Sunday, November 1, 2026

پکار لیتے ہیں آواز دے بھی دیتے ہیں۔

 وہ ایک عمر رہا منتظر مرا اور میں

یہ آس لے کے تھا بیٹھا پکار لے گا وہ۔

کسی نے مجھ کو پکارا تو میں نے حامی بھری

کسی نے ہاتھ بڑھایا تو چل دیا وہ بھی۔

تمام ہونے کو ہے زندگی مگر پھر بھی

گیا نہ سینوں سے، یہ ان کہی کا بوجھ کبھی۔

پکار لیتے ہیں آواز دے بھی دیتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment