنکھوں میں
نہ خواب اگیں نہ دید کھلے
اب ششدر بے کل سی نظری
ہر آتے جاتے چہرے میں
بس عدم کا رااہی ڈھونڈتی ہیں

Monday, September 17, 2012

دل و نظر تری چوکھٹ سے باندھ آیا ہوں

وہ میرے ہاتھ میں آیا ہے خوشبوئوں کی طرح
وہ میرا ہو کے بھی مجھ تک نہ رہ سکے گا کبھی

دل و نظر تری چوکھٹ سے باندھ آیا ہوں
مگر یہ جسم کہ منصف کے پاس گروی ہے

Monday, September 3, 2012

اور کوڑی میں بھی بکتے نہیں محبوب یہاں

کس قدر مہنگی ہے خوابوں کی مسافت اے دوست
کس قدر سستی ہے تعبیر اگر مل جائے

ہائے جس شکل کو تاروں میں کہیں ڈھنونڈتے تھے
وہ میرے پائوں میں بیٹھی تھی پکڑ کر کاسہ

اس کو معلوم نہ تھا اس کا دریدہ سا بدن
دو جہانوں سے بھی افضل تھا مرے دل کے لیے

اور وہ میلی کچیلی سی قبائے بے رنگ
کہکشائوں سے بھی پیاری تھی مری آنکھوں کو

میں نے جب غور سے دیکھا تو وہ پتھر سی نگہ
نہ کسی دل نہ کسی عشق سے کچھ واقف تھی

اس کی اکتائی ہوئی سانسوں میں مرنے کی طلب
اس کے بیزار سے چہرے پہ لکھا تھا روٹی

میں نے اک چپت لگائی وہیں اپنے دل پر
اور اس کاسے میں کچھ سکے گرا کر بے تاب


لوٹ آیا کسی ہارے ہوئے جنگجو کی طرح
!!پھر کسی خواب کی  ناکام تمنائوں میں


حسن جو آنکھ کے اندر ہے وہ منظر میں کہاں
مول جو عشق لگاتا ہے وہ دل ہی جانے

ورنہ مٹی میں ملا دیتی ہے دنیا سب کو
اور کوڑی میں بھی بکتے نہیں محبوب یہاں

بس ایک خوف سے میں اس کو ہار آیا ہوں

بس ایک خوف سے میں اس کو ہار آیا ہوں
کہ میرا سیلِ مصائب اسے ڈبو دے گا

ہمارے ہاتھ میں آیا تھا چاند بھی اک دن
مگر نصیب کو ہر گز نہ یہ گوارا ہوا

Sunday, September 2, 2012

مگر میں کیا کروں میرے گنہ زیادہ ہیں

       
تو میرے واسطے جنت ہے باخدا جنت
مگر میں کیا کروں میرے گنہ زیادہ ہیں!
ہر ایک روز تو پہلے سے بڑھ کے پیارا لگا
اب سے بڑھ کے بھلا اعتراف کیا ہوگا

Friday, August 31, 2012

جننت

تو ہے جنت یقین ہے ہم کو
اور جننت ملے گی مر کر ہی

Monday, August 27, 2012

اس سے بہتر بھی محبت کے تراجم ہوں گے

 اس سے بہتر بھی محبت کے تراجم ہوں گے
مجھ سے پوچھے تو تری آنکھ کی گہرائی ہے

Saturday, August 11, 2012

درد بدر بھٹکا پھروں لے کے یہ سینہ خالی

ساری دنیا بھی اٹھا لایا مگر یہ نہ بھرا
یوں ترے بعد ہوا حسن کا پلڑا خالی
اب وہاں کس کو رکھوں رب جہاں رہتا تھا کبھی
درد بدر بھٹکا پھروں لے کے یہ سینہ خالی

Friday, August 10, 2012

ڈکٹر عزیز فیصل صاحب کی سالگرہ پر، ہدیہِ مخول


ڈکٹر عزیز فیصل صاحب کی سالگرہ پر، ہدیہِ مخول

وہ جو افریقہ کے جنگل سے گزر آاتے ہیں
زکر بیگم کا کیا جائے تو ڈر جاتے ہیں

مارتے رہتے ہیں اسکول میں جو بچوں کو
ہیں وہ استاد زنانی سے جو کٹ کھاتے ہیں

میں نے دیکھے ہیں مقدر کے دھنی بھی ایسے
نام زرداری ہے بیگم کا دیا کھاتے ہیں

صنفِ نازک کو تو معشوق کہا کرتے تھے
عاشق اعوان بھی اس صنف میں اب آتے ہیں

چھیل لیتے ہیں کسی طور سے آلو فیصل
پیاز آتا ہے تو بے ساختہ رو پڑتے ہیں

ریحان

Wednesday, August 8, 2012

مجھے تم سے بغاوت سیکھنی ہے

  1.      مرے مرشد ولایت سیکھنی ہے
        ہر اِک دل پر حکومت سیکھنی ہے

        اگر اب ملنے آئے، یاد رکھنا
        مجھے تم سے بغاوت سیکھنی ہے
    ادریس آزاد کے لیے :)

Wednesday, August 1, 2012

ہزار نام ہیں میرے ہزار چہرے ہیں

بکھر گیا ہوں میں کچھ ایسے جا بجا اے دوست
ہزار نام ہیں میرے ہزار چہرے ہیں

دلِ ناداں تری لغزش کے ازالے کے لیے

اپنی محمرومی کا احساس مٹانے کے لیے
کتنے کھلتے ہوئے پھولوں کو مسل آیا ہوں

دلِ ناداں تری لغزش کے ازالے کے لیے
اپنے پیروں سے ہی میں خٔود کو کچل آیا ہوں

کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے مر چکے ہیں ہم

بظاہر ایسے لگے ترک کر چکے ہیں ہم
در اصل تیری محبت سے ڈر چکے ہیں ہم

تمہارے ہجر کی محرومیاں مٹانے کو
نجانے کتنی دفعہ عشق کر  چکے ہیں ہم

اب اس قدر ہے زمانے سے اجنبیت سی
کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے مر چکے ہیں ہم

تمہارے کوچے کی یہ خاک پھانکنے کے لیے
یقین مان فلک سے اتر چکے ہیں ہم

اگر وہ آئے تو جائیں مجتمع پھر سے
اگرچہ سچ ہے کہ ہر جا بکھر  چکے ہیں ہم

Monday, July 30, 2012

کچھ نہیں ہے سرِ ساحل ، اب ذرا خاک پہ آ

چھوڑدے تاروں کی محفل،  ذرا اب خاک پہ آ
موڑ لا بھٹکا ہوا دل،  ذرا اب خاک پہ آ
ہائے افسوس کہ پھر سے وہی پتھر ہے خدا
پھر وہی سر، وہی قاتل ،  ذرا اب خاک پہ آ
خواب زاروں میں پری وش بھی تھے مہ رو بھی تھے
کھل گئی آنکھ مرے دل ،  ذرا اب خاک پہ آ
حسرت و یاس کی موجوں نے تجھے پھینک دیا
کچھ نہیں ہے سرِ ساحل ،  ذرا اب خاک پہ آ

