Saturday, February 27, 2010

مری آنکھ سے تری آنکھ کا جو حجاب تھا وہی اب بھی ہے

مری آنکھ سے تری آنکھ کا جو حجاب تھا وہی اب بھی ہے
ترے پاس میرے سوال کا جو جواب تھا وہی اب بھی ہے

وہی غیر مرئی دیوار ہے ترے سامنے مری راہ میں
تو جھکا جھکا ، میں رکا رکا ، جو سراب تھا وہی اب بھی ہے

وہی مختصر سا ملن ترا کہ ٹرین جیسے گزر رہی
تری چشمِ تر میں مسافتوں کا عذاب تھا وہی اب بھی ہے

کبھی روبر ہو کے بیٹھنا تو نظر بچا کے ہی دیکھنا
وہی بچپنا ترے پیار کا کہ بیتاب تھا وہی اب بھی ہے

تری آنکھ کے کہیں بیچ میں کئی سال چھپ کے گزرگئے
تری ابرئووں پہ ٹھہر گیا ، کوئی خواب تھا وہی اب بھی ہے



Friday, February 26, 2010

میں بھٹک کے آ گیا بزم میں ، مجھے ضبط ہی نہ سکھا ئے جا

میں بھٹک کے آ گیا بزم میں ، مجھے ضبط ہی نہ سکھا ئے جا
نہ سول کر مرے چارہ گر، میں پیئے جائو ں تو پلائے جا

یہ نگر حصار ہے ذات کا، یہاں ہر قدم پہ ہے دائرہ
یا بنا دے سانس کا راستہ، یا دیوارِ جاں کو گرائے جا

کبھی ریت اور رواج پر، کبھی دیں دھرم کے نام پر
سبھی خواب سولی چڑھا دیے، جو بچے ہیں چند سجائے جا

مرے راستے کی دیوار ہے ، مرے خاندان کی لاج بس
مرے خون میں ہیں بغاوتیں مجھے حوصلہ نہ دلائے جا

بڑی دھوپ ہے ترے دیس میں، کوئی زلف ہے نہ آسیب ہے
مری جلتی بلتی زمین پر ، دو بوند حسن گرائے جا

میری بدنصیبی کدھر چلی، مرے پاس آ ، مرے ساتھ آ
مجھے آگ آگ تو کر دیا، مری راکھ بھی تو اڑائے جا

تری زندگی میں آسودگی، تجھے شاعروں سے غرض ہے کیا
یہ جہاں سے روٹھ کے بیٹھے ہیں، تو قبائے جاں کو بچائے جا

Bahar Pattern: - - = - = / - - = - = / - - = - = / - - = - =
Bahar Name: کامل مثمّن سالم

یہ دنیا میرے مزاج کی نہیں

یہ دنیا میرے مزاج کی نہیں

یہاں سانس لینے کے ضابطے

یہاں عشق کے بھی اصول ہیں

یہاں اپنی اپنی پڑی ہوئی

یہاں جیئے جانے کے مول ہیں

یہاں قال پڑا ہے جذبوں کا

یہاں راج ریت رواج کا ہے

میری فطرت ریت رواج کی نہیں

یہ دنیا میرے مزاج کی نہیں


Monday, February 22, 2010

میرے دل بتا تیرا راستہ مجھے اور کتنا بھگائے گا

میرے دل بتا تیرا راستہ مجھے اور کتنا بھگائے گا
تیری خوا ہشوں کے سراب میں میرا عکس ڈوبتا جائے گا

یہاں پھول سارے ہیں کاغذی یہاں رنگ و بو بھی ہے عارضی
یہ چمن فریب ہے آنکھ کا یہا ں کون جی کو لگائے گا

یہ چرا غ حسن ہے سازشی ،چھپی روشنی میں ہے آگ سی
یہ شرر ہے برق کی پھلجھڑی خس و خاک جاں کو جلائے گا

گھڑی دو گھڑی کی ہے زندگی، وہ بھی فکروغم سے لدی بھری
روزِ حشر تیری جناب میں ، کوئِی کیا حساب گنائے گا

ہے بگولہ خاک کا آدمی ، جو ہوا کے ساتھ سفر میں ہے
اسے کیا خبر کیسے موڑ پر، یہ سفر بھی ہاتھ چھڑائے گا

یہ محبتوں کا فریب بھی کوئی چال ہے ترے جسم کی
دے کے نام روحوں کے میل کا ، تجھے پستیوں میں گرائےگا


Bahar Pattern: - - = - = / - - = - = / - - = - = / - - = - =
Bahar Name: کامل مثمّن سالم

Thursday, February 18, 2010

ہاں مگر یقیں ہے یہ

کب سے سوچ رکھا ہے
نظم ایک لکھنی ہے
زندگی کی گردش میں
رات دن بدلتے ہیں
فکر الجھی رہتی ہے
وقت ہی نہیں ملتا
دو گھڑی توقف کا
یاد تک نہیں رہتا
سانس بھی تو لینی ہے
آج جب کہ بیٹھا ہوں
کب سے سوچ میں گم ہوں
کیا اتا روں کا غذ پر
حد ہے بھولنے کی بھی
بھول گیا یہا ں تک میں
نظم کا موضوع کیا تھا
ہاں مگر یقیں ہے یہ
کچھ ستم کی باتیں تھیں
تجھ سے کچھ شکایتیں تھیں

Monday, February 15, 2010

وہی آنکھ جلتی بلتی ، وہی ہونٹ راکھ سے ہیں

وہی آنکھ جلتی بلتی ، وہی ہونٹ راکھ سے ہیں
وہی لطف جا بجا ہے، وہی ہم کہ چھپ رہے ہیں

وہی آبِ جو ہے دیکھو، کہ لبوں کو چھو رہی ہے
وہی ضبطِ حال اپنا کہ تپش سے جل مرے ہیں

جو سفر کیا تھا برسوں وہ نجانے کیا سفر تھا
کہ چلے تھے ہم جہاں سے اسی موڑ پر کھڑے ہیں

کی محبتوں کی پوجا ، تھے مروتوں کے عادی
ہوئے ایسے ریزہ ریزہ ، کہ نشان ڈھونڈتے ہیں

تو برابری پہ لڑتا تو مقابلہ بھی کرتے
تری بے بسی کے آگے، یونہی قتل ہو گئے ہیں

Bahar Pattern : - - = - / = - = = // - - = - / = - = =
Bahar Name : رمل مثمّن مشکول

رات ہی رات رہی صبح کہاں سے لکھتا

رات ہی رات رہی صبح کہاں سے لکھتا
ملتا سورج جو کبھی میں بھی اجالے لکھتا

میرے منصف نے مرا قتل بھی مجھ پر تھوپا
تیری دنیا کے میں کیا اور قصیدے لکھتا

عمر بھر جھگڑا رہا میرا زمانے بھر سے
کھوکھلی رسموں کو کیسے میں صحیفے لکھتا

درد کے پھول چرا لاتا میں ہر گلشن سے
اور پھر ان کی محبت کے فسانے لکھتا

جان تک لے گئی یہ میری وفا کی عادت
دل بھی کب تک یوں وفائوں کے عقیدے لکھتا


Bahar Pattern : =* - = = / - - = = / - - = = / = =
Bahar Name: رمل مثمّن مخبون محذوف مقطوع

Friday, February 12, 2010

کتنے عجیب آپ ہو، مسئلوں کی اک کتاب ہو

کتنے عجیب آپ ہو، مسئلوں کی اک کتاب ہو
دشمنی کر سکو نہ تم، دوستی میں عذاب ہو

بے دلی سے دیا میں نے، بے دلی سے لیا تو نے
پیار کے نام پر کبھی رسوا نہ یوں گلاب ہو

عشق خمار کے بغیر ، عشق نہیں گمان ہے
عشق اگر نہیں حرام، کیسے بھلا شراب ہو

زندگی عادتا سہی جیسے تیسے گزار لو
سوچ سمجھ سے کیا ملے، سوچ سمجھ خراب ہو

ہم کو بھلا ہے کیا خبر، کیا ہے صراط مستقیم
ناک کی سیدھ میں چلے ، چین ملے عذاب ہو

بہت بسر کیا تجھے زندگی اور لے کے چل
اچھا برا سزا جزا ، کچھ نہ ایسا حساب ہو

پتھرو تم کو پوج پوج، اکتا گیا ہوں آج کل
کوئی سخن شناس ہو، شاعری کی کتاب ہو

عمرِ گزشتہ سوچ کر، ملیے نہ ہاتھ نور جی
وقت نے کھا خرچ لیا، ڈھونڈتے کیا شباب ہو

Bahar Pattern: = - - = / - = - = // = - - = / - = - =
Bahar Name: رجز مثمّن مطوی مخبون

Saturday, February 6, 2010

نہ منزلوں کا پتہ ہے نہ راستوں کی خبر ہے

نہ منزلوں کا پتہ ہے نہ راستوں کی خبر ہے
ہوا کے زانو پہ رکھا ترے بیمار نے سر ہے

یہی جواب ملا ہے مجھے حرم سے ہمیشہ
ترا یقین ہے ناقص ترا ایمان کفر ہے

تجھے سنبھال نہ پائے یہ تیرے چاہنے والے
سمجھ لے وقت ہے اب بھی، کہ پیار ریت کا گھر ہے

اٹھا کے پھینک دیا ہے فلک نے چاند بھی دیکھو
معیار کچھ نہیں ہوتا فقط یہ ذوقِ نظر ہے

یہ اشک تیرے مقدر میں لکھ دیے ہیں قضا نے
بہار ہو کہ خزاں تو بے برگ و بار شجر ہے

یہ عورتوں کی محبت سمجھ سکو گے نہ ریحا ں
زبان دشمنِ جاں اور آنکھ پیار سے تر ہے

Bahar Pattern: - = - = / - - = = / - = - = / - - = =
Bahar Name: مجتث مثمّن مخبون

بھاگنا سایوں کے پیچھے عادتیں دل والوں کی

بھاگنا سایوں کے پیچھے عادتیں دل والوں کی
دل کے صدقے جاں پہ گزریں آفتیں دل والوں کی

پہروں پہروں بیٹھے رہنا خواب کے بہلاوے میں
زندگی جوئے میں ہرنا فطرتیں دل والوں کی

رات کے کالے ماتھے پر چاند پنسل کی طرح
جانے کیا کیا لکھتا رہتا قسمتیں دل والوں کی

دن کا سورج جلتا رہتا اپنے دکھ کی آگ میں
غور سے دیکھو کبھی تم صورتیں دل والوں کی

ساقیا اب آ کبھی ویران ہے یہ میکدہ
اب نہ دیکھی جائیں ہم سے حالتیں دل والوں کی

توبہ توبہ کرتے آئیں جب بھی اس کوچے سے آئیں
اگلے ہی دن پھر سے جاگیں حسرتیں دل والوں کی

Bahar Pattern : = - = = / = - = = / = - = = / = - =
Bahar Name: رمل مثمّن محذوف

Thursday, February 4, 2010

ہم کو دیوا نہ بنا ڈالا چمن والوں نے

ہم کو دیوا نہ بنا ڈالا چمن والوں نے
رنگ اور مے سے بھرے پھول کےان پیالوں نے

ہم کو فرصت ہی کہاں دی کہ جھپکتے آنکھیں
گیلی گیلی سی ہنسی ہستے ہو ئے گالوں نے

ہر طرف راستہ روکا ہے مرا خوشبو نے
پائوں کو باندھ دیا زلف کےان جالوں نے

زندگی جانے کدھر لے کے چلے گی ہم کو
سوچنا چھوڑ دیا ہے ترے متوالوں نے

وقت کی نبض بھی بے جان سی کر دی ریحاں
اس کی پرکیف جوانی کے حسیں سالوں نے

 
Bahar Pattern : =* - = = / - - = = / - - = = / = =
Bahar Name: رمل مثمّن مخبون محذوف مقطوع

Wednesday, February 3, 2010

سوال کر سکے نہ ہم ، جواب ڈھونڈتے رہے

سوال کر سکے نہ ہم ، جواب ڈھونڈتے رہے
نظر میں خواب لےکے ہم ، عذاب ڈھونڈتے رہے

یہ درد تھم سکا کبھی، نہ وہ سمجھ سکا کبھی
علاجِ دل سے ہار کے، شراب ڈھونڈتے رہے

چلے تھے خود کو بانٹنے، جنون تھا بکھرنے کا
حرف حرف ادھیڑ کر کتاب ڈھونڈتے رہے

وہ پا کے ہم کو پیار میں، نیلام کرنے چل پڑا
تو ہم بھی پھر فریب کا نقاب ڈھونڈتے رہے

ہمیں یہاں تھا جو ملا ، دھواں سمجھ اڑا دیا
حقیقتوں سے بھاگ کر ، سراب ڈھونڈ تے رہے


Bahar Pattern: - = - = / - = - = / - = - = / - = - =
Bahar Name: ہزج مثمّن مزبوض

Monday, February 1, 2010

ایسے کھوئے ہو تم خدا کی قسم

ایسے کھوئے ہو تم خدا کی قسم
جیسے ملحد سے وہ خدا کھوئے

چین کھوئے ہے جیسے عاشق کا
حسن والوں سے جوں وفا کھوئے

ہر ادا کھوئے جیسے سادھو کی
اور طوائف سے جوں حیا کھوئے

نیند ٹوٹے ہے جیسے دستک سے
اور نشہ سارا خواب کا کھوئے

قطرہ کھوئے ہے جوں سمندر سے
اور قطرے میں ناخدا کھوئے

جیسے کھوئے ہو تم خدا کی قسم
یوں کسی سے نہ آپ سا کھوئے

Bahar Name: خفیف مسدّس مخبون محذوف مقطوع
Bahar Pattern:  =* - = = / - = - = / = =



وقت کے پائوں کب رکے ہیں

مجھ کو سو چنا اچھا لگتا ہے
چند لمحوں کی مختصر باتیں
جو تیری آنکھوں سے
میری آنکھوں میں کھب گئیں ہیں
جو میری سانسوں سے
تیری سانسوں میں
بے وجہ ہی گھس گئیں ہیں
وہ ساری باتیں
جنہیں لفظ نہ مل سکے
وہ سارے لفظ
جوسماعت کے زینوں پہ نہ چڑھ سکے
یوں لگے ہے دل کا شیشہ
تیری مسکان کی پتیوں سے
کچی مٹی سا بھرنے لگے ہے
یوں لگے ہے کچھ پل اور تجھ کو سوچ لوں تو
کائنا ت ساری
عجب نشے میں، عجب سرور میں
جھوم جھوم مرنے چلے ہے
وہ چند لمحے
وہ چند منظر
یادیں ان کی کھو رہی ہیں
مگر ذائقہ اب بھی ہے تازہ تازہ
خستہ خستہ سا دل ہوا ہے
مرچی مرچی سے لب ہوئے ہیں
حیا کی لالی چھلک رہی ہے
ادا کی بالی لٹک رہی ہے
نظر پیروں سے لپٹ رہی ہے
پائوں مگر کب رکے ہیں
وقت کے پائوں کب رکے ہیں

فرصت ہو تو بتانا

فرصت ہو تو بتانا
کچھ دیر بیٹھیں گے
بے نام ہی سہی
بے کلام ہی سہی
آنکھوں کو آنکھوں کی عادت ہے
ان کی عادت کو ہی
میری عیادت کو ہی
کسی روز چلے آنا
تھو ڑا وقت بانٹیں گے
اک بوجھ ہے درد کا
جو جینے نہیں دیتا
وہ بوجھ اٹھا جانا
کچھ آنسو ہیں قرض جیسے
وہ قرض چکا جانا
کسی روز چلے آنا
فرصت ہو تو بتانا

مجھ سے رونے کی بات نہ کر

میرے دوست
مجھ سے رونے کی بات نہ کر
ہم درد مزاج لوگ ہیں
درد ڈھونڈ لیتے ہیں
کوئی رت ہو کوئی موسم
کسی مرگ کا ہو عالم
اشک مانگ لیتے ہیں
زخم بانٹ دیتے ہیں
پھولوں کی آستینوں میں چھپے
کانٹے بو جھ لیتے ہیں
سرخ سنہری شاموں سے
اندھیروں کا پتہ پوچھ لیتے ہیں
شادی کے شادیانوں میں
گھر کے کونوں میں
چھپ چھپ کے روتی دلہنوں سے
ناکام محبتوں کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں
ہم کم ظرف سے آدمی،
بے کام کاج لوگ ہیں
درد بیچ دیتے ہیں!
میرے دوست
مجھ سے رونے کی بات نہ کر!

Sunday, January 31, 2010

سایہِ بے نشان کی صورت

سایہِ بے نشان کی صورت
تو بھی ہے آسمان کی صورت

پھول تو پھول خار تک بھی نہیں
میں ہو ں چٹیل میدان کی صورت

مجھ میں پھولوں کی فصل بونے کو
تو کبھی آ کسان کی صورت

آب ہی آب پھر بھی پیاسا ہوں
ذات میری ڈھلان کی صورت

خود کلامی میں ساتھ دیتا ہے
دل ہے خالی مکان کی صورت

کون جانے ہوائوں کے تیور
پیار پہلی اڑان کی صورت

ریت ہی ریت کر دیا غم نے
میں کًبھی تھا چٹان کی صورت
 

Bahar Pattern: =* - = = / - = - = / = =

Bahar Name: خفیف مسدّس مخبون محذوف مقطوع

Friday, January 29, 2010

جہاں میں عشق نہ کرتے تو اور کیا کرتے

جہاں میں عشق نہ کرتے تو اور کیا کرتے
اور عشق زخم نہ بنتے تو اور کیا کرتے

ہماری رات کی قسمت میں چاندنی کب تھی
چراغ بن کے نہ جلتے تو اور کیا کرتے

گنوا کے چاند زمانے کی سرد راتوں میں
نہ جگنئوں سے بہلتے تو اور کیا کرتے

شمع کے نور نے لِلہ بھلا دیے رستے
پتنگے جل کے نہ مرتے تو اور کیا کرتے

زہر کھلا کے مجھے آج یہ کہا اس نے
ہم ایسے ناگ نہ ڈستے تو اور کیا کرتے

نصیب جیتنا چاہا نہ جیت پائے ہم
ہوا کے ساتھ نہ چلتے تو اور کیا کرتے

حوالے کر دیا خود کو وفا کے شعلوں کے
جلا کے راکھ نہ کرتے تو اور کیا کرتے

Bahar Pattern: - = - = / - - = = / - = - = / = =
Bahar Name: مجتث مثمّن مخبون محذوف مقطوع

محبت طوق بن جائے تو کیا آخر کیا جائے

محبت طوق بن جائے تو کیا آخر کیا جائے
اتاریں تو یہ دل روئے ، پہن لیں تو یہ جاں جائے

اداسی تم پہ سجتی ہے ، اداسی میں جیئے جائو
جسے ہو شوق ڈھولک کا وہ چوٹوں سے نہ گھبرائے

وہ ناگن ہے، یہی سچ ہے، حسن بھی ہے زہر بھی ہے
مگر یہ عشق ضدی ہے، جو ہو جائے سو ہو جا ئے

رسم ہے یہ تو دنیا کی، طلب میں ہی فنا ہونا
جلے جائو اے پروانوں، شمع جب تک جلے جائے

تجھے کھو کر بھی ایسے تھے، تجھے پا کر بھی ایسے ہیں
جتن سارے ہی کر ڈالے، مقدر نہ بدل پائے

زہر پی پی کے جوگی نے، زہر خود کو ہی کر ڈالا
کہ اب جو ناگ کا ٹے تو وہیں پہ بھسم ہو جاَئے

Bahar Pattern: - = = = / - = = = / - = = = / - = = =
Bahar Name: ہزج مثمّن سالم





گلاب چہرہ، اداس آنکھیں

گلاب چہرہ، اداس آنکھیں
ہونٹ دریا ، پیاس آنکھیں

نہ جانے کس کا نصیب ہیں یہ
دیا سی جلتی ، سپاس آنکھیں

پلک جو جھپکیں تو روح میں اتریں
ہیں کیسی مردم شناس آنکھیں

حیا کے پردے انہی کے دم سے
حجاب آنکھیں، لباس آنکھیں

ہم عام لوگوں، کی عام نظریں
یہ خاص بہت ہی خاص آنکھیں

Bahar Pattern: - = - / = = / - = - / = = / - = - / = = / - = - / = =
Bahar Name: متقارب مثمّن مضاعف مقبوض اثلم

اب نہ غم کا یہ سلسلہ ٹوٹے

اب نہ غم کا یہ سلسلہ ٹوٹے
سانس ٹوٹے تو ہر گلہ ٹوٹے

ایسے ٹوٹیں زمین کے رشتے
جیسے پانی پہ بلبلہ ٹوٹے

جیت اور ہار اب بھلا کیسی
تجھ پہ آ کر مقابلہ ٹوٹے

پہلے نگلیں زہر بڑے دل سے
درد اٹھے تو حو صلہ ٹوٹے

پھر کسی سے ہو کیا گلہ ریحان
اپنے ہاتھوں سے جب کلہ ٹوٹے

Bahar Pattern: =* - = = / - = - = / = =
Bahar Name: خفیف مسدّس مخبون محذوف مقطوع


بیگانہ مان ہی لو گے بالآخر

بیگانہ مان ہی لو گے بالآخر
مجھے تم ہار ہی دو گے بالآخر

بھگائے گا مقدر تم کو اتنا
تھکن سے بیٹھ جائو گے بالآخر

لکھا جتنا بس اتنا ہی ملے گا
یہی اک بات کہہ دو گے بالآخر

تمہارا وصل بھی ہے اک تجارت
خسارا دیکھ بھاگو گے بالآخر

میں کہ بکتا رہا ہوں قسطوں قسطوں
مجھے یکبار بیچو گے بالآخر

بہت کم دام لائے ہو اے گاہک
مجھے کوڑی میں تولو گے بالآخر

مہاجن ہو محبت کےتم ایسے
کفن تک بیچ ڈالو گے بالآخر


Bahar Pattern : - = = = / - = = = / - = =
Bahar Name: ہزج مسدّس محذوف

Wednesday, January 27, 2010

زلفِ درازِ یار کا سایہ ہے آج بھی


زلفِ درازِ یار کا سایہ ہے آج بھی
پہلا ملن تو سوچ پہ چھایا ہے آج بھی

جھٹکا دیا یوں زلف کو کہ وقت تھم گیا
پل وہ ادا کا دل نے تھمایا ہے آج بھی

کھل کر جو زلفیں بکھریں تو آنگن میں رات ہوئی
دھوکے میں ماہتاب یہ آیا ہے آج بھی

ایسی دراز زلفیں کہ دیکھی نہیں کہیں
برسوں کے فاصلوں سے سلایا آج بھی

کافر یہ عمر تھی جو ترا روپ کھا گئی
میرے لیئے تو ویسے کا ویسا ہے آج بھی

یہ تازگی یہ سادگی اللہ یہ بانکپن
اس زلف نےجناب تھکایا ہے آج بھی

Bahar Pattern : = = - / = - = - / - = = - / = - =
Bahar Name: مضارع مثمّن اخرب مکفوف محذوف


اشک آنکھوں میں کھیلتا ہو گا

اشک آنکھوں میں کھیلتا ہو گا
چوٹ لگنے سے گر پڑا ہو گا


روتے روتے ہنسا ہوگا کوئی
ہنستے ہنستے ہی رو دیا ہو گا


آج جنت بھی دیکھ لی ہم نے
اس سے آگے اب اور کیا ہو گا


انتہا وصل کی ہجر ہی ہے
سوچ کر کچھ تو وہ گیا ہو گا


گول چکر سی قید ہے دنیا
کون جانے کہاں رہا ہو گا


Bahar Pattern : =* - = = / - = - = / = =

Bahar Name: خفیف مسدّس مخبون محذوف مقطوع












آرزو آپ کی ہم نے کی



آرزو آپ کی ہم نے کی
پاپ تھا جرم تھا بھول تھی


نیند کی گود میں ہے سکون
 یہ بھی تو ہے بہن موت کی


روح کی بے کلی سوز ہے
رات بھی چاند بھی آپ بھی

آپ کو جیت کر کیا ملا
ہم سے تقدیر نہ ہر سکی

ہاتھ کو تھام کر ہاتھ میں
ہاتھ پہ لکھ دیا آخری






Bahar Pattern: = - = / = - = / = - =
Bahar Name: Self Devised



عادتاً ہی گنہ نہیں کرتے


عادتاً ہی گنہ نہیں کرتے
ورنہ خوفِ خدا نہیں رکھتے

رہنما کر لیا جبلّت کو
سب رواجوں سے دشمنی کر کے

چکھ کے دیکھی شراب اچھی لگی
روٹھ کر سب سے اب کدھر جاتے

اتنے مایوس ہو گئے فلک سے
نیکی کا حوصلہ نہیں رکھتے

تم نئے ہو وفا کرو دل سے
ہم نے دیکھا ہے ایسا بھی کر کے

Bahar Pattern : =* - = = / - = - = / = =
Bahar Name: خفیف مسدّس مخبون محذوف مقطوع

پتھر سے چھو گئے تھے، کہ پتھر ہی ہو گئے


پتھر سے چھو گئے تھے، کہ پتھر ہی ہو گئے
اس بت کدے میں آئے، تو کافر ہی ہو گئے

وعدہ، وفا خلوص، تو رکھتے تھے آپ بھی
اب آپ کو یہ کیا ہوا منکر ہی ہو گئے

وہ حسن نازنیناں کہ مر مر سا آئینہ
اندر سے چکھ کہ دیکھا، تو کلر ہی ہو گئے

ساون خفا خفا ہے اداسی کی دھوپ سے
دن رات نیناں برسے کہ بنجر ہی ہو گئے

اب درد آئے جائے کہ ہم کو خبر نہیں
دنیا ہی چھوڑ دی اور باہر ہی ہو گئے

 
Bahar Pattern : = = - / = - = - / - = = - / = - =

Bahar Name: مضارع مثمّن اخرب مکفوف محذوف


اس کے ہاتھوں میں تصویر نئی دیکھی ہے


اس کے ہاتھوں میں تصویر نئی دیکھی ہے
زلف کے قیدی نے زنجیر نئی دیکھی ہے


پھر وہی عالم خواب ہے بہکا بہکا
دیکھنے والے نے تعبیر نئی دیکھی ہے

تھا کھلونوں کا شوقین تو وہ بچپن سے
یہ بہلنے کی تدبیر نئی دیکھی ہے


جان کہنا محبت میں روایت ہے
اس دوانے نے توقیر نئی دیکھی ہے


ہم تو واقف ہیں خوابوں کے سرابوں سے
میرَے بچوں نےیہ بھیڑ نئی دیکھی ہے

Bahar Pattern : =-= = / -= = - / - = = / = =
Bahar Name: Self Devised


جب سے ہم تیری محبت میں پڑے ہیں کافر



جب سے ہم تیری محبت میں پڑے ہیں کافر
زخم بیلوں کی طرح تن پہ بلے ہیں کافر


شمع کی لو سے جو آتی ہے لہو کی خوشبو
ہم سے پہلے بھی کئی جل کے مرے ہیں کافر


ہنستی آنکھوں کو تو رونے کا سلیقہ کب تھا
سارے آنسوتیرے ہی دکھ میں بہے ہیں کافر


ایسے روتے ہیں کہ دھرتی کا بھی دل پھٹتا ہے
عشق والے تو نصیبوں کے جلے ہیں کافر


ہم نے دیکھا ہے محبت میں وفا کا حاصل
ہاتھ خالی سر ندامت سے جھکے ہیں کافر


اب تو رونے پہ بھی ہسنے کا گماں ہے ریحاں
درد الفت کے یہ ایسے ہی نشے ہیں کافر


Bahar Pattern : = - = = / = - = = / = - = = / = =
Bahar Name: رمل مثمّن مقطوع

خواب تیرے ہیں سات میں کوئی


خواب تیرے ہیں سات میں کوئی
دل میں کوئی ہے ہات میں کوئی

باورا دل ہیں بےلگام ایسا
سوچ میں تو ہے بات میں کوئی

زندگی نے لکھا تھا نام ترا بحر
گھس گیا میری ذات میں کوئی

تشنگی اب بھلا مٹے کیسے
ہونٹ میرے فرات میں کوئی

ایسی نظروں کا کیا کیا جائے
سامنے کوئی گھات میں کوئی

Bahar Pattern: =* - = = / - = - = / = =
Bahar Name: خفیف مسدّس مخبون محذوف مقطوع

مرے ہم سفر ، مرے ہم نفس


مرے ہم سفر ، مرے ہم نفس
مری بات سن، مجھے مار دے
میں عجیب طرح کا شخص ہوں
تری زندگی کا میں قفس ہوں
مجھے زندگی سے نکال دے
مری بات بات میں آنسو
مرا سانس سانس زہر بھرا
میں بد شگون ہوں اس قدر
کہ جو بھی مرے گلے لگا
وہ تڑپ تڑپ کے مر گیا
سبھی کوتوال ترے شہر کے
مجھے مار مار کے ہار گئے
سبھی ٹوٹکے اس جہان کے،
مجھے صحت یاب نہ کر سکے
میں لاعلاج، میں سبز قدم
میں نے زہر تک نگل لیا
پر اتنا بدنصیب تھا
مجھے موت نے بھی جھٹک دیا
قبل اس کےکہ ترے ہاتھ میں
مرا ہاتھ لکیر کھینچ دے
قبل اس کے کہ ترے خون میں
مرا قرب زہر اتار دے
میں پاوں چھوتا ہوں آپ کے
مجھے ایک احسان ادھار دے
مرے دل میں خنجر اتار دے
مرے دل میں خنجر اتار دے
مرے ہم سفر ، مرے ہم نفس
مری بات سن، مجھے مار دے

کیسی مصیبت ہوچکی باخدا


کیسی مصیبت ہوچکی باخدا
آپ سے نفرت ہوچکی باخدا

رب سے بھی اب ڈر نہیں لگتا مجھے
سرکشی عادت ہوچکی با خدا

جھوٹ بہے تن میں لہو کی طرح
کھوٹی طبیعت ہوچکی باخدا

لوگو ڈرائو نہ مجھے حشر سے
کب کی قیامت ہوچکی باخدا
ا
یسے بٹی ذات مری ٹکڑوں میں
رسوا شناخت ہو چکی باخدا

