Saturday, January 28, 2012

بڑا ہے لطف جینے میں پہ سمجھوتا نہ ہو جائے

 
تمہارے ہجر کا ماتم کہیں ہلکا نہ ہو جائے
بڑا ہے لطف جینے میں پہ سمجھوتا نہ ہو جائے

نئی کونپل جب اگتی ہے ہوائوں سے بچاتے ہیں
ابھی آغازِ الفت ہے کہیں چرچا نہ ہو جائے

ابھی تک جی نہیں پائے ابھی تک سوچتے ہیں ہم
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے

سنو نوعمر بیٹے کو ذرا تم دور ہی رکھنا
جوانی سے وہ پہلے ہی کہیں بوڑھا نہ ہو جائے

دکھوں کو سینت کر رکھوں کہ یہ بھی چھوڑ نہ جائیں
اکیلے پن میں گھٹ گھٹ کر یہ دل مردہ نہ ہو جائے

میں شاعر تو نہیں تھا پر مجھے رونے سے نفرت تھی
لبوں پر اشک رکھ آیا مگر دھوکا نہ ہو جائے

تیری قربت کے چند سالوں میں

کتنے دھوکے ملے ہیں جینے میں
عمر گر یوں شمار کرتے ہیں
تیری قربت کے چند سالوں میں
ہم تو صدیاں گزار بیٹھے ہیں

آج کے معالج کو تم مسیحا کہتے ہو

آج کے معالج کو
تم مسیحا کہتے ہو؟
ناتواں سے لوگوں کو
موت سے ڈرا کر جو
اپنی جیبیں بھرتا ہے
اور بھرتا جاتا ہے
آج کے معالج کو
تم مسیحا کہتے ہو؟
جس ہوس کے مارے کو
ہر نحیف چہرے میں
پیسہ ہی نظر آئے
بے کسوں غریبوں سے
یوں رقم سمیٹے ہے
جیسےمال چوری کا
بن گنے بنا پرکھے
تھیلے میں بھرا جائے
-----
بے نوا مریضوں کو
غور سے کبھی دیکھو
زندگی کے لالچ میں
گھر میں جو میسر تھا
سب اٹھا کے لے آئے
کم سنوں کی فیسیں بھی
سال بھر کا غلہ بھی
اتنا کچھ لٹا کر بھی
اپنی صحت کے بارے
جب سوال کرتے ہیں
ڈاکٹر وہ ڈاکو سا
یوں جواب دیتا ہے
زندگی بچانی ہے تو -اور پیسوں کا انتظام کرو"
"
آج کے معالج کو
تم مسیحا کہتے ہو
لعنتی مسیحا ہے
لعنتی حکومت ہے
لعنتی رعایا ہے

نوٹ: آخری تین لائینز نطم کا حصہ نہیں- بس احتجاجا یہاں لکھ دی گئی ہیں کیوں کہ آمد اس طرح ہوئی تھی

Thursday, January 26, 2012

کوئی آتا ہے کوئی جاتا ہے

جب کبھی تیرا نام آتا ہے
دل کو کچھ دیر گدگداتا ہے

دل سرائےبنا ہے برسوں سے
کوئی آتا ہے کوئی جاتا ہے

کوششوں سے کوئی نہیں ملتا
جو بھی ملتا ہے رب ملاتا ہے

زندگی ہے زبان جھوٹے کی
اس قدر آس کیوں لگاتا ہے

لوگ سود و زیاں پہ چلتے ہیں
تو ہے  جذبوں کو آزماتا ہے

Tuesday, January 24, 2012

پہلے بدی کو دیکھ کے بد سے جھگر پڑے

ہم ناتواں سے لوگ تھت سورج پہ اڑ گئے
جب پتلیاں جلا لیں تو مٹی میں گڑ گئے
پہلے بدی کو دیکھ کے بد سے جھگڑ پڑے
پھر رفتہ رفتہ خود بھی بدی میں ہی پڑ گئے

ایسے لگتا ہے کہ لوگوں میں اداسی ہے بہت

سرد برفاب سی شاموں میں اداسی ہے بہت
ہجر کے سارے حوالوں میں اداسی ہے بہت

کہکشاں دھول اڑاتی ہے تری فرقت میں
چاند میں اور ستاروں میں اداسی ہے بہت

بین کرتی ہوئی پھرتی ہے زمیں گردش میں
جلتے خورشید کی کرنوں میں اداسی ہے بہت

درد لفظون میں اتارا تو پذیرائی ملی
ایسے لگتا ہے کہ لوگوں میں اداسی ہے بہت

ہم سے ناشکرے ہیں کچھ لوگ جو کہ دیتے ہیں
ورنہ ہر شخص کی آنکھوں میں اداسی ہے بہت

Sunday, January 22, 2012

موسم پہ اپنا مان جتانا فضول ہے

چاہت میں کوئی شرط لگانا فضول ہے
موسم پہ اپنا مان جتانا فضول ہے

تجھ کو ہے اختیار نہ میرے ہی بس میں ہے
یوں کوششوں سے پیار بڑھانا فضول ہے

جس پر تھا زعم دل کو وہی روٹھ کر گیا
یعنی وفا کا ڈھول بجانا فضول ہے

سوچوں کی بات چھوڑ ابھی دل نہ مل سکے
روحوں کا ذکر بیچ میں لانا فضول ہے

جذبے دکھا کے سنگ کو مائل نہ کر میاں
اندھے کو سات رنگ دکھانا فضول ہے

Saturday, January 21, 2012

تجھ کو ہے اختیار نہ میرے ہی بس کی بات

تجھ کو ہے اختیار نہ میرے ہی بس کی بات
یوں کوششوں سے پیار بڑھانا فضول ہے

Thursday, January 19, 2012

رستہ جینے کا کسی طور نکل آئے گا

دکھ اگر تجھ سے بڑے ہیں تو پریشان نہ ہو
 رستہ جینے کا کسی طور نکل آئے گا

دکھوں کی چارہ گری ہے، یہ شاعری کیا ہے

جب اشک ساتھ نہ دیں میرا، شعر کہنے لگوں
دکھوں کی چارہ گری ہے، یہ شاعری کیا ہے