Sunday, July 29, 2012

طنزیہ تک بندی


ربّا مرے لوگوں کو، اب دیدہ ِ بینا دے
اس بار الیکشن میں، کچھ کام کا بندہ دے

کیوں شاکی ہے قسمت کا ، کیوں کوسے بھلا خود کو؟
بگڑے ہوئے بیٹے کو شادی کا طمانچہ دے

رحمان ملک جیسے بیکار نہیں ہوتے
دو سینگ لگا سر پر، سرکس کا تماشا دے

زرداری کے چالے ہیں، دستی ہو کہ راجہ ہو
اس ہاتھ نکما لے، اس ہاتھ نکما دے

اس قوم کے کھوپڑ میں، کچھ بھی نہیں بھوسا ہے
گیلانی کو گھر بھیجو، گیلانی کا بیٹا دے

اینکر بھی ہے سرکاری، ٹی وی بھی ہے سرکاری
اک ڈگڈگی والا ہے، بندر کا تماشا دے

سحری میں بھی پیتا ہے، روزے میں بھی پیتا ہے
مدہوشی کا عالم ہے، کیا رائے "چراہا" دے

Saturday, July 28, 2012

ہر بار آئینے میں نیا اجنبی ملے

میں ذہر پی کے آیا ہوں چاہت کے جام سے
کل رات سے وجود میں ایک آگ سی جلے

ایسے الٹ پلٹ ہیں مری ذات کی تہیں
ہر بار آئینے میں نیا اجنبی ملے

خود کو میں بانٹتا پھروں صدقے کے مال سا
کوئی قبول کر لے تو کوئی جھٹک بھی دے

میری محبتیں بھی مرے دین کی طرح
فرقوں میں بٹ گئی ہیں خدارا سمیٹ لے

گڈ مڈ سا ہو گیا ہے نظامِ وفا و عشق
دل میں کوئی بسے ہے تو گھر میں کوئی بسے!

Friday, July 27, 2012

لب ہیں خاموش کہ گستاخی نہ ہوجائے کہیں

ایک تو پوچھے بنا پھینک دیا دنیا میں
دوسرا خود کو بنا رکھا ہے گورکھ دھندا
اتنے فرقے ہیں کہ گنتی میں نہیں آسکتے
کون سے دین کو حق سمجھے یہ تیرا بندہ

اندھی تقلید ہے ایمان کی شرط اول
آنکھیں کرتی ہیں سولات کدھر جائیں ہم
لب ہیں خاموش کہ گستاخی نہ ہوجائے کہیں
خوف ہی خوف کے عالم میں نہ مر جائیں ہم

Wednesday, July 25, 2012

سوچوں تو اپنا آپ بھی اپنا نہیں رہا

تجھ کو تو یہ گلہ ہے کہ تیرا نہیں رہا
چھو کر کبھی توْ دیکھ کہ میں تھا نہیں رہا

دیکھوں تو چار سمت ہے حلقہِ دوستاں
سوچوں تو اپنا آپ بھی اپنا نہیں رہا

ہر شخص ڈھونڈتا ہے فقط آئینہ یہاں
میں آشکار کیا ہوا اس کا نہیں رہا

دل کی تو تھپکیاں تھیں محبت بڑھانے تک
اب مسئلہ ہمارا ہے دل کا نہیں رہا

مجھ کو تلاشِ یزداں کی ضد تھی جنون تھا
اتنا بھٹک گیا کہ کہیں کا نہیں رہا

راہِ سلوک ملتی نہیں عقل کے طفیل
حجت میں پڑ گئے تو عقیدہ نہیں رہا


Monday, July 23, 2012

نگاہیں رستے سے ہٹتیں تو چار بھی ہوتیں

وہ ساتھ ساتھ چلا زندگی کے ہر پل میں
مگر نصیب تو دیکھو، کہ جانتا بھی نہیں
نگاہیں رستے سے ہٹتیں تو چار بھی ہوتیں
سفر کی دھن میں یوں ہی منزلیں گنوا آئے

مگر یہ طے ہے کہ یہ عشق آخری ہوگا

سمیٹ لے گا وہ مجھ کو، یہ جانتا تو نہیں
مگر یہ طے ہے کہ یہ عشق آخری ہوگا

ایسی تنہائی کی عادت ہے

ایسی تنہائی کی عادت ہے کہ اب صحبت یار
شب فرقت کی طرح بوجھ بنی ہے دل پر

جو بھی ملتا ہے ہمیشہ کے لیے ملتا ہے
دل وہ ہرجائی کے بس تازہ محبت چاہے

تیری ذلت بھی ترے ساتھ ہی مر جائے گی

آج ہوئی ہے جو ذلت تو کوئی بات نہیں
آج کا دن بھی گزر جائے گا جیسے تیسے
کچھ ہی برسوں میں سبھی قصہِ ماضی ہوگا
تیری ذلت بھی ترے ساتھ ہی مر جائے گی

یہ ایک ان کہی خود میں بھی جانتا نہیں تھا

میں تنگ آگیا جب اس کے عشق سے اک دن
تو جا کے کہہ دیا "تم سے مجھے محبت ہے"

مجھے خبر تھی یہ اظہار قاتلِ دل ہے
اسی لیے کہا "تم سے مجھے محبت ہے

یہ ایک ان کہی خود میں بھی جانتا نہیں تھا
کہیں سے سن لیا "تم سے مجھے محبت ہے"

یہ بات اب کی نہیں سو براس پرانی ہے
بس آج کہ دیا"تم سے مجھے محبت ہے

Saturday, July 21, 2012

تک بندی "بس راکھ رہ گئی ہے شرارے نہیں رہے"

انحراف فورم کے 20 جولائ 2012 کے فی البدیہہ طرحی
مشاعرے کے لئے کہی ہوئی میری غزل

اب عشق میں وہ پہلے سے جھگڑے نہیں رہے
کیوں کہ نباہے جانے کے وعدے نہیں رہے

بےزار ہوگئے ہیں محبت کے خواب سے
کیا کیجیے کہ دل پہ بھروسے نہیں رہے

زلت مآب ہو گئے عزت مآب سے
جب سے سخن میں جھوٹ کے پردے نہیں رہے

اس درجہ بے قراری سے مت کھوجیے ہمیں
بس راکھ رہ گئی ہے شرارے نہیں رہے

رو روہ کے مانگنے سے بھلا کوئی کب ملا
ویسے بھی مانگنے کے زمانے نہیں رہے

قول و قرار سچ ہیں ہیں ترے اشک بھی بجا
لیکن محبتوں کے یہ کلیے نہیں رہے

تیرے خلوص کا ہے یقیں سانس کی طرح
ہے المیہ کہ اب ہمی سچے نہیں رہے

Monday, July 16, 2012

وصال کچھ نہیں جھگڑا ہے زندگی بھر کا

محبتوں کے مراسم میں دوریا ہی بھلی
وصال کچھ نہیں جھگڑا ہے زندگی بھر کا

Friday, July 13, 2012

تک بندی "میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا"



جسموں کے گناہوں کی وکالت نہیں کرتا
میں عشق میں لفظوں کی تجارت نہیں کرتا

اب صاف کہے دیتا ہوں خواہش کا فسانہ
اب عشق کے جذبوں میں خیانت نہیں کرتا

اب جان گیا عشق کا میں مر کزی نکتہ
اب عرض تمنا میں طوالت نہیں کرتا

بس وصل کی چاہت ہے محبت تری کیا ہے
میں ایسی محبت کی حمایت نہیں کرتا

جو حسن کو ٹھہرائے محبت کا کلیسا
میں ایسی شریعت کی اطاعت نہیں کرتا

کچھ لغزشیں ہوتی ہیں خودآپ اپنی نصیحت
میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا

ہر ربط کے پیچھے ہے ہوس اور ضرورت
دنیا میں کوئی شخص محبت نہیں کرتا

Monday, July 9, 2012

زندگی اور میں


شرط جینے کی لگائی تھی کبھی زندگی سے
بس اڑا بیٹھا ہوں اس ضد پہ جیے جاتا ہوں
ورنہ دونوں بڑی مشکل میں ہیں اک مدت سے
سانسیں سینے کا بھرم رکھتی ہیں آجاتی ہیں
اپنی عادت سے ہے مجبور دھڑکتا رہے دل
زندگی اور طرف جاتی ہے میں اور طرف
ایک دوجے کو گھسیٹے ہیں کبھی میں کبھی وہ

Sunday, July 8, 2012

اب تو زندہ ہوں فقط نام لگا کر اپنا

تو اب آئی ہے نئے خواب اٹھا کر اے دوست
اب وہ میں ہوں نہ وہ آنکھیں نہ وہ نیندوں کا خمار
اب مری شکل پہ کتبہ ہے کسی اجنبی کا
------------------------------------
میری سانسیں بھی کسی اور کے سینے میں ہیں
میری آنکھوں کی بصارت بھی نہیں ہے میری
اب تو زندہ ہوں فقط نام لگا کر اپنا
--------------------------------------
کوئی آسیب سا لگتا ہے محبت کا خیال
حسن بھی آنکھ کی خواہش کے مطابق نہ ملے
اور سوچوں پہ بھی پہرہ ہے روایات کا اب
بس تضادات کا جنگل سا ہے اب ذات مری
-----------------------------------
تو سمجھتی ہے میں کہقاف کا شہزادہ ہوں
تو نے چاہا ہے مرے اصل سے ہٹ کر مجھ کو
تو مری ذات میں جھانکے گی تو ڈر جائے گا

Saturday, July 7, 2012

تک بندی




ٹوٹ کر بھی فنا نہیں ہوتے
سو قفس سے رہا نہیں ہوتے

ہائے ہم کیا سے کیا نہیں ہوتے
لیکن اس سے جدا نہیں ہوتے

وصل زنجیرِ پا بھی ہوتے ہیں
ہجر زنجیرِ پا نہیں ہوتے

وہ جو آنکھیں ہمیں بہت ہیں پسند
انہی آنکھوں پہ وا نہیں ہوتے

دل کی مرضی جدھر کو لے جائے
ہم تو قصدا جدا نہیں ہوتے

دل وہیں جا کے سر رگڑتا ہے
در جو دستک پہ وا نہیں ہوتے

بے وفائی کی معذرت کے اب
ہم سے وعدے وفا نہیں ہوتے

انگلیوں پر جنہیں شمار کریں
وہ وظیفے دعا نہیں ہوتے

کوئی بت ہو نہ ہو خدا جن میں
ایسے دل دیرپا نہیں ہوتے

ہار ہم بے یقین لوگوں کے
سر تو ہوتے ہیں پا نہیں ہوتے


=========================================
دل ہے رہگزار یاروں کی
رہگزاروں میں گھر نہیں ہوتے



Wednesday, July 4, 2012

پیار دو طرفہ تماشا ہے مرے یار سمجھ

اب کسی عشق و وفا کا کوئی دعوی ہی نہیں
دل وہ بزدل ہے کہیں پائوں جماتا ہی نہیں


ایسے تقسیم کیا ہے مرے رشتوں نے مجھے
کہ اب  آئینہ مری شکل دکھاتا ہی نہیں

سارے کردار ہیں دنیا کے سبھی  منظر ہیں
اپنے افسانے میں اک نام ہمارا ہی نہیں

پیار دو طرفہ تماشا ہے مرے یار سمجھ
یہ وہ ڈھولک ہے   جو اک سمت سے بجتا ہی نہیں

کچھ ہوس عشق میں لازم ہے وگرنہ یہ دل
وصل اور ہجر کی تفریق سمجھتا ہی نہیں

Saturday, June 30, 2012

تک بازی


مجھے سچ ڈھونڈنے کی عادتیں تھیں
زمین و آسماں سے کٹ گیا ہوں

مجھے معیار تنہا کر گیا ہے
میں ہر شے کو مکمل چاہتا ہوں

مجھے معلوم تھی اوقات خواہش
میں اپنے پاس بیتھا رہ گیا ہوں

کہانی مر گئی میری مگر میں
کسی برگد پہ لکھا رہ گیا ہوں

مری محفل میں سورج آگیا ہے
میں جگنو، ہاتھ ملتا رہ گیا ہوں

مرے خوابوں میں جنت کا نشاں تھا
سو تعبروں کا پیاسا رہ گیا ہوں

 میں پہلے لفظ بن کر بولتا تھا
مگر اب صرف لہجہ رہ گیا ہوں

وفور شوق میں خوشبو سے غافل
میں رنگوں سے بہلتا رہ گیا ہوں

تو ہے کم سن تجھے معلوم نہیں کل کا دکھ

تو ہے کم سن تجھے معلوم نہیں کل کا دکھ
صرف تنہائی نظر آئے جہاں تک دیکھوں

لوگ اجسام کے قیدی تھے بہت کمتر تھے

عشق تو عشق ضرورت کے بھی قابل نہ تھا
کوئی محبوب رفاقت کے بھی قابل نہ تھا

لوگ اجسام کے قیدی تھے بہت کمتر تھے
یہ زمانہ مری نفرت کے بھی قابل نہ تھا

میں جسے پوجتا آیا ہوں وہ پتھر کا خدا
آج بولا تو حقارت کے بھی قابل نہ تھا

ہائے وہ خواب کا عالم وہ تخیل کا فسوں
میری بے کارفراغت کے بھی قابل نہ تھا

ہم ہی پاگل تھے وفائوں کا علم لے کے چلے
وہ تو اک لمحے کی چاہت کے بھی قابل نہ تھا

میں کسی اور کے خوابوں کو غذا دیتا رہا

فرض کرکے کہ یہ میرے ہیں مری آنکھ میں ہیں
میں کسی اور کے خوابوں کو غذا دیتا رہا

زندگی گزری ہے اک خواب سے لڑتے لڑتے

اپنی ہی خواہشِ بے تاب سے لڑتے لڑتے
زندگی گزری ہے اک خواب سے لڑتے لڑتے
گھر تو لوٹ آتا ہوں سورج سے بچھڑ کر میں بھی
رات لیکن کٹے مہتاب سے لڑتے لڑتے