Meter Pattern: = - - = / = - - = / = - =
Bahar Name: سریع مسدّس مطوی مکسوف



Monday, January 25, 2010

خشک پتھروں پہ گھاس نہیں اگتی


میں وہ کوہکن کہ جس کو
خشک پتھروں پہ
گھاس اگانے کا شوق تھا
مگر یہ پتھر میرے تیشے سے ایسے الجھے
مرے ارادوں سے ایسے جھگڑے
کہ ّمیری جاًن تک لے گئے
بے گوروکفن لاش میری
گم کردہ راہوں میں کھو گئی ہے
اور میرا شوق مجھے چڑا کر
تیرے قالب میں گھس گیا ہے
او میرے جیسے! جذبات کے مارے
یہ شوق پھر سے نہ سر اٹھا لے
یہ شوْق تجھ کو نہ مار ڈالے
خشک پتھروں پہ گھاس نہیں اگتی


کچھ نہ بولاہزار پوچھا


کچھ نہ بولاہزار پوچھا
وہ رویاجتنی بار پوچھا

ہم کو مانگا خدا سے اس نے
ہم سےنہ ایک بارپوچھا

ہم کس کے ہیں یہ کون جانے
تو نے ہم سے نہ یا ر پوچھا

اس نے سوچا ذہن سے لوگو
جب دل پہ اختیار پوچھا

کہ قادر عقل کو بناکر
دل سے دھڑکن کا بار پوچھا

Bahar Pattern : = = = /= - = / - = =
بحر: ہزج مسدّس اخرم اشتر محذوف

سب کچھ گنوا کر رستے میں جاناں


سب کچھ گنوا کر رستے میں جاناں
پہنچے ہیں تیرے کوچے میں جاناں

میری خطا نہ تیری خطا ہے
قسمت نے رکھا دھوکے میں جاناں

ہیں ہاتھ خالی، سر بھی جھکا ہے
رکھ لو، جھٹک دو، ایسے میں جاناں

میری انا نے، تیری انا نے
چاہت کو رکھا، پردے میں جاناں

دل کوٹٹولو ، پہلو تو بدلو
اک بار جھانکو سینے میں جاناں

ہم کو یقیں ہے، اب بھی تری شب
رکھتی ہے ہم کو تکیے میں جاناں

حرف غلط تھا، جو بھی تھا پہلے
اب نام تیرا ہر شےمیں جاناں

Bahar Pattern: = = / - = = // = = / - = =
بحر: متقارب مثمن اثرم

میری طرح کا کوئی تھا، میرا جنم نہ ہو سکا

میری طرح کا کوئی تھا، میرا جنم نہ ہو سکا
اس زندگی کا اے خدا، مجھ کو فہم نہ ہو سکا

دن رات ان آنکھوں میں دریا ہی امڈتےدیکھے ہیں
اتنا زیادہ رو کے بھی،یہ رونا کم نہ ہو سکا

جو مل گیا سو مل گیا، جو کھو دیا سو کھو دیا
ملنے پہ خوش نہ ہو سکے، کھونے کا غم نہ ہو سکا

جیون کے سارے فیصلے، دل کے کہے پہ کر دیے
خود پہ ستم تو ہو گیا، دل پہ ستم نہ ہو سکا

بس ایک ہے احساں ترا، اپنے مریض عشق پر
کہ ہجر ہو یا وصل ہو، یہ درد کم نہ ہو سکا

اس وصل نے وہ دکھ دیے، کہ ہجر سن کے رو دیا
تیرے ستم تو سہ گیا، تاب کرم نہ ہو سکا

Bahar Pattern: = = - = / = = - = / = = - = / = = - =
بحر: رجز مثمّن سالم


دل پر غبار غم ہے جیسے دھواں سا چھا ئے


دل پر غبار غم ہے جیسے دھواں سا چھا ئے
اللہ کا کوئی بندہ، جائے شراب لائے

تیرے سبو میں ساقی، اب وہ نشہ نہ باقی
ساری الٹ گئے ہم ، پر سیر ہو نہ پائے

ہردلفگار الفت، تیرے جہاں میں یا رب
بس بے دلی سے ٹھہرے، اور بےدلی سی جائے

نفرت کہاں کہ تیری، تو دوستی بھی آفت
جو بچ گئے ستم سے ، تیرے کرم نے ڈھائے

اک حسن ناز اور پھر ساقی گری کا عالم
وہ روز پوچھتا ہے، یہ دل بہک نہ جائے

Bahar Pattern: = = - / = - = = // = = - / = - = =
بحر: مضارع مثمّن اخرب

پیغام ترا آیا، صدیوں کی مسافت میں


پیغام ترا آیا، صدیوں کی مسافت میں
حیران بہت ہوں میں، اس وقت عنایت میں

ست رنگا تماشا ہے، اے یار محبت بھی
دل اور کے پہلو میں، آنکھ آپ کی سنگت میں

آنکھوں نے تری آنکھیں سو سال میں سمجھیں ہیں
اب تیرا یوں ملنا ہم، سمجھیں گے قیامت میں

سنتے ہیں جہاں والے، افلاک سے ڈرتے ہیں
ہم نے تو گزاری ہے اک بت کی عبادت میں

اب نور زمانے سے شکوہ نہیں کرتے ہم
جو سمجھے نہ منطق کو، کیا پائیں شکایت میں

Bahar Pattern: = = - / - = = = // = = - / - = = =
بحر: ہزج مثمّن اخرب



جان جیسا تھا جو ابھی بچھڑا

جان جیسا تھا جو ابھی بچھڑا
زندگی سے ہے پھر کوئی بچھڑا

ہم نے مانگا تھا سا تھ سا ئے کا
وہ بھی سورج کے ساتھ ہی بچھڑا

چاندنی جیسے چاند سے بچھڑے
ایسے مجھ سے وہ آدمی بچھڑا

خوشبو بکھری تھی پھول سے کل تو
آج ٹہنی سے پھول بھی بچھڑا

پہلے اس کا خیال زندہ تھا
رفتہ رفتہ خیال بھی بچھڑا


Bahar Pattern: =* - = = / - = - = / = =
بحر: خفیف مسدّس مخبون محذوف مقطوع


ترے کوچے میں آتے ہیں، تجھے دیکھا نہیں کرتے


ترے کوچے میں آتے ہیں، تجھے دیکھا نہیں کرتے
"(جسے شفاف رکھنا ہو، اسے میلا نہیں کرتے)"