تم نے اس دور میں کھولی ہے محبت کی دوکاں

تم نے اس دور میں کھولی ہے محبت کی دوکاں
جب خریدار کو روٹی سے ہی فرصت نہ ملے

ایک ہی دن کا ہے جینا کوئی سو سال جیے

روز اک دن کو الٹ دیتا یوں جیسے تیسے
اور سو جاتا ہوں تھک ہار کے جب شام ڈھلے
صبح دم سر پہ کھڑا ہوتا ہے پھر سے  وہی دن
ایک ہی دن کا ہے جینا کوئی سو سال جیے

سانحہ یہ ہے کہ اب دردمیں چین آتا ہے

بندگی دل کی عبادت سے بھی آگے کی ہے
کہ محبت تو عقیدت سے بھی آگے کی ہے

سانحہ یہ ہے کہ اب دردمیں چین آتا ہے
بات اب درد و اذیت سے بھی آگے کی ہے

Sunday, June 24, 2012

زندگی قرض کے احساس ندامت جیسی

رونقِ حسن ہے باقی نہ کوئی جذبہ دل
زندگی قرض کے احساس ندامت جیسی

ساتھ چلتے ہیں مگر حوصلہ اپنا اپنا
مل کے رہتے ہیں کہ دنیا کی روایت ٹھہری

ایسے دشمن سے تو جھگڑا بھی نہیں ہو سکتا

دل کے نقصاں کا ازالہ بھی نہیں ہو سکتا
زندگی تیرا اعادہ بھی نہیں ہو سکتا

ایسی تنہائی کہ خود سے بھی کبھی مل نہ سکوں
بھیڑ اتنی کہ اکیلا بھی نہیں ہو سکتا

ہائے نفرت  بھی غضب اور ضرورت بھی بہت
ایسے دشمن سے تو جھگڑا بھی نہیں ہو سکتا

یہ رواجوں کی گھٹن قبر سے بڑھ کو محبوس
اور دنیا سے کنارہ بھی نہیں ہو سکتا

بادشہ جس کو بنایا ہے تری چاہت نے
تجھ سے بچھڑا تو کسی کا بھی نہیں ہو سکتا

Tuesday, June 19, 2012

قسم لے لو، وہاں پر کچھ نہیں ہے

 گیا تھا یار کے کوچے کو میں بھی
قسم لے لو، وہاں پر کچھ نہیں ہے

بچھڑ رہے ہیں مگر دل بچھڑنے دیتا نہیں
سو ایک دوجے کو الزام دے رہیں ہم

وہ پیار سمجھے ہے جس کو ہمارا پیشہ ہے

وفا کے نام پہ کرتے ہیں چاکری اس کی
وہ پیار سمجھے ہے جس کو ہمارا  پیشہ ہے

Monday, June 18, 2012

بس ایک رستہ گنہ کا ہی اب نکلتا ہے

صحیح طریقے ہیں جتنے ، قبول عام نہیں
بس ایک رستہ گنہ کا ہی اب نکلتا ہے

تجھے بھی دینی پڑی ہیں وضاحتیں اب تو


تو ہی تو تھا جو کبھی بھی خفا  نہ ہوتا تھا
تجھے بھی دینی پڑی ہیں وضاحتیں اب تو
کئی برس ہوئے تنہائیوں کی عادت ہے
کہ بوجھ لگتی ہیں دل پر رفاقتیں اب تو
وفا کے نام پہ کرتے ہیں چاکری اس کی
محبتیں ہیں اصل میں مشقتیں اب تو
ملازمت کی طرح ہیں محبتیں اب تو

ہم بے ٹھکانہ لوگوں کا نام و پتہ نہ پوچھ


ہمدردی و خلوص کے ذوق و اثر میں ہم
نفرت تک آگئے ہیں وفا کے سفر میں ہم

ہم بے ٹھکانہ لوگوں کا نام و پتہ نہ پوچھ
منزل کو روندھ آئے ہیں شوقِ سفر میں ہم

مہماں نواز ایسے کہ مہمان کے لیے
مہمان بن گئے ہیں خود اپنے ہی گھر میں ہم

رونا تو یہ کہ جس کو سمجھتے تھے دوجہاں
نامعتبر ہوئے ہیں اسی کی نظر میں ہم

مایوس کیوں نہ کرتا یہ صحرائے زندگی
سایہ تلاش کرتے تھے سورج کے گھر میں ہم

آباد تجھ کو کر کے کچھ اجڑے ہیں اس طرح
رشتے بناتے پھرتے ہیں ہر اک نگر میں ہم

Saturday, June 16, 2012

جو تیرے خواب میں آتا ہے بن کے شہزادہ

نظر سے دور ہوا آنکھ سے گیا بھی نہیں
وہ ایک شخص جو میرا کبھی رہا بھی نہیں

میں اس کی یاد لیے زندگی گزار گیا
وہ بے خبر مرے بارے میں جانتا بھی نہیں

جو تیرے خواب میں آتا ہے بن کے شہزادہ
وہ بے نصیب حقیقت میں عام سا بھی نہیں

تو جس کے سامنے حدِ ادب میں رہتا ہے
ترے علاوہ اسے کوئی پوچھتا بھی نہیں

تو جس کے قرب میں ڈھونڈے علاجِ تنہائی
 وہ خود اکیلا ہے اتنا کہ آئینہ بھی نہیں

تو جس کے خواب لیے مضطرب سا پھرتا ہے
وہ دنیا دار محبت کو مانتا بھی نہیں 

Friday, June 15, 2012

تک بازی - وہ حیرت و حسرت کا جہاں یاد رہے گا

جدید ادبی تنقیدی فورم کے فی البدیہہ طرحی مشاعرہ ۱۵ جون ۲۰۱۲ میں پیش کردہ غزل

یہ دشت یہ سورج یہ سماں یاد رہے گا
مر کر بھی دکھوں کا یہ جہاں یاد رہے گا

آغاز نہ انجام نہ موجود کو جانوں
تاعمر بس اک وہم و گماں یاد رہے گا

وہ سامنے آئے بھی تو اغیار کے ہو کر
وہ حیرت و حسرت کا جہاں یاد رہے گا

میں بھول بھی سکتا ہوں تری بات کا مطلب
لیکن ترے لہجے کا بیاں یاد رہے گا

ہم اہل دلِ زار تو قاری ہیں نظر کے
اس آنکھ کا ہر اذنِ نہاں یاد رہے گا

ہمیں یوں بھی گوارا ہے، چلو تم "بے وفا" کہہ لو

میں جس سے عشق کرتا ہوں، وہ پاگل سا ہو جاتا ہے
خدایا میری چاہت میں، نشہ ہے یا کہ پاگل پن؟

اگر تم یہ سمجھتے ہو جدا ہونا یوں آساں ہے
ہمیں یوں بھی گوارا ہے، چلو تم "بے وفا" کہہ لو


بٹ گیا سب تو خریدا چلے آئے ہیں

ڈھل گئی  عمر تو سرکار چلے آئے ہیں
جیب خالی لیے بازار چلے آئے ہیں

حسن تھک ہار کے اب ہو بھی چکا بیگانہ
آپ اب عشق میں سرشار چلے آئے ہیں

محفلیں جب تھی جواں دشت میں جا بیٹھے تھے
چھٹ گیا میلہ تو دربار چلے آئے ہیں

جب تلک پاس تھے کچھ فیصلہ دل سے نہ ہوا
ہجر میں عشق کے آزار چلے ائے ہیں

خود کو جب بانٹتے پھرتے تھے کوئی لیتا نہ تھا
بٹ گیا سب تو خریدا چلے آئے ہیں

عشق کی قلم رو میں دل سے جنگ مت کرنا

عشق کی قلم رو میں دل سے بحث مت کرنا
عقل ہار جائے گی، حسن جیت جائے گا

Monday, June 11, 2012

تک بازی

انحراف ادبی فورم کے فی البدیہہ طرحی مشاعرہ ۸ جون ۲۰۱۲ میں پیش کی گئی کاوشِ
بیاد استاد قمر جلالوی

وہ شخص عشق کر گیا احساں کے ساتھ ساتھ
یعنی کہ زخم دے گیا درماں کے ساتھ ساتھ

ہمدردی کی زبان میں لپٹا ہوا تھا پیار
دل بھی دھڑک دھڑک گیا باتاں کے ساتھ

جذبے بہک رہے ہیں عقیدت کے آس پاس
کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ

مٹی مرے وجود کی بے چین سی رہے
خود کو بھی ڈھونڈتا ہوں میں یزداں کے ساتھ ساتھ

کچھ پر گری ہیں بجلیاں کچھ بجلی کے بغیر
آزاد بھی اداس ہیں رحماں کے ساتھ ساتھ
(ادریس آزاد بھائی اور رحمان حفیظ بھائی کے نام)

یہ عالم خیال ہے کوئی نہ دیکھے گا
کچھ دیر چل کے دیکھیے ریحاں کے ساتھ ساتھ

Tuesday, June 5, 2012

مجذوب بن گئے ہیں جو چادر لپیٹ کر

دربار عشق میں بھی دغابازہیں بہت
مجذوب بن گئے ہیں جو چادر لپیٹ کر

Monday, June 4, 2012

وہ جو صدیوں کی مسافت میں ملا ہے مجھ کو

وہ جو صدیوں کی مسافت میں ملا ہے مجھ کو
کیسے کھو سکتا ہوں لمحوں کی خطا میں اس کو

تجھ کو سینے سے نہیں سر سے لگایا میں نے

تجھ کو سینے سے نہیں سر سے لگایا میں نے
اب مرے عشق پہ خواپش کا تو الزام نہ دھر

Friday, June 1, 2012

تو بھی بھٹکا ہوا پھرتا ہے سرابوں میں کہیں

میں بھی بے جوڑ کسی رشتے کی زد پہ آیا
تو بھی بھٹکا ہوا پھرتا ہے سرابوں میں کہیں
ہم بھی آخر انہی قصوں کا ہی کردار ہوئے
جو پڑھا کرتے تھے بچپن کی کتابوں میں کہیں

Thursday, May 31, 2012

درگزر کرتا ہوں کہ دیتا ہوں چل جانے دے

اپنے آنسو مری آنکھوں سے نکل جانے دے
لگ جا سینے سے مرا درد پگھل جانے دے

اپنے غم خانے میں پھر لوٹ ہی جانا ہے مجھے
خواب کے چند ہی لمحے ہیں بہل جانے دے

دامنِ عشق بھی سب جھاڑ لیا کچھ نہ ملا
لالچِ حسن نہ دے اب تو سنبھل جانے دے

مار ڈالے گا یہ احساسِ زیاں سورج کو
آخری وقت ہے آرام سے ڈھل جانے دے

دل کی مانوں تو بگڑ بیٹھوں زمانے بھر سے
درگزر کرتا ہوں کہہ دیتا ہوں چل جانے دے

میرے مولا مرا ایمان مکمل کر دے

میرے مولا مرا ایمان مکمل کر دے
یا مجھے کفر میں دل کھول کے جی لینے دے
راستہ بیچ کا لگتا ہے بہت ہی مشکل

ہے پیاس اتنی کہ ساگر بھی گھونٹ میں پی لوں

برسنا ہے تو برس جا مری طلب مت پوچھ
ہے پیاس اتنی کہ ساگر بھی گھونٹ میں پی لوں

عشق بھی مرتا ہے انسان کی صورت ہمدم

عشق بھی مرتا ہے انسان کی صورت ہمدم
جسم رہ جاتا ہے اور روح نکل جاتی ہے

ہائے کس زعم میں ہے اب تک تو

کوئی حصہ نہیں جہاں میں ترا
ہائے کس زعم میں ہے اب تک تو

میں نے روکا نہیں مروت میں

میں نے روکا نہیں مروت میں
جان تک آ گئے عزیز مرے

طرب خانہِ دنیا میں کوئی حصہ نہیں میرا

مجھے برباد ہونا ہے، مجھے برباد ہونے دو
مجبت کھینچ لو واپس، مجھے ناشاد ہونے دو
طرب خانہِ دنیا میں کوئی حصہ نہیں میرا
نہ جھوتے خواب دو دشتِ جنوں آباد ہونے دو

اگر سمیٹنا چاہو سمیٹ لو مجھ کو

اگر سمیٹنا چاہو سمیٹ لو مجھ کو
بس ایک تم ہی مجھے پھر سے جوڑ سکتے ہو
وگرنہ گردِ زمانہ کو آنکھ میں بھر کر
کچھ ایسے بکھروں گا صحرا میں جابجا اے دوست
مرے وجود کا ذررہ بھی مل نہ پائے گا
سو جس کے ہاتھ لگا جتنا اتنا رکھ لے گا
حریص لوگ مجھے ایسے کاٹ کھائیں گے
کہ جیسے مالِ غنیمت بٹے ہے حصوں میں