محبت تم سے کرتے ہیں، تقاضا کچھ نہیں کرتے
کہ چاہت میں عنایت کو، کبھی تولا نہیں کرتے

تجھے سوچا تو ہے ہم نے، تجھے مانگا نہیں رب سے
کہ جس کو قید کرنا ہو، اسے چاہا نہیں کرتے

تو ٹھکرائے تو ہم خوش ہیں، تو مانگے تو ہیں ہم حاضر
جو پلکوں پہ بٹھایا ہو ، اسے باندھا نہیں کرتے

وہ زلفیں اب بھی الجھی ہیں، کبھی ہم پر جو پاگل تھیں
انا جن میں سما جائے، وہ کچھ پایا نہیں کرتے


Bahar Pattern: - = = = / - = = = / - = = = / - = = =
بحر: ہزج مثمّن سالم




ہے زاد سفر پاس نہ منزل کا پتہ ہے


ہے زاد سفر پاس نہ منزل کا پتہ ہے
جو پیڑ گھنا دیکھا وہیں سانس لیا ہے

جب اس نے پکارا تھا تو ہم لوٹ نہ پائے
اب لوٹ کے آئے ہیں تو وہ جا بھی چکا ہے

یوں دل سے اتر جائو گےسوچا بھی نہیں تھا
یہ فیصلہ دل کا نہیں قسمت کی قضا ہے

بولی یوں لگائیں کہ خریدار ہیں ہم ہی
جیبوں میں ذرا دیکھو تو آنا نہ ٹکا ہے

مانگا مجھے رب سے تھا تو مجھ کو تو بتاتے
اب رب سے کرو شکوہ کہ میری کیا خطا ہے

کھولے ہوئے بانہیں ہیں کھڑے راہگزر پر
جوساتھ چلے اپنے یہ دل اسکا ہی ہوا ہے

صدیوں کی تھکن لائے ہیں ساقی ترے در پر
دہلیز پہ سو جانے دے مت پوچھ کہ کیا ہے


Bahar Pattern : = = - / - = = - / - = = - / - = =
بحر: ہزج مثمّن اخرب مکفوف محذوف



دل سرابوں کے خار زاروں میں


دل سرابوں کے خار زاروں میں
عقل سودوزیاں کے ماروں میں

درد کی فصل بوئے جاتے ہو
درد بکتا نہیں بازاروں میں

خواہشیں جان لے کے مرتی ہیں
خواب جلتے ہیں پھر مزاروں میں

ہم نے جگنو سے روشنی مانگی
چاند روتا رہا ستاروں میں

زندگی کوئی آس دے دل کو
قید ھے سینے کی دیوا روں میں

شاعری ہی تو اک سہارا ہے
آس کے بےریا سہاروں میں


Bahar Pattern: =* - = = / - = - = / = =
بحر: خفیف مسدّس مخبون محذوف مقطوع

ضبط کرنا ہی پڑے گا اب تو


ضبط کرنا ہی پڑے گا اب تو
وقت ایسے ہی کٹے گا اب تو

آگ گلشن کو لگائی خود ہی
آشیاں جل کے رہے گا اب تو

دل ہے کہ اینٹ جڑی سینے میں
دل کا نہ بو جھ اٹھے گا اب تو

سانس صر صر کی ہوا ہو جیسے
نخل جاں کٹ کے گرے گا اب تو

درد کا شکوہ کرو گے کن سے
درد سہنا ہی پڑے گا اب تو

درد کا لاوا بھرا ہےتن میں
ہے قضا پاس پھٹے گا اب تو

Bahar Pattern: =* - = = / - - = = / = =
بحر: رمل مسدّس مخبون محذوف مقطوع

کل کی شام کا نشہ، اب رہے گا عمر بھر

کل کی شام کا نشہ، اب رہے گا عمر بھر
پھول جو بھی کھل گیا، مہک دے گا عمر بھر

ہم نہیں ہیں جادوگر، ہم کو ہے، یقیں مگر
ایک بار جو ملا، وہ ملے گا عمر بھر

انگلیوں کی پور سے انگلیوں کو یوں چھوا
حدت جنون سے، تن جلے گا عمر بھر

شیخ جی تمہیں پتہ سچ ہے کیا جھوٹ کیا
دل ہمارا رہنما ، جو بھی کرے گا عمر بھر

مفت لا، شراب لا، لاپلا، پلائے جا
ساقیا یہ رند ترا کب جئے گا عمر بھر؟



Bahar Pattern : = - = / - = - = // = - = / - = - =
بحر: ہزج مثمّن اشتر مقبوض

یہ معجزہ بھی اگر ہو ، کہ وہ یہاں آئے

یہ معجزہ بھی اگر ہو ، کہ وہ یہاں آئے
جو شخص کھو چکا خود کو، وہ کیا اسے پائے

گزر گئے ہو تم ایسے، کہ وقت گزرا ہو
مگر یہ یاد تمہاری،کہ بار بار آئے

یہ پھول جیسا بدن ہے، پرے پرے رکھنا
ہماری آگ سے دیکھو، کہیں نہ جل جائے

سجا کے تہمتیں سر پر، اٹھیں گےچل دیں گے
تری قبا پہ جو آئے ، وہ داغ نہ جائے

ہوئے مایوس اجالوں سے اسقدر ریحاں
نگاہیں پھوڑ، اندھیروں میں بھولنے آئے

ًBahar Pattern :  - = - = / - - = = / - = - = / = =

بحر: مجتث مثمّن مخبون محذوف مقطوع

جو بھی بخشا ہے مرے یار سب آ کر لے لو

جو بھی بخشا ہے مرے یار سب آ کر لے لو
خواب سارے سبھی وعدے سبھی منظر لے لو

وصل کی ہو گی ضرورت تو بتا دیں گے ہم
کچے رنگوں کا فریبی سا , یہ پیکر لے لو

ہم ہیں پیاسے تو ہمیں پیاسا ہی رہنے دو پھر
کھارے پانی کا مقدر, یہ سمندر لے لو

ہم کو اپنا ہی نشہ ہوش میں آنے نہ دے
ہم پہ احسان کرو ، مے کا یہ ساغر لے لو

ہم نے بھی آگ لگائی تھی بڑی الفت میں
راکھ ہی راکھ ہے شعلوں کا مقدر لے لو

تم بھی کچھ ڈھونڈنے نکلے ہوو فا میں شاید
خاک ڈالو تھوڑی سر پر ، دل مضطر لے لو


Bahar Patter: =* - = = / - - = = / - - = = / = =
بحر : رمل مثمّن مخبون محذوف مقطوع