میرے ماتھے پہ ترا نام لکھا ہے لیکن

روح صحرا میں بھٹکتی پھرے تنہا تنہا
جسم آلائشِ دنیا کی حراست میں ہے
میرے ماتھے پہ ترا نام لکھا ہے لیکن
زندگی ساری کسی اور کی صحبت میں ہے

خود کو تقسیم کیے پھرتا ہوں ماشہ ماشہ

مجھ پہ جو غیر کا قبضہ ہے چھڑایا جائے
جسم اور روح کو یک بار ملایا جائے
خود کو تقسیم کیے پھرتا ہوں ماشہ ماشہ
کوزہ گر پھر سے مجھے چاک پہ لایا جائے

Wednesday, May 30, 2012

جب تجھے دیکھوں تو احساسِ زیاں بڑھتا ہے

اے مری جانِ جہاں سامنے مت آیا کر
کہ تجھے دیکھ کے احساسِ زیاں بڑھتا ہے

Saturday, May 26, 2012

تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے




تم سمجھتے یو سہولت ہے مجھے
سانس لینا بھی مشقت ہے مجھے

میں کسی اور جہاں کا شاید
یہ جہاں باعثِ حیرت ہے مجھے

ڈھونڈتا ہوں کوئی اپنے جیسا
یعنی خود سے ہی محبت ہے مجھے

یہ جو بکھرا سا میں رہتا ہوں اب
تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے

خوش رہیں لوگ یہ عزت والے
دل کی اتنی ہی وصیت ہے مجھے

آنکھ ساگر سی کوئی لے ڈوبے
اب اسی موت کی حسرت ہے مجھے

میں کسی اور جہاں کا شاید
یہ جہاں باعثِ حیرت ہے مجھے

تو ہے مومن تجھے جنت کا یقیں
میری تشکیک قیامت ہے مجھے

Friday, May 25, 2012

چار روپے


وہ ایک ایسا شخص تھا جس کے ساتھ
میرے رشتے کو کوئی نام نہ تھا
یا یوں کہیے کوئی رشتہ ہی نہ تھا
کہ رشتہ تو دو لوگوں کے بیچ ہوتا ہے
وہ تو آتا تھا تو میں بھول جاتا تھا
کہاں ختم ہوتی ہے ذات میری
اور کہاں شروع ہوتی ہے ذات اس کی!!_______
وہ آج آیا، بیٹھا، چائےپی باتیں کی!!
جانے لگا تو اپنے کپ کے پیسے مجھے دے گیا
تب میں نے جانا
کہ میرے سارے جزبات و احساسات محض جھوٹے مفروضات تھے
جن کی قیمت پاکستانی کرنسی کے فقط چار روپے تھی

2004 Zubair Hall!


Thursday, May 24, 2012

آدمی ہیں خدا نہیں ہیں ہم

سانپ کھاتا سنپولیے کھائے
ترس کھانا کبھی نہ تم ان پر
سانپ کے بچے سانپ ہی تو ہیں
تم کو ڈ س جائیں گے بڑے ہو کر
اس قدر دردِ دل بھی اچھا نہیں
آدمی ہیں خدا نہیں ہیں ہم

روشنی خوابِ محبت سے ضروری ٹھہری

خٔواب رکھ آیا ہوں طاقوں میں چراغوں کی جگہ
روشنی خوابِ محبت سے ضروری ٹھہری

میں نے جس کے لیے تج دی تھی جوانی کی بہار

ذات کا محل گرا ڈالا کہ پوشیدہ تھی
میری تخریب میں تعمیر مرے بچوں کی
میں نے جس کے لیے تج دی تھی جوانی کی بہار
اب وہی میرے بڑھاپے کی اڑاتا ہے ہنسی

آغاز سےانجام تک چاہت کی اتنی داستاں

آغاز سےانجام تک چاہت کی اتنی داستاں
مجبوریاں مجبوریاں مجبوریاں مجبوریاں

مجھے لگ رہا ہے کہ اس خوبرو پر محبت کا آسیب چھایا ہوا ہے

کبھی گنگھرئوو ں کی کبھی قہقہوں کی کبھی رونے والوں کی آواز آئے
مجھے لگ رہا ہے کہ اس خوبرو پر محبت کا آسیب چھایا ہوا ہے

اتفاقا ملا ہوں میں تجھ سے

اتفاقا ملا ہوں میں تجھ سے
اتفاقا بچھڑ بھی سکتا ہوں
اب بہت راس ہوں تجھے لیکن
آدمی ہوں بگڑ بھی سکتا ہوں

دنیا کی اوقات

آج میں جان گیا دنیا کی اوقات کہ جب
بیٹےنے باپ کے رخسار پہ تھپڑ مارا

اے مصور ذرا اس عشق کو تصویر تو کر

ہم بڑی دیر سے رستے میں کھڑے ہیں چپ چاپ
آگے بڑھتے ہیں تو اب راہیں جدا ہوتی ہیں

اے مصور ذرا اس عشق کو تصویر تو کر
دل ملے جائیں مگر باہیں جدا ہوتی ہیں

Wednesday, May 23, 2012

خواب میں کچھ تو بھرا ہے کہ چھلکتا جائے

دل میں ٹھہرے ہے نہ پلکوں پہ ہی رکھا جائے
خواب میں کچھ تو بھرا ہے کہ چھلکتا جائے

ایسی ناکام محبت کا کوئی کیا کر لے
وہ مرے ساتھ چلے اور نہ تنہا جائے

مسئلہ قرب و جدائی کا تو چھوڑو کہ ابھی
عشق کس طرز کا ہوگا یہی سوچا جائے

ذہن بھی سوچ بھی آنکھیں بھی جگر بھی دل بھی
سب ترا پھر بھی مجھے غیر کا سمجھا جائے

جان تو یار کی چوکھٹ پہ ہی دھر آئی وہ
جسم کیا لاش ہے اب جس کو بھی سونپا جائے

مجھ کو معلوم ہے اوقات مقددر کی مگر
دل بہلتا ہے جو خوابوں سے بہلتا جائے

خود کو ایذا نہیں دیتا مگر اس عشق میں اب
درد کا کوئی نشہ سا ہے کہ چڑھتا جائے

میری تنہائی مرےچاروں طرف پھیلی ہے

میری تنہائی مرےچاروں طرف پھیلی ہے
مجھ تک آتے ہوئے تنہا نہ کہیں ہو جانا
تو نے رکھا ہے زمانے کے رواجوں پر پائوں
مہم اچھی ہے پہ رسوا نہ کہیں ہو جانا