عشق کے امتحان میں، ہم تو ناکام ہو گئے


عشق کے امتحان میں، ہم تو ناکام ہو گئے
آنکھیں تھکن سے جھک گئیں، خواب نیلام ہو گئے

کس سے کہیں کہ زندگی، سوچی تھی کیا، ملی ہے کیا
پیار کی وہ سزا ملی، عبرت عام ہو گئے

ہم تھے خدا ترس بڑے، دنیا بدلنے نکلے تھے
رب کی مگر رضا یہ تھی، زہر کا جام ہو گئے

پتھرو ں سے ہے کیا گلہ، ان کی ًبھلا اوقات کیا
حیف پجاریوں پہ ہے، دھوکے کے نام ہو گئے

کچھ بھی بچا نہ زاد راہ، عشق میں سب گنوا دیا
جھاڑ کے پلو یوں اٹھے، مرگ دوام ہو گئے



 
Bahar Pattern:  = - - = / - = - = // = - - = / - = - =
بحر: رجز مثمّن مطوی مخبون

شام ڈھلے جھوٹ سے، صبح چڑھے جھوٹ سے

شام ڈھلے جھوٹ سے، صبح چڑھے جھوٹ سے
جھوٹ بنا موت ہے، سانس چلے جھو ٹ سے

چاند مکر جائیگا، چاندنی سے پوچھ لے
اس لئیے تو چاندنی, رو رو جلے جھوٹ سے

تو جو مرے پاس ہے، جنتو ں کا ساتھ ہے
تیرا ملن ًبھی مگر، مجھ کو ملے جھوٹ سے

سچ کی کہی، جب کبھی، دوستی ٹوٹی تبھی
سچ ہے فسادی بہت ، پیا ر بڑھے جھوٹ سے

دل کو ایماں نہ سکھا، دل بے ایماں ہے بڑا
دل بھی بہل جائیگا، گر تو چلے جھوٹ سے


Bahar pattern: = - - = / = - = // = - - = / = - =
بحر :منسرح مثمّن مطوی مکسوف

امید سفر میں ہے


امید سفر میں ہے

اول اول
گھاؤ جگر کے
بہت بیزار کرتے ہیں
کہ پر کٹے
پنچھی جیسے
قفس پہ وار کرتے ہیں
وقت آخر مرہم ہے
گھاؤ بھرنے لگتا ہے
گھاؤ بھرنے لگتے ہیں
آدمی کی عادت ہے
پھر پیار کرنے لگتا ہے
خواب جننے لگتے ھیں
دل بھی راگی طوطا ہے
قفس کے ماحول میں
کیسی ہی حبس کیوں ہو
راگ چھیڑ دیتا ہے
جیسے عمر قید کا
بدنصیب قیدی
جیل کی سلاخوں میں
جینا سیکھ لیتا ہے
زندگی امید ہے
اور امید سفر میں ہے



Friday, January 22, 2010

کیسی ہے نظر جو خواب بیچے

غزل
کیسی ہے نظر جو خواب بیچے
سونےسا بدن شباب بیچے


میں پاپ کروں ایمان بیچوں
تو نیک ہےتو ثواب بیچے

ساقی یہ ترا نشہ بھی جھوٹا
پیسوں کی تو بھی شراب بیچے

حرصی ہے چمن کا باغباں بھی
کھلنے لگے جب گلاب بیچے

رب جانے حیا بڑی کہ بھوک
جب پردہ نشیں نقاب بیچے
 
Bahar Patter: = = - / - = - = / - = =
بحر ہزج مسدّس اخرب مقبوض محذوف

ماں



نظم - ماں

پیار ہی پیار ہے جو خدا کی طرح
جو مرے چار سو ہے ہوا کی طرح
رات کی گود دن کا دلاسہ ہے جو
سر پہ سایا ہے جس کا گھٹا کی طرح

میری کا ئنات ہے، ہے جو میرا جہاں
ایسی ہے میری ماں، ایسی ہے میری ماں



پھول ہی پھول ہیں اس کے دامن میں جی
ایک کانٹا نہیں اس کے گلشن میں جی
! رب جی تیرا بہت ہی بہت شکریہ
تو نے جنت اتاری ہے آنگن میں جی



جب ہو جنت ہی گھر میں تو جانا کہاں
ایسی ہے میری ماں، ایسی ہے میری ماں



ہم نے دیکھی ہیں در در کی رسوائیاں
بھیڑ میں بھی ملیں دل کو تنہائیاں
لوٹ کر آ گئے تیرے قدموں میں پھر
معاف کرنا ہماری تو ، گمراہیاں



آسماں پہ خدا تو زمیں پہ ہے ماں
ایسی ہے میری ماں، ایسی ہے میری ماں




بحر :- متدارک مثمّن سالم
Bahar Patter: = - = / = - = / = - = / = - =

روٹھ کر بہاروں سے، جا ملے خرابوں سے


غزل
روٹھ کر بہاروں سے، جا ملے خرابوں سے
زندگی الجھنے دے، رات دن سرابوں سے


کم ظرف ناسمجھ جہاں والے، کیا بھلا یہ سمجھیں گے
عشق بھی جو کرتے ہیں، سیکھ کر کتابوں سے

یہ کمال بخشا ہے، تیرے قرب نے مجھ کو
آرزو کرم کی، نہ خوف کچھ عتابوں سے

زندگی سے باغی ہوں، مجھ سے دور ہی رہنا
تم شریف لوگوں کا ، کام کیا خرابوں سے

ساقیا پلائے جا، پیاس ہے مٹا ئے جا
یہ حساب پھر ہو گا، کیا ملا شرابوں سے
 
Bahar Pattern : = - = / - = = = // = - = / - = = =
Bahar Name : hazaj mu;samman ashtar (ہزج مثمّن اشتر)