Monday, May 21, 2012

تمہاری ذات میں میری بھی حصے داری ہے

یہ کیسے سوچ لیا خود کو مار دو گے تم
تمہاری ذات میں میری بھی حصے داری ہے
کبھی کبھی تو مجھے یوں گمان ہوتا ہے
جو لے رہا ہوں میں وہ سانس بھی تمہاری ہے
بہت عجیب محبت کے سلسے ہیں دوست
عجیب قسم کی چاہت ہے بانٹتی ہے مجھے
کہیں پہ جسم دھرا کہیں ہیں پہ روح مری
اب اور مجھ سے نہ کہنا کہ وقت مرہم ہے
تمام عمر یہی سوچ کر گزاری ہے


تو مرے ساتھ سہی سائے کی صورت لیکن

تو مرے ساتھ سہی سائے کی صورت لیکن
میری تنہائی مری ذات کے اندر تک ہے

Thursday, May 17, 2012

واجبی سا ہی تعلق ہے شب و روز کے ساتھ

واجبی سا ہی تعلق ہے شب و روز کے ساتھ
ان کو مجھ سے کوئی مطلب نہ مجھے ان کی خبر

Wednesday, May 16, 2012

مری ماں تیری رحلت نے تو دنیا ہی بدل ڈالی

  حامد محبوب صاحب کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر کچھ اشعار لکھےہیں۔

خدارا آسمانوں کا یہ چہرہ اور ہے کوئی
یہ سورج اور ہے کوئی یہ چندا اور ہے کوئی
یا
وہ چندہ اور تھا کوئی یہ  گولہ اور ہے کوئی

مری ماں تیری رحلت نے تو دنیا ہی بدل ڈالی
وہ دنیا اور تھی کوئی یہ دنیا اور ہے کوئی

جو تیری گود میں خوش تھا، وہ تیرے ساتھ ہی ہوگا
مری ماں تیری فرقت میں یہ روتا اور ہے کوئی

میں اپنے آپ کو بھی اجنبی سا لگ رہا ہوں اب
وہ بچہ اور تھا کوئی ، یہ بوڑھا اور ہے کوئی

بہت ہی کھوکھلے سے ہیں سبھی رشتے سبھی جذبے
جو رب نے ماں سے باندھا ہے وہ دھاگا اور ہے کوئی

Tuesday, May 15, 2012

یہ میری شاخ سے ٹوٹا گلاب دیکھو تو!

یہ میری شاخ سے ٹوٹا گلاب دیکھو تو!
مرے پسر کی ذرا آب و تاب دیکھو تو!

Monday, May 14, 2012

پائوں میں بیڑیاں سہی آنکحھ تو آسماں پہ ہے

پائوں میں بیڑیاں سہی آنکحھ تو آسماں پہ ہے
زندگی خاک میں سہی، خواب تو کہکشاں پہ ہے

میں وہ پرندِ پر نوا، جب سے قفس میں قید ہوں
سارے چمن میں رقص ہے گیت مری زباں پہ ہے

تجھ کو بہشت کی طلب، تیرا سفر طویل تر
میں کہ رضا پہ راضی ہوں، مجھ کو سکوں یہاں ہہ ہے

تو ہے فقط تماش بیں زندگی اور کسی کی ہے
بولیے کس کا جسم ہے، سوچیے کون جاں پہ ہے

Sunday, May 13, 2012

ماں


ہستے رہتے تھے اگر ڈانٹ بھی پڑ جاتی تھی
ہم کو معلوم تھا ناراض نہیں ہوتی ماں

اے مرے دیدہِ تر تجھ سے میں شرمندہ ہوں

اے مرے دیدہِ تر تجھ سے میں شرمندہ ہوں
کہ کسی خواب کی تعبیر نہ دیکھی تو نے

Saturday, May 12, 2012

سینے سے دل نکال کے رکھنا پڑا مجھے

سمجھوتا زندگانی سے کرنا پڑا مجھے
آخر ہوا کے ساتھ ہی چلنا پڑا مجھے

میں شیر دل تھا رسمِ زمانہ سے لڑگیا
لیکن یہ جنگ جیت کے مرنا پڑا مجھے

جس کو حریف جان کے تلوار تھا می تھی
اس کا حلیف دیکھ کے جھکنا پڑا مجھے

یہ کیسی دو رخی ہے کہ بچپن سے جو پڑھا
ہو کر بڑا اسی سے مکرنا پڑا مجھے

"لالچ بری بلا" ہو کہ "سچ بول کا ثمر"
 وہ سب نصاب پھر سے پرکھنا پڑا مجھے

چاہت کا کوئی ربط عداوت نہ دوستی
سینے سے دل نکال کے رکھنا پڑا مجھے

Friday, May 11, 2012

میں شیر دل تھا رسمِ زمانہ سے لڑ گیا

سمجھوتا زندگانی سے کرنا پڑا مجھے
آخر ہوا کے ساتھ ہی چلنا پڑا مجھے
میں شیر دل تھا رسمِ زمانہ سے لڑ گیا
لیکن یہ جنگ جیت کے مرنا پڑا مجھے

Wednesday, May 9, 2012

تیری ہنسی سے میری ہیں سانسیں جڑی ہوئی

دیکھو خدا کے واسطے روٹھا نہ کیجیو
تیری ہنسی سے میری ہیں سانسیں جڑی ہوئی

تری اداسی مری جاں نکال دیتی ہے

ترے لبوں پہ پوں قرباں چٹکتی کلیاں تمام
تری اداسی مری جاں نکال دیتی ہے

Monday, May 7, 2012

رات

سونے والوں کو پتہ رات کسے کہتے ہیں
ہم تو اندھیرے اجالے  کا فرق جانتے ہیں

فرق = غیر موزوں

شدتِ جذبہِ وصال نہ پوچھ

اب محبت میں وہ مقام آیا
کہ تری یاد میں بدن ٹوٹے
شدتِ جذبہِ وصال نہ پوچھ
دل کی دھڑکن سے جانو تن ٹوٹے

خود کشی کرنے والی عورت

خود کشی کرنے والی عورت نے
جب سے بچے جنے ہیں سوچتی ہے
اب اکٹھے مریں گے ہم تینوں

ایک تم سے ہے گفتگو دل کی

ایک تم سے ہے گفتگو دل کی
ورنہ چپ چاپ عمر کاٹی ہے

تو نے بولا ہے ساتھ مشکل ہے

آج تو نبض ڈوبتی جائے
تم نے بولا ہے ساتھ مشکل ہے

کسی رشتے کا کوئی چہرہ نہیں

اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کا
جو دبا دے گلا وہ ایک شخص
جانے کس نظریے پہ زندہ ہے
پس یہ ثابت ہوا کہ دنیا میں
کسی رشتے کا کوئی چہرہ نہیں
کوئی مطلق کسی کا ہوتا نہیں

کس طرح زندگی سے بہلے گا

خود کشی مشغلہ ہو جس کا وہ
کس طرح زندگی سے بہلے گا
جو دعائوں میں موت ماگتا ہو
اپنی اولاد کو وہ کیا دے گا

بہت کمزور سے لگتے ہیں سبھی لوگ مجھے

بہت کمزور سے لگتے ہیں سبھی لوگ مجھے
زرد پتے ہوں کسی شاخ پہ لٹکے جیسے
آندھی آتی ہے تو دالان میں آ گرتے ہیں
لیکن آندھی بھی ضروری تو نہیں ہے صاحب
یوں بھی ہر روز کئی گرتے ہیں ہو کر بوڑھے
وقت چپ چاپ کیے جاتا ہے سب کچھ مٹی

Sunday, May 6, 2012

تو میرے خون میں شامل تو میری روح میں ہے
قراق و وصل کا جھگڑا تو اب رہا ہی نہیں

نوحہِ درد

نوحہِ درد بھی ہوگا تو کہاں تک ہوگا
تنگ آجائوں گا ہر روز کی تکرار سے میں

Saturday, May 5, 2012

سانس بھی مسلسل ہے، تیری یاد کی صورت

زندگی کا کچھ یوں بھی، تجھ سے سلسلہ نکلے
سانس بھی مسلسل ہے، تیری یاد کی صورت

یہ لوگ ضائع کر دیں گے

مجھ کو چھپا کے رکھ لو کسی کو نہ دیجیو
یہ لوگ ضائع کر دیں گے تم کو پتہ تو ہے

بیت باز

ہجومِ شہر بھی طارق عزیز بھی برہم
کہ جیت جائیں گے پھر سے یہ بیت باز مرے

اپنے دامن سے گانٹھ دے مجھ کو

تیری قربت کہ چند لمحوں میں
ہم نے صدیاں گزار لیں جیسے
تیری آنکھوں کی گہری جھیلوں میں
ہم نے آنکھیں اتار دیں جیسے
تیرے ہونٹوں کے نرم گوشوں میں
زندگی کا سراغ ملتا ہے
تیری باتوں میں ہے مسیحائی
نیم جاں سانس لینے لگتا ہے
تیرے پہلومیں نیند جیسا سکوں
اپنے پہلو میں باندھ لے مجھ کو
تیری آغوش جنتوں جیسی
اپنے دامن سے گانٹھ دے مجھ کو

تیرا چہرہ ہٹا نہ پلکوں سے

آج پھر سو نہیں سکا شب بھر
نیند آنکھوں میں کس طرح آتی
تیرا چہرہ ہٹا نہ پلکوں سے

Thursday, May 3, 2012

پھر سے تعمیر کر دیا تو نے

منہدم ہوچکا تھا کھنڈر تھا
پھر سے تعمیر کر دیا تو نے

مجھ کو دنیا میں مل گئی جنت

مجھ کو دنیا میں مل گئی جنت
میں محبت میں مر گیا تھا دوست

Wednesday, May 2, 2012

ترے بغیر بھی زندہ ہیں ہم مگر ایسے

ترے بغیر بھی زندہ ہیں ہم مگر ایسے
کہ سانس لینا گنہ میں شمار ہوتا ہے

دل میں جنت کا خٔواب رکھا ہے

جسم دوزخ میں جل رہا ہے مگر
دل میں جنت کا خٔواب رکھا ہے
رات بھر نیند آئے گی کیسے
شبستاں میں عذاب رکھا ہے

غم کا کوفہ ہے مگر اشک یزیدی ایسے

کاغذی پھول سے خوشبو کا تقاضا کر کے
بہت شرمندہ ہوں پتھر کو میں سجدہ کر کے

آنکھ تو دل سے  بھی بڑھ کر ہے دوانی لوگو
جو اٹھا لائی ہے پیتل کو بھی سونا کرکے

تم مقلد ہو محبت کے وفا کے دل کے
ایسی تقلید تمہیں چھوڑے گی رسوا کر کے

ہاتھ جذبات کا تھاما تھا چلا تھا جب میں
وقت دلدل میں مجھے لایا ہے تنہا کر کے

غم کا کوفہ ہے مگر اشک یزیدی ایسے
آنکھ کو چھوڑ گئے پیاس کا صحرا کر کے

جو میری ذات کے اندر ہے مجھ سے بھی زیادہ

جو مجھ سے بڑھ کے مری ذات میں سمایا ہے
وہ میرے حال سے واقف نہیں ہے حیرت ہے

Monday, April 30, 2012

مان لیتے ہیں ترے ہجر میں زندہ ہیں ہم

سانس لینے کو اگر زندگی کہتا ہے تو
مان لیتے ہیں ترے ہجر میں زندہ ہیں ہم

فشارِ خون

فشارِ خون میں سستی کبھی یہ دردِ سر!
جدائیوں کے ہیں آثار اور کچھ بھی نہیں

Sunday, April 29, 2012

تجھ سے پہلے میں زمانے کا ہوا ہی کب تھا

کائینات اپنی فقط تیرے ہی ہونے سے ہے
تجھ سے پہلے میں زمانے کا ہوا ہی کب تھا

کتنے بے بس ہیں ترے ہجر میں جینے والے

کتنے بے بس ہیں ترے ہجر میں جینے والے
آہ بھر لیتے ہیں دم سادھ کے سوجاتے ہیں

آج تو چاند بھی میں توڑ کے لے آیا ہوں

آج کی شب تو مرے ساتھ گزارو ہمدم
آج تو چاند بھی میں توڑ کے لے آیا ہوں
تیرے ہستے ہوئے چہرے پہ ہو سب کچھ قرباں
سو ترےواسطے سب کچھ ہی اٹھا لایا ہوں

مری نمود تری شاخ پر ہی ممکن ہے

مری نمود تری شاخ پر ہی ممکن ہے
مگر خزاں کی ہوا مجھ کو توڑنا چاہے
زمانہ بانٹ گیا مجھ کو لاکھ حصوں میں
یہ عشق تیرا مجھے پھر سے جوڑنا چاہے

جنگ دنیا سے جیت لی تم نے

جنگ دنیا سے جیت لی تم نے
اب تو چھوڑو جہان کی باتیں
آئو چھپ جائو میرے سینے میں!

زیست کا حاصل

 جو مری زیست کا حاصل ہے وہی ایک شخص
میری تعمیر میں خود نیست ہواجاتاہے

وہ ہے تعمیر کرتا جاتا ہے

مجھ کو تسخیر کرتا جاتا ہے
اپنی جاگیر کرتا جاتا ہے

میں تھا ٹوٹی لڑی مگر وہ شخص
مجھ کو زنجیر کرتا جاتا ہے

وہ مقدر سے ہارتا ہی نہیں
روز تدبیر کرتا جاتا ہے

لوگ مسمار کرتے رہتے ہیں
وہ ہے تعمیر کرتا جاتا ہے

میں اسے خواب دیتا رہتا ہوں
اور وہ تعبیر کرتا جاتا ہے